آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
توہین عدالت مقدمہ: سپریم کورٹ نے عامر لیاقت پر فردِ جرم عائد کر دی
پاکستان کی سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور اینکر پرسن عامر لیاقت حسین پر توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جرم عائد کردی ہے تاہم ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو عامر لیاقت حسین کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت شروع کی تو ملزم کے وکیل نے عدالت سے ایک مرتبہ پھر غیر مشروط معافی مانگی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔
عدالت نے ایڈشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی کو اس مقدمے میں پراسیکوٹر مقرر کرتے ہوئے انھیں شہادتیں پیش کرنے کے لیے 29 نومبر تک کی مہلت دی ہے۔
عدالت نے ملزم عامر لیاقت حسین پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کا رویہ بھی درست نہیں تھا۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے دور میں جتنے بھی ارکان پارلیمان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوئی ان میں سے زیادہ تر افراد کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا گیا۔ ان میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے سابق ارکان پارلیمان طلال چوہدری، دانیال عزیز اور نہال ہاشمی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے رہنما خادم حسین رضوی نے پاکستان کے چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کے خلاف متعدد بار نازیبا الفاظ کہے ہیں لیکن انھیں ابھی تک توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے عامر لیاقت حسین پر فرد جرم نجی ٹی وی چینل بول پر نو مارچ سنہ2017 میں ’ایسے نہیں چلے گا‘ کے نام سے چلنے والے پروگرام پر عائد کی ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ ملزم نے نجی ٹی وی چینل پر پروگرام نشر کر کے سپریم کورٹ کے اس حکم کی خلاف ورزی کی ہے جو عدالت عظمی نے چھ مارچ سنہ 2017 کو جاری کیا تھا جس میں عدالت نے واضح طور پر احکامات دیے تھے کہ وہ اپنے کسی پروگرام میں ایسے الفاظ استعمال نہیں کریں گے جس سے نفرت انگیزی کا پہلو نکلتا ہو۔
ملزم عامر لیاقت نے اس پروگرام میں سپریم کورٹ کے احکامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نجی ٹی وی چینل جیو کے مالک میر شکیل الرحمن اور دیگر افراد کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی تھی جس کے بارے میں ایک اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ نے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی۔
عامر لیاقت حسین کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں گذشتہ جتنی بھی سماعتیں ہوئیں اس میں ملزم عامر لیاقت حسین نے عدالت سے معافی مانگی لیکن عدالت نے اس معافی کو تسلیم نہیں کیا۔
خیال رہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو جب دل کی تکلیف ہوئی تو اس خبر کو سب سے زیادہ کوریج نجی ٹی وی چینل بول نے دی تھی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس خبر کو کوریج دینے کا مقصد شاید یہ تھا کہ عامر لیاقت حسین پر توہین عدالت میں فرد جرم نہ ہو اور ان کی معافی کو قبول کیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی عامر لیاقت حسین پر ٹی وی پروگرم میں نفرت انگیز تقاریر کرنے پر نہ صرف ان کے پروگرام پر پابندی عائد کی بلکہ عامر لیاقت حسین پر کسی بھی پروگرام میں بطور مبصر مدعو کرنے پر بھی پابندی عائد کی تھی۔
ملزم عامر لیاقت حسین سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ٹکلٹ پر کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اس سے پہلے وہ متحدہ قومی موومنٹ کی ٹکٹ پر بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔