جسٹس فائز عیسیٰ: ملک کو ایک منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے، مخالف غدار اور حکومتی حمایت کرنے والا محب وطن بتایا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ملک میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ملک کو ایک منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے اور ہر مخالف غدار اور حکومتی حمایت کرنے والا محب وطن بتایا جا رہا ہے۔
جمعرات کو ان درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ اُنھیں یہ بات کرنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ ملک میں میڈیا آزاد نہیں ہے اور اسے کس طرح کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ ملک میں کیسے اصل صحافیوں کو باہر پھینکا جا رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جب میڈیا تباہ ہوتا ہے تو ملک بھی تباہ ہو جاتا ہے۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بینچ میں موجود جسٹس مقبول باقر کا کہنا تھا کہ ججوں کو ایسی گفتگو سے احتراز کرنا چاہیے لیکن کیا کریں ملک میں آئیڈیل صورتحال نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جج بھی انسان ہیں اور ملک میں ایسی صورت حال کو دیکھ کر کب تک خاموش رہیں۔
یہ بھی پڑھیئے
ان درخواستوں کی سماعت کے دوران جب میڈیا کی آزادی کی بات ہوئی تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس سوال پر کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے ریفرنڈم کروا لیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس قاضی فائز عیسی نے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے کہا کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ’ملک میں میڈیا آزاد ہے تو وہ ہاتھ کھڑا کریں‘، اس سوال پر کمرۂ عدالت میں موجود کسی صحافی نے بھی ہاتھ کھڑا نہیں کیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے دوسرا سوال کیا کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں میڈیا آزاد نہیں ہے تو وہ ہاتھ کھڑا کریں تو کمرۂ عدالت میں موجود تمام صحافیوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمرۂ عدالت میں موجود اٹارنی جنرل خالد جاوید سے استفسار کیا کہ اس بارے میں ان کی کیا رائے ہے۔ ہاں، ناں یا معلوم نہیں میں سے ایک آپشن کا استعمال کریں جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ کوئی چوتھا آپشن نہیں ہے جس پر کمرۂ عدالت میں ایک قہقہہ بلند ہوا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ یہ پہلا ریفرنڈم ہے جس کا نتیجہ سو فیصد آیا ہے۔
بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ لوگ میڈیا کا گلا کیوں گھونٹ رہے ہیں جس کا اٹارنی جنرل نے کوئی جواب نہیں دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو اپنی تعریف سننے کا اتنا شوق کیوں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی ہوتی ہے، لیکن یہاں پر تو لوگوں کے بولنے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جمہوریت ختم ہونے سے ملک کا آدھا حصہ الگ ہو گیا۔
موجودہ حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی نظروں میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس وقت سے متنازع ہیں جب سے انھوں نے فیض آباد پر ایک مذہبی جماعت کے دھرنے کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے وزارت دفاع کو ان فوجی افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی معاملات میں مداخلت کی تھی۔
واضح رہے کہ صدر مملکت نے وفاقی حکومت کی ہدایت پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف بیرون ممالک میں اثاثے سالانہ گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے پر ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیجا تھا جسے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔
آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے کے بارے میں جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے یہ اقدام کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اُنھوں نے پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تو اپنی مرضی کی حکومت آ نے تک مخالفین کو ختم کیا جا رہے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان جموریت کے لیے بنا تھا ڈکٹیٹر شپ کے لیے نہیں۔
انھوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے بلدیاتی اداروں میں انتخابات نہ کروانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈالنے سے متعلق اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جوابات میں مختلف صوبوں نے مختلف وجوہات بتائی ہیں جن میں حد بندیوں، مردم شماری، کورونا اور عدالتی احکامات کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اصل معاملہ ہے کیا جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے وسائل کی عدم دستیابی کی بھی بات کی ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فنڈز کی کمی کہاں ہے، آجکل تو وزیر اعظم ہر رکن اسمبلی کو پچاس پچاس کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز دینے کی بات کر ر ہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہہ چکا ہے کہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی اداروں کو توڑ کر غیر آئینی اقدام کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال روسٹم پر آئے اور انھوں نے کہا کہ بلدیاتی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ دو سال سے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو اس لیے ختم کردیا گیا کیونکہ وہاں پر حکمراں جماعت کی مخالف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں تھیں۔ ان درخواستوں کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔










