آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پی ڈی ایم کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ: الیکشن کمیشن بدترین دباؤ اور مفاد پرستی کا شکار ہو چکا ہے، مولانا فضل الرحمان
جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 'بے بس' الیکشن کمیشن منصفانہ انتخابات نہ کروا سکا اور طاقتور اداروں نے انتخابات پر قبضہ کیا، نتائج مرتب کیے، اور قوم پر ایسے شخص کو مسلط کر دیا جس کے پاس نے حکومت چلانے کی، نہ معیشت چلانے کی اور نہ سیاست کرنے کی اہلیت ہے۔
انھوں نے کہا کہ نہ یہ حکومت منتخب ہے اور نہ اسے ملک پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔
انھوں نے یہ باتیں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی احتجاجی تحریک کے تحت الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے زیرِ اُلتوا کیس کا فیصلہ جلد سنایا جائے جو سنہ 2014 سے الیکشن کمیشن میں موجود ہے۔
منگل کو منعقد ہونے والے اس جلسے سے مولانا فضل الرحمان کے علاوہ مریم نواز، احسن اقبال، نیر بخاری، راجہ پرویز اشرف، آفتاب شیرپاؤ اختر مینگل اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
اس موقع پر رہنماؤں نے الیکشن کمیشن اور موجودہ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا دفتر شارعِ دستور پر واقع ہے جہاں وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ، ایوانِ صدر، پارلیمنٹ ہاؤس، اور سپریم کورٹ سمیت کئی اہم عمارتیں واقع ہیں۔
پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 'نااہل شخص' کو سامنے اس لیے بٹھایا گیا تاکہ طاقتور ادارے پسِ پشت رہ کر حکومت کر سکیں۔
انھوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی رپورٹ آ چکی ہے کہ 23 بینک اکاؤنٹس خفیہ رکھے گئے ہیں اور اب تک خفیہ ہیں، اور انھوں نے باہر کی آمدنی چھپائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
فضل الرحمان نے کہا کہ نواز شریف کو صرف بیٹے سے نہ لی گئی تنخواہ کے بارے میں نہ لکھنے پر وزارتِ عظمیٰ سے برطرف کر دیا گیا مگر پاکستان کے 'دشمن' ممالک کے پیسے سے ایک مشکوک شخص کو پاکستان کا حکمران بنایا گیا، وہ ملک جو ایٹمی طاقت ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'جس نے بھی' انھیں اقتدار میں لا کر بٹھایا ہے، وہ سب مشکوک ہوجاتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 'ادارے' آسمان سے نہیں اترے بلکہ ہمارے معاشرے کے حصے ہیں۔ 'اداروں نے تو وہ جرم کیے ہیں جن کی وجہ سے پاکستان دو ٹکڑے ہوا۔'
انھوں نے کہا کہ کہتے ہیں ادارے کا نام نہ لو۔ 'دائیں طرف دیکھو تو رحمتہ اللہ، بائیں طرف دیکھو تو رحمتہ اللہ، تو پھر نِکے کا ابا ہی کہنا پڑے گا۔'
’پہلے یہ حکومت ناجائز تھی، پھر نااہل اور نالائق ثابت ہوئی، اور اب پوری پارٹی چور ثابت ہو گیا ہے۔‘
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اب بھی الیکشن کمیشن انھیں اگر تحفظ فراہم کرتا ہے تو 'ہم ایک بے بس الیکشن کمیشن پر آئندہ اعتماد نہیں کر سکیں گے۔'
’کمیشن کو ذمہ داریاں یاد دلانے آئے ہیں‘
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ شارعِ دستور کے دونوں جانب انصاف دینے والے ادارے ہیں مگر 'ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس میں نہ آئین ہے نہ انصاف'۔
انھوں نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کے باہر اس لیے جمع ہوئے ہیں تاکہ الیکشن کمیشن کو اس کی آئینی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔
مریم نواز نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے اس ادارے کو پاکستانی عوام کی رائے کا امین بنایا ہے اور اسے عوام کے ووٹ کی عزت کروانی تھی۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا 'سب سے بڑا فراڈ' تحریکِ انصاف فارن فنڈنگ کیس ہے۔'
انھوں نے کہا کہ نومبر 2014 میں یہ کیس دائر ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف کا کیس دنوں میں چلتا ہے اور دنوں میں دو دو سماعتیں ہوتی تھیں مگر اس مقدمے کی اب تک صرف 70 سماعتیں ہوئی ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان نے اس مقدمے کو ملتوی کروانے کی 30 بار کوشش کی ہے۔
'اگر چوری نہیں کی تو 30 بار مقدمے کو رُکوانے کی کوشش کیوں کی؟'
انھوں نے کہا کہ عمران خان نے چھ مرتبہ ہائیکورٹ میں درخواستیں دیں کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کی سماعت نہیں کر سکتا۔
مریم نواز نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل اور انڈیا سے پاکستان تحریکِ انصاف کی فنڈنگ ہوئی ہے اور یہ سارا پیسہ ہُنڈی کے غیر قانونی طریقے سے پاکستان آیا ہے۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو یہ فنڈنگ انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک رکن اندرجیت دوسانجھ کی طرف سے ہوئی۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان نے اب فنڈنگ کا تمام معاملہ ایجنٹس پر ڈال دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے والے، انھیں صادق و امین قرار دلوانے والے، اور ان کے لیے میڈیا کو مینیج کرنے والے 'ایجنٹس' کون ہیں۔
مریم نواز نے کہا: 'تمہارے ہر جرم اور غلطی پر پردہ ڈالنے والے ایجنٹس کون ہیں؟'
انھوں نے کہا کہ 'ایجنٹس' پیچھے چھپے ہوتے ہیں اور سامنے ای سی پی جیسے ادارے ہوتے ہیں۔
مریم نواز نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب 2018 میں الیکشن کمیشن کو یرغمال بنا کر 'نااہل' شخص کو 22 کروڑ عوام کی قسمت کا مالک بنا دیا گیا، تو آپ کیوں نہیں بولے؟
انھوں نے کہا کہ جب آج پیٹرول بم عوام پر گرتا ہے تو عوام الیکشن کمیشن کو بھی اس میں شریکِ جرم ٹھہراتے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ آج جب اشیائے ضرورت اور ادویات کی قیمتیں لوگوں کی پہنچ سے دور ہوتی ہے، نوجوان لڑکے لڑکیاں بے روزگار ہوتے ہیں تو عوام انھیں بھی شریکِ جرم ٹھہراتے ہیں۔
’عمران خان اب منھ چھپا رہے ہیں‘
اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان دوسروں سے رسیدیں مانگتے تھے مگر اب اُن سے رسیدیں مانگی جا رہی ہیں تو وہ 'منھ چھپا رہے ہیں۔'
احسن اقبال نے مزید کہا کہ عمران خان کہتے تھے کہ چھ لوگ کہیں گے کہ اقتدار چھوڑ دو تو وہ چھوڑ دیں گے، آج پورے پاکستان میں عمران خان کے خلاف نعرے لگ رہے ہیں لیکن وہ عہدے پر موجود ہیں۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو 'ورغلا' کر نئے پاکستان کے نام پر پیسے لیے مگر اس پیسے سے خفیہ اکاؤنٹس بنائے، کاروبار کیے، ملک میں انتشار پھیلایا اور الیکشن میں دھاندلی کی۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ ملک میں بیروزگاری اور غربت سے ملک کا سماجی ڈھانچہ تباہ ہو رہا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عمران خان کو گھر بھیجا جائے۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وہ آئین و قانون کی عملداری پر یقین رکھتے ہیں اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرف سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ غیر ملکی فنڈنگ کیس کا فوری فیصلہ کیا جائے اور عمران خان کو نااہل قرار دیا جائے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ غیر ملکی فنڈنگ بلوچستان یا چھوٹے صوبوں کی کسی جماعت کا معاملہ ہوتا تو ان پر غداری کے الزامات لگائے جاتے۔
اختر مینگل نے مزید کہا کہ شارعِ دستور پر لوگ دستور کی بالادستی مانگ رہے ہیں اور اس آئین پر عملدرآمد کے لیے موجود ہیں جس آئین کی بنیاد پر یہ ملک کھڑا ہے۔
اس سے کچھ دیر قبل مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ڈی ایم نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کا مقدمہ عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کریں گے کہ حکمران جماعت نے اثاثے چھپائے ہیں اور اس کے خلاف فارن فنڈنگ مقدمے میں چھ سال میں ڈیڑھ سو کے قریب پیشیاں ہو چکی ہیں، مگر حکومت اسے مسلسل درخواستیں دے کر تاخیر کی شکار کر رہی ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے خفیہ دستاویزات اور اپنے بینک اکاؤنٹس کو ظاہر نہیں کیا ہے۔
جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نیّر بخاری اور راجہ پرویز اشرف، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی اور دیگر سیاسی قائدین احتجاجی کارکنوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آج کے احتجاج میں شریک نہیں ہیں کیونکہ وہ ایک پارٹی اجتماع کے سلسلے میں سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں موجود ہیں۔
اس سے قبل سیاسی جماعتوں کی ریلیاں مختلف شہروں بالخصوص راولپنڈی سے ہوتے ہوئے کشمیر چوک پر جمع ہوئیں جو مری روڈ اور کلب روڈ کے سنگم پر ہے اور یہاں سے ریڈ زون کچھ ہی منٹ کے فاصلے پر ہے۔
پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے اس احتجاج کو نہ روکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم حکومت کی جانب سے یہ بار بار کہا گیا ہے کہ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں حکومت کی جانب سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
فارن فنڈنگ کیس کیا ہے؟
یہ احتجاج الیکشن کمیشن کی جانب سے چھ سال سے زائد عرصے سے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے خلاف مبینہ طور ممنوعہ ذرائع سے غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے کے کیس کو زیر التوا رکھنے کے خلاف کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ ان کی جاعت نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل نہیں کیے بلکہ تمام حاصل ہونے والے فنڈز کے دستاویزات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ عمران خان نے بھی سنہ 2013 کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کی قیادت کی تھی۔
اسی احتجاج کے دوران عمران خان نے اس وقت کے الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس پر اُنھیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا اور بعد ازاں عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر سے معذرت کی تھی۔