آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ارنب گوسوامی: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مودی سرکار اور انڈین میڈیا کے درمیان گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا ہے
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ معروف انڈین صحافی کی واٹس ایپ چیٹ سے مودی سرکار اور انڈین میڈیا کے مابین ’گٹھ جوڑ‘ بے نقاب ہو گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عمران خان کا کہنا تھا کہ سنہ 2019 میں جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں انھوں نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ مودی سرکار نے بالاکوٹ بحران کو کیسے اپنی انتخابی فتح کے لیے استعمال کیا۔
اس سے قبل پاکستان کے دفتر خارجہ نے اتوار کو انڈین ٹی وی میزبان اور ریپبلک میڈیا نیٹ ورک کے ایڈیٹر اِن چیف ارنب گوسوامی کی مبینہ طور پر لیک ہونے والے واٹس ایپ ڈیٹا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان انکشافات نے دنیا کے سامنے انڈیا کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے اور پاکستان اپنے مؤقف میں ایک بار پھر سرخرو ہوا ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں صحافی ارنب گوسوامی اور انڈین براڈ کاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل (بی اے آر سی) کے سابق سربراہ کی 2019 میں پلوامہ حملے سے پہلے کی واٹس ایپ پر ہونے والی بات چیت منظر عام پر آئی ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر اس واقعے کی کوریج سے اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے کی بات کر رہے تھے۔
وزیر اعظم عمران خان کا مزید کہنا ہے کہ ’خطے کو عدم استحکام کی آگ میں جھونکنے والے نتائج سے بے نیاز ہو کر محض انتخابی فتح کے لیے خطرناک ترین عسکری حماقت کا سہارا لیا گیا۔ بالاکوٹ پر نہایت ذمہ دارانہ اور نپے تلے ردعمل سے پاکستان نے بڑا بحران ٹالا۔ اس کے باوجود مودی سرکار بھارت کو ایک بدمعاش ریاست میں بدلنے پر لگی ہوئی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ارنب گوسوامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر آج رات ہونے والے اپنے پروگرام میں تفصیلات فراہم کریں گے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا ٹرینڈ کی صورت چلنے والے اس لیک ڈیٹا کے مطابق ارنب گوسوامی نہ صرف بالاکوٹ پر حملے بلکہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے بھی آگاہ تھے۔
دوسری طرف ریپبلک ٹی وی نے ایک بیان میں اپنے ایڈیٹر اِن چیف ارنب گوسوامی پر لگائے گئے پاکستانی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے 'پاکستانی حکومت اور آئی ایس آئی کی (انڈیا کے لیے) بُری نیت اور نقصان دہ کارروائیوں کو بے نقاب کیا ہے۔۔۔ انڈین ریاست مخالف عناصر ریپبلک میڈیا نیٹ ورک کے خلاف ایک سازش کر رہے ہیں۔'
لیک ہونے والے ڈیٹا کے مطابق 23 فروری 2019 کو ارنب گوسوامی نے بی اے آر سی کے چیف کو پاکستان سے متعلق بڑی خبر کی پیشگی اطلاع دی۔
مبینہ طور پر ارنب گوسوامی نے اپنے ساتھی کو بتایا کہ پاکستان کے خلاف معمول سے بڑی کارروائی ہو گی اس کے بعد بالاکوٹ حملے کے بعد ارنب نے بتایا کہ مزید کارروائی بھی ہو گی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے رد عمل میں کیا کہا؟
پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں عالمی برادری کو انڈیا کی طرف سے پاکستان میں کی جانے والی ریاستی دہشتگردی کے بارے میں ثبوت مہیا کیے گئے اور ان میں انڈیا کی طرف سے پاکستان کے خلاف نفرت انگیز اور جعلی خبروں کی مہم بھی شامل ہے۔
پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تازہ ترین انکشافات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ جو پاکستان کا مؤقف رہا ہے: بی جے پی نے پاکستان کو بدنام کرنے اور دہشتگردی کے الزامات سے تعلق جوڑنے کے لیے ایک ’فالس فلیگ آپریشن‘ لانچ کیا۔
پاکستان کے مطابق اس آپریشن کا ایک مقصد انڈیا میں قوم پرستی کو فروغ دینا بھی تھا، یہی وجہ تھی کہ انڈیا کی طرف سے نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کے دعوے بھی کیے گئے اور پھر انتخابات جیتنے کے لیے ان جذبات کو استعمال کیا گیا۔
’یہ سب آر ایس ایس۔ بی جے پی کا ایک ایسا طے شدہ ایجنڈا ہے، جس کے تحت وہ انتخابی جیت کو یقینی بناتے ہیں۔‘
دفتر خارجہ کے مطابق ہم نے پہلے ہی پاکستان کے خلاف اس انڈین پروپیگنڈے کی وضاحت کر دی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ 2019 میں پلوامہ حملے کا فائدہ انڈیا کو ہوا ہے کیونکہ اس کے بعد بی جے پی نے لوک سبھا کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔
ارنب گوسوامی اپنے متنازع بیانات اور ٹی وی پروگراموں کی میزبانی کرتے وقت ایک خاص جارحانہ انداز اختیار کرنے کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ وہ کچھ عرصے قبل ایک مقدمے میں جیل بھی کاٹ چکے ہیں۔
ارنب گوسوامی کے انکشافات: سوشل میڈیا پر رد عمل
ارنب کے انکشافات کے بعد سوشل میڈیا پر بھی رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت کانگرس کے ایک رہنما سری واستا نے اپنے ٹویٹ میں انڈیا کے چیف جسٹس سے ان الزامات کی تحقیقات کے لیے از خود نوٹس لینے کے بارے میں کہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر یہ درست تصور کیا جائے کہ ججز کو خریدا جا سکتا ہے۔
جنوبی ایشیا کے امور پر گہری نظر رکھنے والے امریکی تجزیہ نگار مائیکل کگلمین نے ٹوئٹر پر لکھا کہ کیسے ایک انڈیا صحافی نے مبینہ طور پر 2019 میں پلوامہ حملے سے تین دن قبل واٹس ایپ پر بات چیت کے دوران کہا کہ اس واقعے کی کوریج سے ان کے چینل کی رینٹگ میں اضافہ ہو گا۔
انھوں نے یاد دلایا کہ پلوامہ حملے میں انڈیا کے 40 فوجی مارے گئے تھے۔
پراتیک سنہا نامی ایک صارف نے تو ارنب گوسوامی کی مبینہ واٹس ایپ چیٹ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’پری اینڈ پوسٹ بالاکوٹ‘ یعنی بالاکوٹ حملے سے پہلے اور بالاکوٹ حملے کے بعد کی صورتحال۔
وہاب علوی نامی ایک صارف نے لکھا کہ پلوامہ ڈرامہ تھا، پاکستان نشانہ تھا۔
انڈیا میں نشریاتی اداروں کی تنظیم نیوز براڈکاشٹ ایسوسی ایشن نے اس سارے معاملے پر شدید تشویش کا اظہارکیا ہے اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔