پاکستان سعودیہ تعلقات: وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ٹمپریچر اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے مگر کسی ملک کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں

عمران

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ImranKhanOfficial

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ انڈیا جب تک انڈیا کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال نہیں کرتا اس سے مذاکرات نہیں ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ انڈیا نے سنہ 2019 میں اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے تین انتظامی علاقوں میں تقسیم کر دیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی۔

وزیر اعظم عمران خان نے سوشل میڈیا سے وابستہ شخصیات سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان اس وقت تک انڈیا سے مذاکرات نہیں کر ے گا جب تک انڈیا اپنا یہ فیصلہ واپس نہیں لے لیتا۔

خارجہ پالیسی اور سعودی عرب سے تعلقات میں سرد مہری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’ٹمپریچر اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے مگر ہماری کسی ملک کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔‘

عمران خان نے کہا کہ پہلے افغانستان الزامات عائد کرتا تھا مگر اب اس کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔ وزیر اعظم کے مطابق طالبان سے مذاکرات بھی ہم نے ہی کرائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ہزارہ کا قتل: ’پاکستان میں انتشار کے لیے داعش کو انڈیا کی حمایت حاصل ہے‘

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افغان جہاد میں عسکریت پسندی فرقہ واریت شروع ہوئی تھی۔ ان کے مطابق پہلے بھی فرقہ واریت تھی مگر جب افغانستان سے امریکی گئے تو پھر عسکریت پسند گروہ یہاں رہ گئے۔

ان کے مطابق ہزارہ برادری کے افراد کے قتل میں آئی ایس ایس شامل ہے اور آئی ایس ایس کو انڈیا بیک کر رہا ہے۔ عمران خان کے مطابق انڈین وزیر اعظم مودی حکومت پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے۔

بلوچستان کی محرومیوں پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری وفاقی حکومتوں نے بلوچستان پر کبھی توجہ نہیں دی تھی۔ ان کے مطابق بلوچستان کے ووٹ فیصل آباد ضلع سے بھی کم ہیں تو اس وجہ سے وہاں توجہ نہیں دی جا سکی کیونکہ اس صوبے کے بغیر ہی حکومت بن جاتی تھی۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہPM Office

ان کے مطابق یہاں کی حکومتیں بلوچستان کے سرداروں سے اتحاد کر لیتی تھیں جس کی وجہ سے سردار تو امیر تر ہوتے گئے مگر عوام غریب ہی رہ گئی۔ عمران خان کے مطابق وہاں سرداروں نے مقامی حکومتوں کا نظام بھی وضع نہیں ہونے دیا۔

عمران خان کے مطابق ہم پہلی بار بلوچستان پر توجہ دے رہے ہیں اور پہلی بار اس صوبے کے لیے اتنی بڑی رقم مختص کی ہے۔

وزیر اعظم کی حزب اختلاف کی جماعتوں پر تنقید

وزیر اعظم عمران خان نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان سے حزب اختلاف کی جماعتوں نے تحریری طور پر این آر او مانگا تھا جسے انھوں نے مسترد کر دیا۔

عمران خان نے کہا کہ انھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دونوں این آر اوز کی مخالفت کی تھی اور این آر او نہ دینے کے ایک مشکل راستے کا انتخاب کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت سارا گیم یہ چل رہا ہے کہ ہم ان مافیا کے آگے گھٹنے ٹیک دیں لیکن میں بار بار کہتا ہوں کہ این آر او نہیں دوں گا۔

پی ڈی ایم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عمران خان نے کہا کہ حزب اختلاف ٹرمپ کی طرح انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کر رہی مگر یہ دھاندلی کا کوئی ثبوت بھی پیش نہ کر سکے۔ ان کے مطابق جب تحریک انصاف نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے تو پھر عدالتوں میں بھی جا کر یہ ثبوت دیے تھے کہ چار حلقوں میں کیسے دھاندلی ہوئی۔

وزیراعظم نے حزب اختلاف کی تحریک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے عوام کے بارے میں غلط اندازے لگائے۔ عمران خان کے مطابق دنیا تو حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف نکلتی ہے، جس طرح عرب سپرنگ ہوئی تھی۔

وزیر اعظم نے مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ مل کر پیسہ چوری کر رہے تھے اور انھوں نے ایک دوسرے کو این آر او دیا تھا۔

عمران خان کے مطابق ’کرپشن کر کے یہ لوگ پیسہ باہر بھیجتے ہیں اور پھر دوسرے اکاؤنٹس سے واپس لے کر آتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا آصف زرداری کو نواز شریف نے جیل میں ڈالا تھا۔ ملک کا وزیر اعظم اور وزیر خارجہ باہر ملازمت کر رہے تھے۔ ’ملک کا وزیر اعظم دبئی کی کمپنی کی ملازمت کر رہا تھا۔‘

عمران خان نے الزام عائد کیا کہ 'وزیر اعظم اور وزیر دفاع خود منی لانڈرنگ کر رہے تھے۔ یہ خود منی لانڈرنگ کریں گے تو کسی کو نہیں روک سکیں گے۔‘

ان کے مطابق ہم ان (اپوزیشن) کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف میں گرے لسٹ میں تھے۔

’ٹیکس کا نظام بہت بدعنوان ہے‘

وزیر اعظم عمران نے ٹیکس سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملک کی ’ٹیکس مشینری بہت بدعنوان ہے۔‘

عمران خان نے اس کا ذمہ دار بھی ماضی کے حکمرانوں کو قرار دیا اور کہا کہ ان کی اخلاقی اقدار ایسی نہیں تھیں جس سے یہ نظام درست ہو سکتا۔

وزیر اعظم عمران خان کے مطابق اس وقت 22 کروڑ عوام میں سے صرف 22 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں جبکہ ان میں صرف 3000 لوگ ایسے ہیں جو 70 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔