بلوچستان میں ہزارہ مزدوروں کا قتل: جب تک وزیر اعظم نہیں آئیں گے ہم میتیں نہیں دفنائیں گے‘

    • مصنف, محمد زبیر خان، خیر محمد
    • عہدہ, صحافی

’دہشت گردی کے واقعے میں ہلاک ہونے والے میرے ایک کزن کی عمر صرف 18 برس تھی، اس کی چند ماہ قبل شادی ہوئی تھی۔ اس کی نئی نویلی دلہن نے جب سُنا کہ وہ (اس کا شوہر) اس دنیا میں نہیں رہا تو اس نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔‘

مجسم غم بنی زارا بیگی نے جب یہ بتایا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ زارا کا تیس سالہ بھائی چمن علی، اور دو چچا زاد بھائی، 18 سالہ نسیم علی اور 45 سالہ عزیر سنیچر کی شب صوبہ بلوچستان کے ضلع مچھ میں مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے دس کان کنوں میں شامل ہیں۔

خیال رہے کہ سنیچر کی شب مچھ میں واقع کوئلہ فیلڈ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم 10 کان کن ہلاک ہو گئے تھے، ان تمام مزدوروں کا تعلق بلوچستان کی ہزارہ کمیونٹی سے ہے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے بعد گذشتہ روز وفاقی وزیرعلی زیدی اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری بھی ہزارہ قبیلے سے مذاکرات کے لیے کوئٹہ گئے تاہم یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے۔

مجلس وحدت المسلمین کے رہنما اور سابق صوبائی وزیرآغا رضا نے کہا کہ لواحقین یہ چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم آئیں اور یہاں آنے سے ان کی عزت اور حیثیت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک وزیر اعظم نہیں آئیں گے تو وہ میتوں کو نہیں دفنائیں گے۔

دھرنے میں شریک ایک خاتون طاہرہ نے کہا کہ انھوں نے وزیر اعظم کی زیارت کے لیے ان کو یہاں نہیں بلایا ۔

’وزیر اعظم کو یہاں آنا ہوگا اور ان کو یہ لکھ کر دینا ہوگا کہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہیں آئیں گے۔‘

زارا بیگی بتاتی ہیں کہ ’چند ماہ قبل ہمارے خاندان میں خوشی ہوئی تھی۔ ہم نے اپنے چچا زاد بھائی نسیم علی کو دولہا بنایا تھا، اس کی عمر اٹھارہ سال ہوگئی۔ ہمارے خاندانوں میں جلدی شادی کا رواج ہے۔ جس کے بعد مرد محنت مزدوری کرنے چلا جاتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

روایت کے مطابق نسیم علی بھی چند دن شادی کے بعد اپنی نوبیاہتا دلہن اور خاندان والوں کے پاس رہے جس کے بعد وہ روزگار کے سلسلے میں کوئلہ فیلڈ چلے گئے۔ زارا کہتی ہیں کہ ’شاید وہ سوچ رہا ہو گا کہ اب وہ شادی شدہ ہے اور اس پر ذمہ داریاں ہیں، مگر اب اس کی میت میرے سامنے پڑی ہے۔‘

’اس کی نئی نویلی دلہن بار بار فریاد کر رہی ہے۔ اس کی چیخیں اور آہ و بکا زمین و آسمان ہلا رہی ہیں۔ میں وزیر اعظم سے کہتی ہوں کہ وہ کوئٹہ کیوں نہیں آتے، وہ کیوں نسیم کی دلہن کی فریاد اپنے کانوں سے نہیں سنتے۔‘

یاد رہے کہ منگل کی صبح وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید میتوں کے ہمراہ دھرنا دیے ہزارہ برادری کے پاس گئے تھے تاہم ملاقات اور تسلیوں کے باجود ہزارہ برادری نے دھرنا ختم نا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

زارا کا کہنا تھا کہ ’میں عمران خان سے کہتی ہوں یہ دس لاشیں نہیں ہیں۔ یہ دس خاندانوں کی تباہی ہے۔ ہر ایک خاندان کی اپنی الگ کہانی ہے۔ میں اپنے بھائی چمن علی کے پانچ بچوں کا سامنا نہیں کر پا رہی ہوں۔‘

زارا نے بتایا کہ ان کے سگے بھائی چمن علی کو اپنے بڑی سولہ بیٹی بارھویں کلاس کی طالبہ بیٹی اپنی جان سے زیادہ عزیز تھیں۔ ’وہ جب پیدا ہوئی تو چمن علی نے کہا تھا کہ میں اس کو ڈاکٹر بناؤں گا۔ بیٹی تھوڑی بڑی ہوئی تو اس نے ہر کلاس میں ٹاپ کر کے اپنے باپ کا خواب پورا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔‘

زارا بیگی کا کہنا تھا کہ ’اب وہ بیٹی اپنے باپ کی میت پر کھڑی ہے اور بار بار اپنے مردہ باپ سے کہہ رہی ہے کہ تم مجھ سے کیوں ناراض ہوگے ہو۔ میں نے تو ہر صورت میں ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں وزیر اعظم سے کہتی ہوں کہ وہ آئیں اور دیکھیں کہ ایک بیٹی بار بار اپنے بات کی میت کے سرہانے کھڑا ہو کر کہہ رہی ہے کہ باباآپ مجھ سے کیوں ناراض ہیں۔۔۔‘

زارا بیگی کا کہنا تھا کہ بیٹی اپنے باپ کی میت پر کھڑے ہو کر کہہ رہی ہے کہ 'بابا آپ نے کہا تھا کہ چھوٹے بہن بھائیوں کا پڑھانا ہے تو میں نے ہمیشہ ان کو بھی پڑھایا ہے۔ اگر ہم سے کوئی غلطی ہوگئی ہے تو معاف کر دو۔'

زارا بیگی کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے ان کے دوسرے چچا زاد بھائی عزیز کے سات بچے ہیں۔ بڑی بیٹی کی شادی ہوچکی ہے۔ ’وہ چند دن قبل چھٹیوں پر آئے تھے، تو میرے گھر بھی آئے تھے۔ مجھ سے کہہ رہے تھے، کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم لوگوں کو اپنے بچوں کو پڑھانا چاہیے۔ وہ کب تک یہ محنت مزدوری کرتے رہیں گے۔ میں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔‘

’ہمارے خاندان میں جنازہ اٹھانے والا کوئی مرد نہیں بچا‘

’اگر کسی کو کربلا کا منظر دیکھنا ہے تو وہ میرے خاندان کو دیکھ لے۔ ہمارے خاندان میں جنازہ اٹھانے والا کوئی مرد نہیں بچا۔ جس کے بعد ہم چھ بہنوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے بھائی اور اپنے رشتہ داروں کے جنازے خود اٹھائیں گے۔‘

یہ کہنا ہے معصومہ یعقوب علی کا جن کا اکلوتا بھائی محمد صادق اور چار دیگر رشتہ دار ہلاک ہونے والے دس کان کنوں میں شامل ہیں۔

ان پانچ افراد کی میتوں سمیت دھرنے میں شامل معصومہ یعقوب علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے اکلوتے بھائی سمیت ان کے خاندان کے پانچ افراد کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

معصومہ کا بھائی چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی اور دو بچوں کے والد تھے۔ جبکہ ان کے دیگر ہلاک ہونے والے رشتہ داروں میں اٹھارہ سالہ بھانجا احمد شاہ، دو ماموں 20 سالہ شیر محمد اور 30 سالہ محمد انوار اور ان کی خالہ کا بیٹا محمد احسن شامل ہیں۔

معصومہ تھرڈ ایئر کی طالبہ ہیں۔ ’میں ریاست مدینہ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ یہ کیسی ریاست مدینہ ہے جس میں دن دہاڑے بے گناہ خاندانوں کے سہاروں کو اس بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے اور اس کے بعد صرف میڈیا پر تعزیتی بیانات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے۔‘

’میں کہتی ہوں کہ اگر یہ واقعی انصاف کی ریاست ہے۔۔۔ اگر یہ واقعی مسلمانوں کی ریاست ہے۔۔۔ اگر یہ واقعی ریاست مدینہ ہے تو ہمارے مجرموں کو فی الفور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ انھیں سامنے لایا جائے۔ آخر ہم کب تک اپنے لوگوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔‘

معصومہ نے اپنے بھائی محمد صادق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میرے والد ضعیف ہیں۔ میرا بھائی ہم چھ بہنوں، بوڑھے والد، اپنی اہلیہ اور اپنی دو بیٹیوں کا واحد کفیل تھا۔ وہ تو محنت مزدوری اور رزق حلال کمانے کے لیے اپنے شہر سے میلوں دور گیا تھا۔‘

'میرے بھائی، میرے رشتہ داروں اور سارے مارے جانے والوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان لوگوں کو تو سرنگوں میں مزدوریاں کرتے ہوئے یہ بھی پتا نہیں چلتا تھا کہ دن ہے کہ رات۔ کئی مرتبہ اس طرح ہوا ہے کہ بھائی مزدوری کرنے کے بعد فارغ ہو کر فون کرتے تو کہتے کہ مغرب کا وقت ہوا ہے۔ مغرب کی نماز پڑھ لوں، تو اصل میں اس وقت رات کا کافی حصہ بھی گزر چکا ہوتا ہے۔'

'میری بڑی بہنیں اکثر اپنے بھائی سے کہتیں کہ ہم نے کافی پڑھ لیا ہے اب ہمین اجازت دو کہ ہم بھی کام کریں، تو وہ کہتا کہ نہیں ابھی تم لوگ اچھے سے پڑھائی کرو تاکہ تم لوگوں کا مستقبل محفوظ ہو۔ بہنیں اس سے کہتیں کہ تم اس مزدوری سے آخر کتنا کام کر سکتے ہو تو وہ کہتا کہ میرے بازوں میں بہت دم ہے۔ میں اتنا کام کروں گا جتنی ہمیں ضرورت ہے۔'

معصومہ یعقوب علی کا کہنا تھا کہ ان کا بھائی مزدور تھا، کان کن تھا مگر وہ اتنی محنت کرتا تھا کہ ہماری تعلیم سمیت تمام ضرورتیں پوری ہوتیں تھیں، ہمارے بھائی اور والد کا کوئی بینک اکاوئنٹ نہیں ہے مگر ہمارے تمام مسائل حل ہوتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اسی طرح میرے خالہ زاد، ماموں زاد، میرا کم عمر بھانجا یہ سب اپنے خاندانوں کے کئی کئی افراد کے لیے امیدیں اور سہارا تھے۔ ان کے قتل ہونے سے کئی گھروں کے چراغ اور کئی گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں۔

بزرگ شخص جو صرف ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیتا ہے

میتوں کے ساتھ موجود لواحقین میں ایک بزرگ شخص بھی ہیں جو ایک تابوت کے ساتھ بیٹھے مسلسل رو رہے ہیں۔ وہ کچھ کہنے کی کوشش کرتے ہیں مگر پھر رونا شروع کر دیتے ہیں۔ صحافی جب ان سے ان کے پیاروں کی ہلاکت کے بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ تھوڑی بہت تفصیلات بتاتے ہوئے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے خدا سے انصاف کی دعا مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہی صورتحال دیگر لواحقین کی بھی ہے۔

دھرنے میں شریک ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی ایک سماجی کارکن حمیدہ فدا نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز ان کی برادری سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور ان کے ہاتھ پشت پر باندھ کر ان کا گلے کاٹے گئے اور سر تن سے جدا کر دیے گئے۔

ان کے مطابق مچھ کو عام طور پر پرامن شہر تصور کیا جاتا ہے جہاں مختلف مذاہب، رنگ اور نسل کے لوگ آباد تھے مگر بدقسمتی سے نفرت کی ایسی ہوا چلی کہ لوگ یہاں سے ملک کے دوسرے حصوں میں آباد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی برداری اپنے مردے اس وقت تک نہیں دفنائے گی جب تک کہ ریاست مدینہ انھیں انصاف فراہم نہیں کر دیتی۔