وردی پہن کر ٹک ٹاک ویڈیو بنانے والا جوڑا گرفتار: تفریحی مقاصد کے لیے پولیس یا فوج کی وردی استعمال کرنے کے کیا اصول ہیں؟

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اکثر ڈراموں اور فلموں میں ہیرو یا دیگر اداکار پولیس یا فوج کی وردی میں ملبوس کردار نبھاتے نظر آتے ہیں۔ جب پی ٹی وی کی سکرین ہر گھر کا انتخاب تھا تو ایسے میں جنھوں نے الفا براوو چارلی، اندھیرا اجالا اور دھواں جیسے ڈرامے دیکھے، ان کے کردار ان کے ذہن میں ضرور زندہ ہوں گے۔

اسی پولیس یونیفارم کو پہن کر اداکار قوی خان اور عرفان کھوسٹ (حوالدار کریم داد) جیسے اداکار اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ دھواں ڈرامے کے رائٹر عاشر عظیم نے اپنے ہی تحریر کردہ ڈرامے میں ایک پولیس افسر اور خفیہ ایجنٹ کا مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ وردی میں کیے گئے کام میں اگر ذرا سی بھی چُوک ہو جائے تو پھر ایسی غلطی سچ مُچ میں آپ کو ہیرو کے رتبے سے تنزلی دلا کر قیدی کا درجے پر بھی لے جا سکتی ہے۔

ایسے ہی ایک کیس میں اتوار کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پولیس نے راولپنڈی شہر سے میاں بیوی کو گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا ہے۔ یہ دونوں پولیس یونیفارم میں ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہے تھے۔ پولیس کے مطابق اس ویڈیو میں خاتون خود کو اڈیالہ جیل کی اہل کار ظاہر کرتی ہیں، جس کے بعد اب وہ اڈیالہ جیل میں ایک قیدی ہیں۔

اب ذہن میں پہلا سوال تو یہی پیدا ہوتا ہے کہ جب ٹک ٹاک کے لیے تفریحی ویڈیو بنائی جا رہی تھی تو پھر ایسے میں پولیس نے انھیں گرفتار کیوں کیا۔

بی بی سی نے یہ جاننے کے لیے پولیس کے اعلیٰ حکام، انتظامیہ اور اداکاروں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پولیس یا دیگر فورسز کے یونیفارم کو تفریحی یا کسی آگاہی کے مقاصد کے لیے ڈراموں، فلموں اور دیگر پلیٹ فارمز پر استعمال کرنے کے کیا اصول اور ضابطہ اخلاق ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تفریحی مقاصد کے لیے پولیس اور فوج کا یونیفارم استعمال کرنا غیر قانونی ہے؟

سندھ پولیس کے سابق سربراہ سینیٹر رانا مقبول کے خیال میں ڈراموں یا فلموں میں یونیفارم کے استعمال سے قبل پولیس ہیڈ آفس سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے سابق سربراہ احسان غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈرامے اور فلموں والے یونیفارم کے ساتھ ساتھ خود پولیس افسران کو بھی (اداکار بنا کر ساتھ) لے جاتے ہیں۔

ان کے مطابق ڈراموں اور فلموں میں باہمی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد نہ صرف ان کا یونیفارم استعمال کیا جا سکتا ہے بلکہ پولیس اہلکار بھی عوامی آگاہی کے مقاصد کے تحت ایسے ڈراموں اور فلموں میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی ایک مہم ’پولیس اور عوام ساتھ ساتھ‘ کی مثال دی جس میں پولیس کی یونیفارم کے علاوہ خود پولیس اہلکاروں نے بھی پرفارم کیا۔

احسان غنی کے مطابق پولیس یا فوج کی یونیفارم حاصل کرنے سے قبل مکمل تفصیلات بتانا ضروری ہوتا ہے کہ آخر کس مقصد کے لیے یہ یونیفارم استعمال ہو گا۔ ان کے مطابق اجازت دیتے وقت حکام اس بات پر غور کرتے ہیں کہ کہیں اس سے پولیس یا افواج کی بدنامی تو نہیں ہو گی۔

اداکار و ہدایتکار سرمد کھوسٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی وردی تو اکثر سٹوڈیوز میں ایسے لٹک رہی ہوتی ہے جیسے ان کے پاس وکیلوں اور ڈاکٹروں کے کاسٹیوم (یونیفارم) لٹکے ہوتے ہیں۔ ان کے خیال میں پولیس کی وردی کے استعمال سے متعلق زیادہ احتیاط نہیں برتی جاتی مگر ان کے خیال میں فوج اس بات کا بہت خیال رکھتی ہے۔

اپنا ایک ذاتی تجربہ شیئر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب وہ ایک ایسے ہی پروجیکٹ پر ایئر فورس کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے تو انھیں نہ صرف ائیر فورس نے یونیفارم مہیا کیا بلکہ اس میں پرفارمنس کے لیے خود اپنے اہلکار بھی دیے۔

سینیٹر رانا مقبول کا کہنا ہے کہ اجازت کے بغیر وردی کا استعمال ایک سنگین جرم ہے۔

اگر کوئی شخص لوگوں کو کہتا ہے کہ وہ کوئی سرکاری افسر ہے یا خود کو پولیس والا کہتا ہے یا خود کو ظاہر کرتا ہے حالانکہ وہ نہ تو کوئی سرکاری افسر ہو اور نہ ہی پولیس والا ہو تو اس پر دفعہ 170 کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 170 کے تحت ایسے کسی شخص کو دو سال تک قید، جرمانے یا دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

’سرکاری وردی کے استعمال کا پروٹوکول کیا ہے‘

احسان غنی کا کہنا ہے کہ پولیس یا فوج کی یونیفارم استعمال کرنے سے قبل انتظامیہ سے بھی اجازت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے کہ یہ سب کن مقاصد کے لیے کیا جا رہا ہے۔

سابق پولیس افسر کے مطابق انتظامیہ کو یہ تسلی کرانی ہوتی ہے کہ اس وردی کا غلط استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کے استعمال سے معمول کی زندگی میں کوئی خلل پیدا کیا جائے گا۔

سرمد کھوسٹ کے مطابق جب باہر شوٹنگ کے لیے یونیفارم پہن کر جاتے ہیں تو پھر وہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق انتظامیہ کو بروقت آگاہ کرنا اس وجہ سے بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ اسے کوئی نقص عامہ کا مسئلہ نہ سمجھ لیں۔

اسی طرح متعلقہ پولیس تھانے کو بھی پیشگی اطلاع دی جاتی ہے۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس یا فوج کی وردی پہننے سے قبل انتظامیہ سے ہر صورت اجازت حاصل کرنا ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سٹیج ڈراموں کے لیے تو یہ اجازت ضروری نہیں ہے مگر دیگر ڈراموں اور فلموں میں جہاں باہر نکل کر اداکاری کرنا ہوتی ہے وہاں اجازت حاصل کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔

یہ وردی کیسے حاصل کی جاتی ہے؟

سرمد کھوسٹ کی رائے میں یہ اصلی وردی ہوتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ جب کسی سین میں پولیس کی گاڑی دکھائی جاتی ہے تو وہاں سرکاری نمبر پر ’واٹر مارک‘ یعنی نشان لگا دیا جاتا ہے تاکہ پہچان نہ ہو سکے۔

سرمد کے مطابق فوج تو خود اپنے سٹورز سے وردی دیتی ہے مگر پولیس یونیفارم کرائے پر بھی مل جاتا ہے۔

حمزہ شفقات کے مطابق اس حوالے سے قانون بہت واضح ہے کہ فوج اور پولیس کی وردی پہننا جرم ہے اور اس سے ملتی جلتی وردی کے استعمال کی بھی اجازت نہیں ہے۔

انھوں نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کی ایک رضاکارانہ تنظیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک شہری نے ان کی وردی کے رنگ کے خلاف عدالت کا رخ کیا اور موقف اختیار کیا کہ یہ فوج کی وردی سے مماثلت رکھتی ہے۔ تاہم عدالت نے اس درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ اس میں مماثلت نہیں پائی جاتی۔

پولیس افسران اور سرکاری حکام اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ فوج یا پولیس کی وردی کی فراہمی اتنی آسانی سے دستیاب نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کے غلط استعمال کے واقعات بھی ہوتے ہیں جہاں کبھی کوئی یہ یونیفارم پہن کر عوام کو لوٹتا ہے تو کوئی قتل سمیت دیگر سنگین جرائم تک کا بھی ارتکاب کرتا ہے۔