آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
#ThinkFest2020: ’تھنک فیسٹ‘ میں ان موضوعات پر بحث ہوئی جن پر میڈیا پر بات نہیں ہوتی
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور میں دو روزہ فیسٹیول ’تھنک فیسٹ‘ کے آخری روز جب میں لاہور کے الحمرا ہال پہنچی تو گزرے ہوئے دن کا شیڈول اور موضوعات دیکھ کر افسوس تو ہوا کہ پہلے دن کے پینلز میں شرکت نہیں کر سکی لیکن دوسرے دن کا شیڈول دیکھا تو ڈھارس بندھی کہ کئی منفرد عنوان اور شخصیات کی گفتگو سننے کو ملے گی۔
صبح سے شام تک جاری رہنے والے تھنک فیسٹیول میں کل اکیس موضوعات رکھے گئے جن پر بات کرنے کے لیے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والی کئی نامور شخصیات کو بلایا گیا تھا۔
اس پورے فیسٹیول میں آنے والے ہر شخص کو صرف ایک ہی مسئلہ درپیش تھا اور وہ یہ کہ کس سیشن میں جائیں اور کس سیشن کو چھوڑیں۔ فیسٹیول کے پہلے گھنٹے میں ہی میں نے فیصلہ کیا کہ میں پاکستان اور اس کے معیشت کی بارے میں سننا چاہتی ہوں اس لیے میں ہال نمبر تین میں چلی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
اندر داخل ہوئی تو سٹیج پر مفتاع اسماعیل، حفیظ پاشا، سلمان شاہ اور ساویل حسین بیٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ پاکستانی معیشت مشکلات کا شکار کیوں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سیشن کے بعد الحمرا کی گیلری میں کرتارپور، مذہبی سیاحت اور پاکستان کی شناخت کے بارے میں سیشن میں جانے کا اتفاق ہوا۔
تھوڑی دیر گیلری میں وقت گزارنے کے بعد میں الحمرا کے ہال نمبر ایک میں چلی گئی جہاں اداکار اور ہدایت کار سرمد کھوسٹ اپنی آنے والی فلم ’زندگی کھیل‘ کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
سرمد کھوسٹ نے بتایا ’میری فلم کو سینسر شپ بورڈ نے پہلے کلیئر کیا اور پھر کچھ اعتراضات لگائے۔ جنھیں درست کرنے کے بعد انھوں نے دوبارہ کلیئر کر دیا۔‘
سینسر شپ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’اس لفظ کو سن کر مجھے گھٹن محسوس ہوتی ہے۔‘
سرمد کھوسٹ کے بعد شروع ہونے والے سیشن میں وفاقی وزیر فواد چوہدری، سینٹر مصدق ملک اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مصطفی کھوکھر نے اس موضوع پر بات کی کہ اگلے دس سال میں پاکستان کہاں ہو گا۔
اس سیشن کو سننے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد ہال میں پہنچی کہ بیٹھنے کی جگہ ہی کم پڑ گئی۔
اس سیشن کے بعد میں نے کچھ وقت ہالز سے باہر گزارا جس میں مختلف لوگوں سے ملاقات کی اور کچھ پرانے دوستوں سے فیسٹیول کے بارے میں ان کی رائے جانی۔ گھڑی پر نظر پڑی تو دوستوں سے معذرت کی اور ہال کی طرف چل دی۔ یہ فیسٹیول کا آخری سیشن تھا۔
’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ اس سیشن کا پینل نامور وکلا پر مشتمل تھا۔ جس میں بابر ستار، ریما عمر، امبر ڈار اور سلمان اکرم شامل تھے۔
ان موضوعات پر بحث ہوئی جن پر میڈیا بات نہیں کرتا
تھنک فیسٹ پر پورا دن گزارنے کے بعد ایک بات محسوس ہوئی کہ آج بھی لوگ ان موضوعات پر بات کرنا چاہتے ہیں جن کے بارے میں پاکستانی میڈیا پر کھل کر بات نہیں کی جاتی ہے۔
اس کا اندازہ میں نے اس بات سے لگایا کہ اگر کوئی عوامی نمائندہ کسی پینل کا حصہ تھا تو عوام کی بڑی تعداد اس سے ان سوالوں کا جواب لینا چاہتی تھی جو عموماً میڈیا میں بہت کم کیے جاتے ہیں۔
یا پھر کسی کی طرف سے کوئی تلخ یا ناخوشگوار سوال کیا جاتا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھتا۔
عوام کے علاوہ چند سیاستدانوں اور دیگر پینلسٹ نے بھی کھل کر بات کرنے کو ترجیح دی اور کچھ پینسلٹ کی جانب سے تو یہ بھی سننے کو ملا ’آپ جانتے ہیں کہ یہ باتیں میڈیا پر نہیں کہی جاتی‘ یا ’لوگ اس بارے میں کھل کر بات نہیں کرتے۔‘
مثال کے طور پر پہلے سیشن میں پاکستانی معیشت پر بات کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کا کہنا تھا ’پڑھے لکھے لوگ جن کا سیاست سے کوئی خاص تعلق نہیں، انھیں وزیر خزانہ بنا دیا جاتا ہے کیونکہ آئی ایم ایف سے بات کرنے کے لیے حکومت کو خوبصورت چہرہ چاہیے ہوتا ہے۔ اس لیے جب بھی انٹرنیشل کمیونٹی سے بات کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو ہم جیسے ٹیکنوکریٹ اور پڑھے لکھے لوگوں کی بھی ضرورت پڑ جاتی ہے ورنہ ہمیں کوئی خاص شوق نہیں ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’میری اپنی رائے یہ ہے کہ اس عہدے پر یقیناً کوئی منتخب نمائندہ ہی ہونا چاہیے۔ موجودہ حکومت نے کوشش کی اور منتخب نمائندے کو وزیر خزانہ لگایا لیکن تبدیلی لانے والی حکومت نے انھیں آٹھ مہینے میں ہی ہٹا دیا۔‘
اگلے دس سال میں پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری، مصدق ملک اور مصطفی کھرکھر نے بھی کافی دلچسپ باتیں گی۔
مختلف مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اگلے دس سال میں ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ مذہبی انتہا پسندی ہے۔
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اگلے دس سال میں سب سے اہم جنگ حقوق کی جنگ ہے اور ہمیں آزادی رائے کو یقینی بنا کر اس پر گفتگو کرنا ہو گی۔
تاہم ایک سوال کے جواب میں سینیٹر مصدق ملک کا کہنا تھا ’پاکستان کا سیاست دان عوام کی خدمت تب کرے گا جب اسے یقین ہو گا کہ عوام کا ووٹ ایسے اقتدار میں لے کر آئے گا۔ اگر سیاست دان کو یہ ابہام بھی ہو کہ مجھے عوام کا ووٹ نہیں بلکہ کوئی اور اقتدار میں لے کر آئے گا تو سیاست دان عوام کی نہیں ان کی خدمت کرے گا جو اسے اقتدار میں لے کر آئے۔‘
’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘
فیسٹیول کا آخری سیشن ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کافی دلچسپ رہا۔
اس سیشن میں بابر ستار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو طرح کے سسٹم موجود ہیں: ایک وہ جس میں اداروں کا کردار قانون میں بتایا گیا ہوتا ہے اور وہ اس کے مطابق کام کرتے ہیں۔ اور دوسرا وہ سسٹم ہوتا ہے جس کا لکھے ہوئے قانون کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا اور ہمارے ملک میں دوسرے سسٹم کے مطابق کام ہوتا ہے۔
آرمی ایکیٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بابر ستار کا کہنا تھا کہ یہ دوسرے سسٹم کی مثال ہے۔
’بہت سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا آئین یہ کہتا ہے کہ سویلین کا آرمی پر کنٹرول ہو گا۔ تو اگر وزیراعظم کسی کی تقرری کر سکتا ہے تو اسے توسیع کیوں نہیں دے سکتا۔ اگر کسی ملک میں واقعی ہی جمہوری حکومت ہو تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے اور نا ہی آرمی پر سویلین کنٹرول ہے۔ اس کی وجہ سے طاقت کی تقسیم درست نہیں۔ اس لیے آپ کو یہ نہیں پتا کہ وزیر اعظم کو آرمی چیف نے لگایا ہے یا آرمی چیف کو وزیر اعظم نے لگایا ہے۔‘
بابر ستار کی اس بات پر ہال تالیوں اور قہقہوں سے گونجھ اٹھا۔
انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کس نے کیا کام کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہم ان مسائل پر نہ کچھ لکھ سکتے ہیں نا ہی ہم ٹی وی پر بات کر سکتے ہیں لیکن اس طرح کی محفل میں ہم پھر بھی تھوڑی بہت بات کر رہے ہیں۔
’ایک ادارے کی پوری ترتیب اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ کہنا بھی مشکل ہے کوئی اور شخص اتنے بڑے ادارے میں قابل نہیں کہ وہ آرمی کو چلا سکے۔ لگتا یہ تھا کہ اس تمام چیزوں پر بات ہو گی۔ اگلے دن کچھ بات ہوتی ہے اور تیسرے دن پتا چلتا ہے کہ قانون تو نہیں ہے لیکن چھ مہینے کی ایکسٹینشن ہو گی۔‘
سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک بھی سیاسی جماعت نے مؤقف اختیار نہیں کیا کہ پالیسی کیا ہے۔
’ہمارے دوست اندر کی داستان بتاتے ہیں کہ جس کمیٹی کے اندر بیٹھ کر فیصلہ ہونا تھا۔ اس میں مسلم لیگ ن کے پانچ لوگ اور چار لوگ پیپلز پارٹی کے بیٹھتے ہیں اور دو حکومتی وزرا بھی آتے ہیں۔ وہ آ کر پہلے پوچھتے ہیں کہ ایکسٹینشن دینی ہے یا نہیں دینی۔ سب کہتے ہیں دینی تو ہے لیکن ہمیں کچھ قانونی اختلاف ہیں اور انھوں نے جو ترمیم بنائی وہ لا کر دیتے ہیں۔ وزرا انھیں غور سے پڑھتے ہیں اور سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جناب معذرت کے ساتھ جو ہم نے آپ کے سامنے دستاویزات رکھے ہیں اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔‘
’پہلے ایک پارٹی کے رہنما کو فون آتا ہے۔ وہ فون سنتے ہیں اور معذرت کرکے کمرے سے باہر چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے تو نیب بلا رہی ہے۔ اس کے بعد دوسری پارٹی بحث کرتی ہے کہ تو منسٹر کہتے ہیں کہ ہمیں دو منٹ دیں اور وہ کمرے سے باہر جاتے ہیں۔ پیچھے دوسری پارٹی کے لوگ بھی باہر جاتے ہیں اور کچھ دیر بعد اندر آ کر کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے جو دستاویزات بن گئے وہ بن گئے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’آپ یہ بات نہیں لکھ سکتے ہیں کہ آپ آرمی چیف کی دوبارہ تقریری اس لیے نہیں کرتے کہ سکیورٹی کا کام کوئی اور نہیں کر سکتا۔ آپ اس لیے یہ تقریری دوبارہ کرتے ہیں کہ آرمی چیف کا ایک سیاسی کردار ہے یا وہ حکومت کی ٹرم کو کمزور کرے گا یا اسے مضبوط کرے گا۔‘
’ہم نے اب ایک قانون بنا دیا ہے کہ آرمی چیف تین نہیں، چھ سال کے لیے آئیں۔ اس طرح ہم اس قانون کو آئینی حلف سے آگے لے گئے اور یہ سب ہمارے پارلیمنٹ نے کیا۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ اس ملک میں خود مختار کون ہے۔۔۔ ادارے یا قانون۔‘