مفتی منیب: کیا رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کی تبدیلی سے پاکستان میں چاند سے متعلق تنازع ختم ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں رمضان اور شوال کا چاند ہمیشہ سے ہی مختلف تنازعات کی زد میں رہتا ہے، کبھی کسی ایک صوبے میں عید کا اعلان پہلے کر دیا جاتا ہے تو کبھی ’سائنس بمقابلہ مذہب‘ کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔
تاہم بدھ کو تقریباً دو دہائیوں سے رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر تعینات مفتی منیب الرحمان کو عہدے سے ہٹا کر ایک نئی 19 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
اس کمیٹی کے نئے چیئرمین لاہور کی بادشاہی مسجد کے موجودہ خطیب اور گذشتہ 15 برس سے رویت ہلال کمیٹی کے رکن عبدالخبیر آزاد ہوں گے۔ اس نئی 19 رکنی کمیٹی میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔
اس موقع پر وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’مسئلہ منیب الرحمنٰ صاحب کا نہیں اس تشریح کا ہے کا جو ہمارا ایک مذہبی طبقہ کرتا ہے، جس کی رو سے علم اور ٹیکنالوجی کو رد کیا جاتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مفتی منیب الرحمان کو تقریباً دو دہائیوں کے بعد عہدے سے ہٹائے جانے پر ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا ہے اور جہاں کچھ افراد اسے پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی قرار دیتے رہے وہیں اکثر افراد مفتی منیب کی تعریف کرتے دکھائی دیے اور انھیں اتنے لمبے عرصے تک خدمات انجام دینے پر خراجِ تحسین پیش کرتے رہے۔
تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کمیٹی کے چیئرمین کی تبدیلی سے ہر سال تنازعے کا باعث بننے والے رمضان اور شوال کے چاند کو دیکھنے کے مراحل میں کیا کوئی تبدیلی آئے گی یا سائنس اور مذہب کے درمیان بحث ایسے ہی جاری رہے گی؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
’شہادتوں پر ہی سارے معاملات طے ہونے ہیں لیکن سائنس سے معاونت لیں گے‘
اس حوالے سے جب رویت ہلال کمیٹی کے نئے چیئرمین عبدالخبیر آزاد سے سوال کیا گیا کہ چاند کی رویت کا تعین کرنے کے حوالے سے کیا تبدیلی آئے گی تو ان کا کہنا تھا کہ ’شہادتوں پر ہی سارے معاملات طے ہونے ہیں، اصل شرعی اصول شہادت ہی ہے لیکن سائنس سے تعاون ضرور لیا جائے گا۔‘
خیال رہے کہ وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری وزارت سنبھالنے کے بعد سے رویت ہلال کمیٹی کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
انھوں نے ان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے سائنس کی مدد سے گذشتہ برس اگلے پانچ برسوں کا قمری کیلینڈر جاری کیا تھا اور ساتھ ہی ایک ایپ بھی جاری کی گئی تھی جس کی مدد سے عام افراد بھی چاند کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے عبدالخبیر آزاد نے بتایا کہ ان کی فواد چوہدری سے ملاقات ہوئی ہے اور ’ان کی اپنی سوچ ہے لیکن ہم کوشش کریں گے کہ تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلیں‘۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا ’میرے خیال میں پہلے بھی کوئی ایسے مسائل نہیں تھے، کچھ غلط فہمیاں ضرور ہو سکتی ہیں اور اس بارے میں فواد چوہدری سے بھی میری بات ہوئی ہے اور جہاں سے بھی ہمیں رہنمائی ملے ہم لیں گے تاکہ شرعی اصولوں کے مطابق فیصلے ہو سکیں۔‘
رویتِ ہلال کمیٹی کے رکن مفتی ضمیر ساجد نے فواد چوہدری کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’ایسی کوئی سوچ تھی بھی نہیں، یہ فواد چوہدری صاحب کی اپنی سوچ ہے۔ اس سے پہلے بھی سائنسی علوم سے تعلق رکھنے والے ماہرین رویت کے رکن تھے اور اب بھی ہیں، ہم نے پہلے بھی اس سے انکار نہیں کیا تھا، اب بھی نہیں کریں گے۔‘
’چاند کا مشاہدہ ضرور کیا جائے گا، شرعی اصولوں کے مطابق چاند کو دیکھا جائے گا۔‘
کیا پاکستان میں ایک ساتھ عید منائی جا سکے گی؟
گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی مسجد قاسم علی خان میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی سربراہی میں ایک غیر سرکاری کمیٹی چاند کی رویت کے حوالے سے فیصلہ کرتی آئی ہے، جس کے باعث ملک بھر میں دو عیدیں ہوتی آ رہی ہیں۔
وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے گذشتہ برس ماہ رمضان کی ابتدا میں ایک پانچ رکنی کمیٹی قائم کی تھی تاکہ آئندہ پورے ملک میں رمضان اور عیدوں کا تعین یہ کمیٹی کر سکے تاہم مسجد قاسم علی خان کی جانب سے شوال کے چاند کی رویت کے اعلان کے بعد صوبے کے بیشتر علاقوں میں سرکاری سطح پر عید الفطر منائی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ ’ہماری سابقہ کمیٹی بھی یہی چاہتی تھی کہ ہم اس حوالے سے مفاہمت سے فیصلے کریں اور ہم اس مرتبہ ان سے جا کر ملاقات بھی کریں گے اور سب کو ساتھ لے کر چلیں اس لیے کوشش ہو گی کہ پورے ملک میں عید ایک ہی دن کی جائے۔‘
مفتی ضمیر ساجد کا کہنا تھا کہ اس بارے میں پراپیگینڈا کیا جا رہا ہے کہ جیسے ’مفتی منیب کو کسی سازش کے تحت ہٹایا گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایسا بالکل بھی نہیں بلکہ رویت ہلال کمیٹی کے لیے قواعد و ضوابط بنانے کے حوالے سے فائل تو نواز شریف دور سے چل رہی تھی۔‘
محکمہ موسمیات کے ایک اہلکار اور میٹریولوجسٹ شہزادہ عدنان کہتے ہیں کہ پاکستان میں چاند کی رویت سے متعلق تنازعات ختم کرنے کے لیے ہمیں مذہبی رہنماؤں اور علما کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کی بھی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ سال کے آغاز میں سورج اور چاند گرہن کے بارے میں بتا دیا جاتا ہے جبکہ چاند کی حرکت کے بارے میں ہم اگلے کئی سال تک پیشگوئی کر سکتے ہیں۔
رویتِ ہلال کمیٹی میں خواتین کیوں شامل نہیں ہیں؟
خواتین کی شمولیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مفتی ضمیر ساجد کا کہنا تھا کہ 'اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، شاید اس حوالے سے اس سے پہلے کسی نے توجہ ہی نہیں دلائی حالانکہ خواتین ہمارے دیگر مراکز میں بھی موجود ہیں۔‘
انھوں نے کہا ’وہ چاہے مذہبی سکالر ہوں یا سائنسی علوم سے تعلق رکھتی ہوں اس حوالے سے کوئی اعتراض نہیں۔‘
یاد رہے کہ رویت ہلال کمیٹیوں میں پاکستان کے محکمہ موسمیات کی جانب سے بھی ایک شخص نامزد کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے میٹرولوجسٹ شہزادہ عدنان کا کہنا تھا کہ محکمہ موسمیات کے کراچی ہیڈ آفس کی جانب سے نام دیے جاتے ہیں اور پھر یہ خواتین کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ زونل رویت ہلال کمیٹیوں میں جائیں لیکن کسی کے لیے لازم نہیں ہوتا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/adeelraja
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ردِ عمل دیتے ہوئے ایک صارف عدیل راجہ نے اسے پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کہا۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے وہ کیا جو کوئی حکومت نہیں کر سکی۔
اکثر صارفین حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کرتے بھی دکھائی دیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’سچی آواز، اچھا کردار اور انتہائی پڑھے لکھے شخص مفتی منیب سے بہتر کوئی نہیں‘ اور ساتھ ہی انھوں نے’ مفتی صاحب کو بحال کرو‘ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ ایک غمگین دن ضرور ہے لیکن اب کم از کم چاند سے متعلق ابہام ختم ہو جائے گا اور دو عیدوں کی روایت بھی ختم ہو گی۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Aati_KHR










