سلیم مانڈوی والا کا نیب کے احتساب کا اعلان: کیا سینیٹ قومی احتساب بیورو کے خلاف تحقیقات کر سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہPTV/Twitter
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’یہ ایک فوجی بیرک جیسی تھی جس کے اندر نیب کا دفتر بنا ہوا تھا، میں اندر گیا تو تفتیشی افسر نے مجھ سے 289 مسنگ (گمشدہ) کنٹینرز کے بارے میں سوال پوچھا۔‘
’جواباً میں نے کہا کہ جب آپ نے 289 کنٹنیرز کا پتا چلا لیا ہے تو پھر یقیناً آپ کے پاس تمام دیگر معلومات بھی ضرور ہوں گی۔ میں نے تفتیشی افسر کو یہ پیشکش بھی کی کہ اگر وہ 289 کنٹینرز میں سے کسی ایک کا بھی نمبر بتا سکتے ہیں تو پھر وہ کمپیوٹر سے اس کنٹینر کا تمام ڈیٹا نکال کر ان کے ساتھ شیئر کر دیں گے۔‘
تین سے چار پیشیوں کے بعد نیب اس مقدمے کو آگے نہیں بڑھاتا اور زیرِ تفتیش (ملزم) افسر سے کہا جاتا ہے کہ یہ انکوائری بند کر دی جائے گی۔
مگر ایسا ہوا نہیں۔ کئی سالوں اور کئی پیشیوں تک یہ معاملہ چلتا ہے یہاں تک کہ مذکورہ افسر نوکری اور ملک چھوڑ کر چلے گئے۔
یہ کہانی ہے عاشر عظیم کی۔ عاشر ویسے تو سی ایس ایس کا امتحان دے کر کسٹمز کے محکمے سے وابستہ ہوئے تھے مگر ان کی اصل وجہِ شہرت نوے کی دہائی کا پاکستانی ڈرامہ ’دھواں‘ بھی ہے جسے انھوں نے لکھا تھا اور اس میں مرکزی کردار بھی ادا کیا تھا۔
بے پناہ شہرت کے باوجود آخر عاشر عظیم سب چھوڑ چھاڑ کر پاکستان سے کیوں چلے گئے؟ عاشر عظیم اپنی زندگی میں آنے والے اس بھونچال کی طویل کہانی کو قومی احتساب بیورو (نیب) سے جوڑتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کینیڈا سے اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے عاشر عظیم نے دعویٰ کیا کہ نیب نے اُن کے خلاف ایسے مقدمات قائم کیے جن میں وہ صفائی دینے کے باوجود سالہا سال نیب کے بھنور سے باہر نہ نکل سکے۔
اس معاملے میں عاشر اکیلے نہیں ہیں بلکہ کچھ حلقوں کی جانب سے نیب پر اس نوعیت کے الزام بارہا عائد کیے جاتے ہیں۔ تاہم نیب ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
احتساب بیورو کے احتساب کا اعلان
پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے رواں برس دو سو کے قریب ملزمان کے خلاف کئی برسوں سے جاری تحقیقات کے عمل کو روک دیا ہے۔ نیب نے یہ واضح کیا ہے کہ اس کارروائی کو روکنے کا اثر مستقبل کے کسی مقدمے پر نہیں ہو گا۔
تاہم نیب نے یہ وضاحت نہیں دی ہے کہ عدم ثبوت کی بنیاد پر بند کی گئی تفتیش کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا جائے گا اور اس عرصے میں بری ہونے والے ملزمان کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ کیسے ممکن بنایا جائے گا؟
پاکستان میں پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے اس بیان کے بعد کہ وہ سینیٹ کے پلیٹ فارم سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے خلاف آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں گے، نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ذہن میں ایک سوال تو یہی آتا ہے کہ کیا سینیٹ نیب سمیت کسی بھی ادارے کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے؟

ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے مطابق نیب نے کئی بے گناہ لوگوں کی زندگی اجیرن بنائی ہے اور ایسے افراد کی بھی ایک طویل فہرست ہے جن سے بلیک میلنگ کے ذریعے ڈیل کر کے پیسہ لیا گیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ نیب کی حراست میں کچھ افراد کی موت بھی واقع ہوئی ہے اور ایسے بھی لوگ ہیں جنھوں نے نیب کے ہتک آمیز رویے سے تنگ آ کر خود کشی کر لی۔
انھوں نے ایسے افراد کی فہرست بھی جاری کی ہے۔ تاہم نیب نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور اپنی وضاحت میں کہا کہ دنیا بھر میں ڈیل (پلی بارگین) کے ذریعے ملزمان سے پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔
نیب کے احتساب کے اعلان پر پارلیمانی امور کے ماہرین کی رائے
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ وہ سینیٹ کے پلیٹ فارم سے نیب کا احتساب یقینی بنائیں گے۔
اس احتساب کی مزید وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان تحقیقات کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ نیب افسران کی تعیناتی کس طرح سے ہوئی ہے، ان کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کی جائے گی کہ وہ جعلی ہیں یا اصلی اور تمام نیب حکام کے اثاثوں کی بھی چھان بین کی جائے گی۔
مگر پارلیمانی امور کے ماہرین کی رائے اس معاملے پر منقسم ہے۔
سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد نے بی بی سی کو بتایا کہ بظاہر تو سلیم مانڈوی والا کا دعوی درست نہیں لگتا۔ وسیم سجاد کی رائے میں سینیٹ کسی محکمے کے خلاف آزادانہ تحقیقات کا حکم نہیں دے سکتا ہے۔
وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے پاس ایوان کی کارروائی آگے بڑھانے جیسے اختیارات تو ضرور ہوتے ہیں جیسے وہ کسی رکن کی رکنیت معطل کر دے، رولنگ دے دے یا رولز کی وضاحت کر دے۔
تاہم وسیم سجاد کے خیال میں سینیٹ کی کمیٹیاں بااختیار ہوتی ہیں اور وہ کسی معاملے پر تفتیش کر سکتی ہیں۔
سینیٹ کے سابق ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کی رائے میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ، کو بڑے اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور ان ایوانوں میں بہت سارے معاملات زیر بحث آتے ہیں۔ ان کی رائے میں نیب کے خلاف تفتیش ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
غفور حیدری کا کہنا ہے کہ نیب تو بڑی سیاسی جماعتوں کی وجہ سے قائم ہے وگرنہ ہم تو نیب کے حق میں نہیں رہے اور ہم مختلف مواقع پر یہ کہتے رہے کہ نیب جو کر رہا ہے وہ درست نہیں ہے۔
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نیب کے مقدمات میں جتنے بھی فیصلے سامنے آئے ہیں ان پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔
نیب کے خلاف غیر انسانی سلوک اور بلیک میلنگ جیسے الزامات میں کتنی سچائی ہے؟
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے نیب کے خلاف غیر انسانی سلوک اور بلیک میلنگ کے ذریعے والنٹری ریٹرن اور پلی بارگین کے ذریعے پیسے حاصل کرنے جیسے الزامات کو جانچنے کے لیے نیب کی کارکردگی اور اس احتساب کے ادارے کے بارے میں دیگر شواہد کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
چند دن قبل پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملزمان کی کسی بھی ریفرنس میں 90 دن تک نیب کی حراست میں رہنے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ نیب کی طرف سے کسی ایک ہی ملزم پر کئی ریفرنسز بنائے جاتے ہیں اور پھر ہر ریفرنس میں نیب ایسے ملزم کی حراست حاصل کرتا ہے، جس پر عدالت کو تشویش ہے۔
عدالت کے تین رکنی بینچ نے مسلسل 90 دن کی حراست کے بعد پھر حراست کو ظالمانہ اور ناانصافی پر مبنی عمل قرار دیا۔
اس سے قبل ایک مقدمے کی سماعت کے دوران پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نیب کے والنٹری ریٹرن پر پابندی بھی عائد کر چکی ہے اور نیب سے کہا ہے کہ وہ اپنی تفتیش کو بہتر کر کے بدعنوانی کے خلاف پیش رفت یقینی بنائے۔
نیب سے متعلق تحریک انصاف کی حکومت نے بھی ایک آرڈیننس جاری کیا تھا جس میں نیب کے اختیارات کو محدود کیا تھا۔ مگر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے یہ آرڈیننس اپنی مدت پوری کر کے ختم ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سلیم مانڈوی والا نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کو نیب کے خلاف قانون سازی اور نیب کے قانون میں ترمیم متعارف کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
ان کے مطابق نیب صرف سیاستدانوں کا تعاقب کرتا ہے۔ اس سے قبل نیب کے رویے پر متعدد سیاستدانوں نے بھی ایسی شکایات کی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کے مقدمے میں سپریم کورٹ نے نیب کی تحقیقات پر متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے یہ بھی قرار دیا ہے کہ نیب تعاقب کر کے مقدمات قائم کرتا ہے۔
اس وقت اس جماعت سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نیب کی حراست میں ہیں۔ ان کے بیٹے حمزہ شہباز بھی نیب کے مقدمات میں سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ وہ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پرسنل سیکریٹری فواد حسن فواد کو بھی نیب نے حراست میں لیا اور پھر انھیں رہائی مل گئی۔
یہی معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی کا بھی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری سمیت نیب نے اس جماعت کے متعدد رہنماؤں جن میں دو سابق وزرائے اعظم، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف، کے خلاف مقدمات قائم کر رکھے ہیں اور پیپلز پارٹی اسے انتقامی کارروائی سے تعبیر کرتی ہے۔
جہاں تک بات ہے بزنس کیمونی کی تو نیب کے خلاف متعدد کاروباری شخصیات نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کیں اور انھیں اپنی شکایات سے آگاہ کیا۔
ایسی ہی ایک ملاقات کے بعد نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بزنس کمیونٹی کے لیے رعایتوں کا اعلان کیا۔
نیب کی ریکوری کی حقیقت کیا ہے؟
نیب کی رپورٹ کے مطابق ادارے نے سنہ 2017 اور 2018 میں والنٹری ریٹرن اور پلی بارگین سے کل پانچ ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔ اگر اس رقم میں عدالتی جرمانوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ آٹھ ارب روپے بن جاتے ہیں یعنی کل 13 ارب کی ریکوری ممکن ہو سکی ہے۔
نیب نے دیگر اداروں کی طرف سے بھی ہونے والی ریکوریوں کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے اور ادارے کی کارکردگی رپورٹ میں ان کو بالواسطہ ریکوری کی مد میں ظاہر کیا گیا ہے۔ ان تمام رقوم کو بھی شامل کیا جائے تو کل حساب 38 ارب تک پہنچ کر رک جاتا ہے۔
ایک موقع پر نیب کا موقف میڈیا پر خوب چلا تو چند ہفتوں میں ہی جسٹس جاوید اقبال کے ادارے نے ریکوری کا دعوی بڑھا کر 153 ارب کر دیا۔ یعنی ایک سے دو ماہ کے اندر نیب نے 82 بلین مزید ریکور کر لیے۔
اس ریکوری کے حوالے سے نیب کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ جلد تفصیلات بھی منظر عام پر لے آئیں گے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس میں بلاواسطہ اور بالواسطہ رقوم بھی شامل ہیں۔
نیب کی درجہ بندی کے مطابق زیادہ تر ریکوری سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے بینک قرض ڈیفالٹرز کی صورت اور بلواسطہ طریقوں سے ہوئی ہے یعنی جس میں نیب کا براہ راست کوئی کردار نہیں ہوتا۔
’اِن ڈائریکٹ‘ یعنی بلواسطہ ریکوری وہ ہوتی ہے جیسے عدالت کسی مقدمے میں کسی ملزم کو کہتی ہے کہ وہ اتنے پیسے قومی خزانے میں جمع کرا دے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک ملک ریاض کو 460 بلین قومی خزانے میں جمع کرانے حکم دیا ہے۔
ملک ریاض جیسے جیسے رقم سپریم کورٹ میں جمع کرا رہے ہیں، نیب بھی اس جمع شدہ رقم کو اپنی دستاویزات میں اِن ڈائریکٹ ریکوری میں ظاہر کر رہا ہے۔ نیب ترجمان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر نیب کا ہی ریفرنس تھا جس کی بنیاد پر پیسے قومی خزانے میں جمع کرائے جا رہے ہیں۔
سپریم کورٹ کے بحریہ ٹاؤن سے متعلق بینچ میں شامل ججز نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران ہی نیب پر یہ واضح کردیا تھا کہ سپریم کورٹ کی کارکردگی کو وہ اپنے کھاتے میں مت ڈالیں۔
تاہم نیب ترجمان کے مطابق جو پیسہ قومی خزانے میں چلا جاتا ہے تو ریکوری کی تمام اقسام میں نیب کا کردار ضرور شامل ہوتا ہے۔
اگر چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے دور پر نظر دوڑائی جائے تو نیب نے ان کے دور میں ریکور ہونے والے پیسے کی زیادہ تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں۔ اس وقت ریکور کی جانے والی رقم کا بڑا حصہ سابق چیئرمین نیب میجر ریٹائرڈ قمر زمان سے متعلق ہے۔










