فیاض الحسن چوہان سے اطلاعات کا قلمدان لے لیا گیا، فردوس عاشق اعوان نئی معاون خصوصی

وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ فیاض الحسن چوہان سے اطلاعات کا قلمدان واپس لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ فیاض الحسن چوہان صوبائی کابینہ سے باہر نہیں ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پاس محکمہ کالونیز کا بھی چارج ہے جو ان سے واپس نہیں لیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے فردوس عاشق اعوان کی بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے جس کے مطابق انھیں محکمہ اطلاعات کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں۔

فردوس عاشق اعوان کچھ عرصہ قبل وفاق میں وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات تھیں۔ حکومت نے ان کی جگہ شبلی فراز کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جبکہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کیا تھا، جس سے انھوں نے بعد میں نجی مصروفیات کو وجہ بتا کر استعفی دے دیا تھا۔

تحریک انصاف نے پنجاب کی کابینہ میں مزید ردوبدل کرتے ہوئے مزید دو وزرا مہر اسلم اور زوار حسین کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ مہر محمد اسلم کے پاس کوآپریٹوز جبکہ زوار حسین وڑائچ کے پاس جیل خانہ جات کی وزارت تھی۔

یہ بھی پڑھیے

فیاض الحسن چوہان اور تنازعات

واضح رہے کہ فیاض الحسن چوہان کا نام ماضی میں کئی تنازعات میں سامنے آتا رہا ہے۔

گذشتہ برس مارچ میں ہندو برادری کے بارے میں ’تضحیک آمیز‘ بیان دینے کی پاداش میں پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ فیاض الحسن چوہان کے ہندو برادری کے بارے میں ’ہتک آمیز‘ بیان کی وجہ سے ان کو عہدے سے ہٹایا گیا۔ حکمراں جماعت نے موقف اختیار کیا تھا کہ ’کسی عقیدے کو برا بھلا کہنا کسی بیانیے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے اور پاکستان کی بنیاد ہی رواداری کے اصول پر ڈالی گئی تھی‘۔

پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت کی حیثیت سے بھی فیاض الحسن چوہان سوشل میڈیا پر زیر بحث رہے۔

فیاض الحسن چوہان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اداکارہ نرگس سے معذرت طلب کی تھی۔ ویڈیو پیغام میں فیاض الحسن چوہان نے کہا تھا کہ 'ایک ثقافتی شو میں مجھ سے تھیئٹر کے حوالے سے سوال کیا گیا جس پر جواب دیتے ہوئے اداکارہ نرگس کے بارے میں ایک لفظ نکل گیا جس پر میں ان سے معافی مانگتا ہوں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اداکارہ نرگس فن کی دنیا ایک روشن ستارہ ہیں اور ان کا ملک کی فلم انڈسٹری میں ان ایک اہم مقام ہے۔' اس کے علاوہ انھوں نے نجی ٹی وی چینلز کوہ نور اور رائل نیوز سے بھی معذرت کی تھی۔

پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر نعیم حنیف نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں فیاض الحسن چوہان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے انھیں عہدہ وزارت سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

نعیم حنیف کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر نے میڈیا کے نمائندوں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی جس پر تاحال انھوں نے معذرت نہیں کی۔

فیاض الحسن چوہان اس وقت سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنے جب انھیں پنجاب میں اطلاعات و ثقافت کا قلمدان سونپا گیا۔