صدر ٹرمپ نے پاکستان کا ذکر کب کب اور کہاں کہاں کیا؟

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ثقلین امام
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں نو ایسی ٹویٹس پوسٹ کی ہیں جن میں پاکستان کا ذکر ہے، اور ان میں سے ایک ایسی ہے جو پوسٹ کرنے کے بعد ڈیلیٹ کردی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے پچاس بار مختلف موقعوں پر پاکستان کا ذکر کیا ہے۔

'فیکٹ بیس' ویب سائٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کا پاکستان کے بارے میں سب سے پہلا بیان اکتوبر سنہ 1999 میں جاری ہوا تھا جس میں انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے خطرے کے حوالے سے پاکستان کا نام لیا تھا۔ اس کے بعد اسی برس نومبر میں انھوں نے شمالی کوریا، چین اور انڈیا کے ساتھ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا ذکر کیا۔

'سیدھے ہو جاؤ: پاکستان ہمارا دوست نہیں ہے'

تاہم اپنے دورہ صدارت سے قبل کے عرصے میں بھی انھوں نے پاکستان کے بارے میں کئی مرتبہ ٹویٹس پوسٹ کیں جن میں سب سے پہلی ٹویٹ انھوں نے سنہ 2011 میں پوسٹ کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 'سیدھے ہو جاؤ: پاکستان ہمارا دوست نہیں ہے۔'

ان کی آخری ٹویٹ جس میں پاکستان کا ذکر تھا وہ انھوں نے اِس برس 22 جنوری کو پوسٹ کی تھی جس میں انھوں نے ڈیموکریٹ پارٹی پر یوکرین اور پاکستان کے علاوہ کئی ملکوں کی امریکی امداد بد عنوانی کی نیت سے روکنے کا الزام عائد کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں اپنا آخری بیان پاکستان وزیرِ اعظم عمران خان سے کورونا وائرس میں امریکی تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور انہوں نے وینٹیلیٹرز دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے ایسا کوئی موقع نہیں بنا ہے کہ انھوں نے پاکستان کا ذکر کیا ہو۔

یہ بھی پڑھیے

ری پبلکن پارٹی کے امیدوار بننے سے پہلے انھوں نے سنہ 2011 اور سنہ 2012 میں دونوں مرتبہ یہی کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کا دوست نہیں ہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے کہا کہ 'ہمیں اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کے لیے ہم نے سیل بھیجے' اور دوسری ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ 'امریکہ نے پاکستان کو اربوں ڈالرز دیے، انھوں نے کچھ نہیں کیا۔'

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان اور سینٹ برنارڈینو کا دہشت گرد حملہ

اس سے پہلے مسٹر ٹرمپ نے سنہ 2012 میں جولائی میں ایک اور ٹویٹ پوسٹ کی تھی جس میں انھوں نے سوال کیا تھا کہ 'اسامہ بن لادن کو 6 برس تک محفوظ پناہ گاہ دینے پر پاکستان ہم سے معافی کب مانگے گا۔' اس کے بعد جون سنہ 2014 ہیں میں انھوں نے امریکہ کی عراق، افغانستان اور پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے تھے۔

اس کے بعد جولائی سنہ 2014 میں مسٹر ٹرمپ نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ایران، شمالی کوریا اور پاکستان کی جوہری صلاحیتوں پر استفسار کیا تھا: ' کیا آپ کو معلوم ہے کہ شمالی کوریا، ایران اور پاکستان کے پاس ممالک جوہری ہتھیار موجود ہیں؟'

سنہ 2016 میں ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے انھوں نے پاکستان کا ذکر کیلیفورنیا کے ایک شہر سینٹ برنارڈینو میں ایک پاکستانی نژاد جوڑے کے مقامی شہریوں پر دہشت گردی کے حملے کا بعد کیا تھا۔ دسمبر سنہ 2015 میں یہ حملہ ہوا تھا جس میں 14 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے تھے۔

مارچ سنہ 2016 نے پاکستان میں مسیحی عورتوں اور بچوں پر دہشت گردی کے حملے کا ذکر کیا تھا جس میں 67 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 400 افراد زخمی ہوئے تھے۔ انھوں نے اسی ٹویٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ 'صرف میں (اسے مسئلے کو) حل کر سکتا ہوں۔'

انتخابی مہم میں پاکستان

صدر ٹرمپ کی تقریروں میں پاکستان کا ذکر جون سنہ 2016 میں پھر سے بڑھا جب سینٹ برنارڈینو کے دہشت گردی کے حملے کا انہیں اپنی انتخابی مہم میں فائدہ نظر آنے لگا۔ اس حملے میں ایک پاکستانی نژاد جوڑا عام امریکیوں کے قتل کا ذمہ دار تھا۔ 'ان میں امیگرنٹ کا بیٹا تھا جو اپنی بیوی کو بھی لے آیا تھا۔' اس میں پاکستان کا ذکر بھی آیا۔

اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کا ذکر غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کے حوالے سے کیا۔ غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کے سلسلے میں ٹرمپ نے قندیل بلوچ کے قتل کا ذکر اس کا نام لیے بغیر کیا تھا:'حال ہیں میں سوشل میڈیا کی ایک سٹار کو اس کے بھائی نے گلا دبا کر ہلاک کردیا۔'

اگست سنہ 2016 کے کئی بیانات میں انھوں نے پاکستان کا ذکر کیا۔ یہ سلسلہ ستمبر میں بھی جاری رہا۔ 'پیو انٹرنیشنل' کی ایک ریسرچ رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا 'افغانستان اور پاکستان میں عزت کے نام پر عورتوں کے قتل کو درست سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اپنا مذہب ترک کرنے والوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔'

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صدر منتخب ہونے کے بعد

انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد بھی ان کی تقریروں یا ٹویٹس میں پاکستان کا ذکر نہیں آتا ہے۔

پھر اچانک مئی سنہ 2017 میں افغانستان میں ہلاک ہونے والے ایک امریکی فوجی کے میموریل سروس میں شریک ہو کر وہ پاکستان کا ذکر کرتے ہیں۔ 'اپنی تعیناتی کے صرف تین ماہ بعد کرِس پاکستانی سرحد کے پاس تھا جہاں وہ ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے ہلاک ہوا۔'

سنہ 2017 میں اگست کی 10 تاریخ کو ایک پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے نجات دلانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جوہری ہتھیار موسمیاتی حدت سے بڑا خطرہ ہے۔ 'میں روس، چین، پاکستان اور تمام وہ ممالک جن کے پاس جوہری ہتھیار ہیں کہتا ہوں کہ وہ ان سے نجات حاصل کریں۔'

اسی برس 21 اگست کو انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان اور اس کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی خطرات بہت زیادہ ہیں۔ 'اس وقت افغانستان اور پاکستان میں 20 دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں جو دنیا کے کسی بھی خطے میں ایک ہی جگہ پر سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔

13 اکتوبر سنہ 2017 میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ کئی برسوں تک امریکہ کا بہت زیادہ ناجائز فائدہ اٹھایا، 'لیکن اب ہم پاکستان سے حقیقی تعلقات بنانے کا آغاز کر رہے ہیں۔' اسی دن انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ 'ہم از سرِنو تعلقات کا آغاز کر رہے ہیں جس کے لیے میں ان کے لیڈروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔'

اسی برس دسمبر کی 17 تاریخ کو قومی سلامتی کی پالیسی کے بارے میں تقریر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب ہم اپنی کارروائیوں کے بارے میں دوسروں کو آگاہ نہیں کرتے اس لیے ہمیں بہتر نتائج ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ 'اور ہم نے پاکستان سے تعاون جاری رکھنا ہے لیکن انہیں بتا دیا ہے کہ ہمیں نتائج چاہیے ہیں، ہم بہت بڑی رقم ادا کرتے ہیں۔'

دسمبر کی 28 تاریخ کو انھوں نے پاکستان کے ایک نامعلوم شخص کا ذکر کیا جس کا، بقول ان کے، ہیلری کلنٹن کے اس کمپیوٹر میں ذکر تھا جو ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن کے لیے کام کرتا تھا۔ مسٹر ٹرمپ کا مطالبہ تھا کہ اس نامعلوم پاکستانی کو ایف بی آئی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کرنے کی وجہ سے شامل تفتیش کرے۔

امریکہ کی 33 ارب ڈالرز کی امداد

اس کے تین دنوں بعد ان کی وہ مشہور و معروف ٹویٹ جاری ہوتی ہے جو پاکستان اور اس خطے کو ہِلا کر رکھ دیتی ہے:

'31 دسمبر کی رات کو ٹویٹ پوسٹ کر کے کہتے ہیں کہ 'امریکہ نے 15 برسوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالرز کی امداد احمقانہ انداز میں دی، اور ہمارے لیڈروں کے بے وقوف سمجھتے ہوئے انھوں نے ہمیں چھوٹ اور دھوکہ کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ انھوں نے ان دہشت گردوں کو پناہ دی جنہیں ہم افغانستان میں پکڑنا چاہتے۔'

دو جنوری سنہ 2018 کو انھوں نے ایک اور ٹویٹ پوسٹ کی 'یہ صرف پاکستان ہی نہیں ہے جسے ہم بغیر فائدے کے اربوں ڈالرز دیتے ہیں۔' انہوں نے فلسطینیوں کو بھی دی جانے والی امداد کا گلہ کیا کہ انہیں امریکہ کروڑوں ڈالرز دیتا ہے لیکن اس کی کوئی قدر نہیں کرتا ہے۔

ہیلری کلنٹن اور 'پاکستانی فراڈسٹر'

سنہ 2018 میں اپریل کی 20 تاریخ کو ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ اُس پُر اسرار پاکستانی کا دوبارہ سے ذکر کرتے ہیں جس کا بقول ان کے، ہلری کلنٹن کے غائب ہوجانے والے کمپیوٹر میں ذکر تھا۔ وہ ایف بی آئی سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ کارروائی کرے۔ تاہم بعد میں انھوں نے اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ کر دیا تھا۔

اس کے بعد 7 جولائی کو انھوں ایک مرتبہ پھر ہلری کلنٹن اور ڈیموکریٹس کے بارے میں انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کیا۔ انھوں نے اس ٹویٹ میں اس پاکستانی کا بھی ذکر کیا۔ اس مرتبہ انھوں نے اس کا 'پاکستانی فراڈسٹر' کہہ کر ذکر کیا اور ان سب کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا۔

اسی معاملے پر 16 جولائی سنہ 2108 کو انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 'اُس سرور کو ڈھونڈے بغیر کوئی بات نیں کی جا سکتی ہے۔ اُس پاکستانی کا سرور (کمپیٹور) کہاں گیا جو ڈی این سی کے لیے کام کرتا تھا۔ وہ سرورز (کمپیوٹرز) کہاں ہیں۔'

پھر اگلے دن ہیلسنکی میں اسی موضوع پر ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے انھوں نے پاکستانی کمپوٹر والے نامعلوم شخص کا ذکر کیا۔ اگست کی 30 تاریخ کو بلومبرگ سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس پاکستانی کا مبہم انداز میں نام بھی لیا 'اعوان فرام پاکستان۔'

صدر ٹرمپ نے 18 نومبر کو معروف امریکی صحافی کرس ویلیس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 'اسامہ بن لادن پاکستان میں ایک مینشن میں رہ رہا تھا۔ وہ ملٹری اکیڈمی کے قریب رہ رہا ھا اور ہم انہیں سوا ارب ڈالر سالانہ دے رہے تھے۔ میں نے یہ رقم بند کردی کیونکہ وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کر رہے تھے۔'

19 نومبر کو صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا 'ہمیں اسامہ بن لادن کو کافی پہلے پکڑ لینا چاہیے تھا۔ میں نے اس کا ذکر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے سے پہلے میں نے اپنی کتاب میں کیا تھا۔ صدر کلنٹن نے موقع ضائع کیا۔ ہم نے پاکستان کو اربوں ڈالرز دیے اور انھوں نے ہمیں اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ احمق!'

اگلے دن یعنی 20 نومبر سنہ 2018 کو انہوں نے امریکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'میں چاہتا ہوں کہ پاکستان ہماری مدد کرے۔ ہم اب پاکستان کو ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز نہیں دے رہے ہیں۔ ہم ان کو کچھ بھی نہیں دے رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ہمارے مدد کے لیے کچھ نہیں کیا۔'

سنہ 2019 میں 2 جنوری کو صدر ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ 'ہم پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات بنانا چاہتے ہیں لیکن وہ ہمارے دشمنوں کو بناہ دیتے ہیں۔ اس لیے میں پاکستان کے نئے رہنما اور ان کے نئے لوگوں سے ملاقات کا منتظر ہوں۔ اس کام میں زیادہ تاخیر نہیں ہو گی۔' اس اجلاس میں پاکستان کا بار بار ذکر ہوا۔

اسی طرح صدر ٹرمپ نے 10 جنوری کو شین ہینیٹی کے ساتھ انٹرویو میں پاکستان سے مختلف قسم کے بیانات کا ذکر کیا۔ اور پھر ایک خاموشی۔ ڈیڑھ سو کے قریب میکسیکو سے آنے والے غیر قانونی تاریکین وطن سرحد عبور کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے 14 جنوری کو ایک تقریر میں اعلان کیا کہ ان میں تین پاکستانی بھی تھے۔

پلواما حملہ اور فضائی لڑائی

جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان پلواما میں خودکش حملے کے بعد تعلقات خراب ہوئے تو صدر ٹرمپ نے 22 فروری کو چینی رہنما لیو ہی کے ہمراہ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ 'اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان بہت خراب حالات ہیں اس لیے اس میں مداخلت کرنا بہت ہی خطرناک ہوگا۔'

پھر انہوں نے 28 فروری کو کہا کہ پاکستان اور انڈیا سے اچھی خبریں آرہی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب انڈیا اور پاکستان کی فضاییہ اپنی اپنی کارروائی مکل کر چکے تھے۔ 'وہ ہمارے کہنے پر عمل کر رہے ہیں اور ہم انہیں تصادم سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

انھوں نے اس موقع پر اپنی امید کا اظہار کیا تھا کہ دونوں کے درمیان کشیدگی کم ہونے جا رہی ہے۔ انھوں نے اس دوران پاکستان کا نام درجن ایک مرتبہ لیا۔ 20 مارچ کو امریکی میرین ملاقات کے بعد پریس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان سے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور وہ ملاقات کریں۔

'میرا خیال ہے کہ اب ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں۔' 17 جولائی کو انھوں نے ممبئی میں حملے کے مبینہ ماسٹر مائینڈ کی پاکستان میں گرفتاری پر کہا کہ یہ کامیابی امریکی دبؤ کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے: 'ہم نے دو برسوں سے دباؤ ڈالا ہوا ہے۔'

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مسئلہِ کشمیر اور مصالحتی کردار

جب پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان امریکہ کے سرکاری دورے پر گئے تو وہاں صدر ٹرمپ نے ان کا نہ صرف گرمجوشی سے استقبال کیا بلکہ پریس بریفنگ کے دوران پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کے مسئلے میں مصالحتی کردار ادا کرنے کی بھی پیش کش کی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'دہشت گردی، فوجی تعاون اور باہمی تجارت کے لیے پاکستان کو سہولتیں دیے جانے کے امور پر بھی بات چیت ہوئی' اور ایک مرتبہ پھر سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں برف پگھلنا شروع ہو گئی۔

جب انڈیا ان کی مصالحت کی پیش کش پر چراغ پا ہوا تو صدر ٹرمپ نے یکم اگست سنہ 2019 میں عمران خان کے پاکستان واپس جانے کے بعد وضاحت دی کہ امریکی کردار انڈین وزیرِ اعظم مودی کے راضی ہونے پر ہو گا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے عمران خان کی کافی تعریف کی۔

2 اگست کو انھوں نے اپنے صدارتی ہیلی کاپٹر پر روانگی سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'میں پاکستان سے پچھلے ہفتے آنے والے ایکس ایسے شریف شخص سے ملا ہوں جسے میں پسند کرتا ہوں۔ اس سے ملاقات خوشگوار رہی اور ہماری کیمسٹری ملتی ہے۔'

19 اگست کو صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے 'تجارت، سٹریٹیجک پارٹنرشپ پر بات چیت کی، اور خاص کر انڈیا اور پاکستان دونوں سے کہا کہ وہ کشمیر میں کشیدگی کم کریں۔ حالات سنگین ہیں مگر گفتگو اچھی تھی۔'

اگست کی 21 تاریخ کو صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سب کو جنگ کرنا ہو گی۔ اور اسی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اس میں روس، ایران، ترکی، عراق، افغانستان کے ساتھ پاکستان اور انڈیا کا بھی نام لیا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگست کے آخری ہفتے میں انڈیا کے سرکاری دورے پر گئے۔ وہاں 26 اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد انھوں نے صحافیوں سے بات چیت کی اور کہا کے دیگر امورکے علاوہ انھوں نے کشمیر کے مسئلے پر بھی بات کی۔

'ہم نے گذشتہ شب کشمیر پر بھی بات کی۔ اور وزیرِ اعظم محسوس کرتے ہیں کہ حالات ان کے قابو میں ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ ان کی پاکستان سے بات چیت ہو رہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ دونوں اپنی بہتری کے لیے کچھ کریں گے۔ میں نے گذشتہ شب اس موضوع پر تفصیلی بات کی۔'

اگلے ماہ یعنی ستمبر کی 9 تاریخ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک مرتبہ پھر کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'اگر دونوں ممالک چاہیں تو وہ مدد کے لیے تیار ہیں۔ میں ان دونوں کی مدد کے لیے تیار ہوں۔ انہیں معلوم ہے کہ ہم تیار ہیں۔'

اسی ماہ کیونکہ مختلف ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرنے امریکہ آرہے تھے تو اس موقع پر ستمبر کی 16 تاریخ کو صدر ٹرمپ نے کہ وزیرِ اعظم مودی سے ملاقات کریں گے، 'ہم پاکستان اور انڈیا (کہ رہنماؤں) سے ملیں گے۔ اور میرے خیال میں کافی پیش رفت ہوچکی ہے۔'

دو روز کے بعد انھوں نے پھر کہا کہ ان کے انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور ساتھ ساتھ پاکستان اور انڈیا دونوں کے ساتھ زبردست تعلقات ہیں۔ 23 ستمبر کو اقوام متحدہ ہی میں صدر ٹرمپ کی پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا اعادہ کیا۔

اگلے دن صدر ٹرمپ کی ملاقات انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے ہوئی۔ مودی نے صدر ٹرمپ سے پاکستان کی 'دہشت گردی' کا ذکر کیا تو انہوں نے ایران کی دہشت گردی کا بھی ذکر کیا۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ 'وزیر اعظم مودی اور وزیراعظم عمران خان دونوں جب مل کر کام کریں گے تو ایک دوسرے کو جاننا شروع کردیں گے'۔

نیو یارک میں اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے سٹاف سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مختلف عالمی رہنماؤں سے اپنی ملاقاتوں کا جب ذکر کیا تو انھوں نے فخر سے کہا کہ 'کئی ایک بہت اچھی باتیں ہو رہی ہیں جن میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان مسائل پر بات چیت، شمالی کوریا پر بات چیت ہو رہی ہے۔'

اس کے بعد صدر ٹرمپ پاکستان کا ذکر جنوری کی 21 تاریخ سنہ 2020 میں اس وقت کرتے ہیں جب ان کی پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ ورلڈ اکنامکس فورم ڈیووس میں ملاقات کرتے ہیں۔

'ہم دونوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں۔ ہم جتنے اب پاکستان کے قریب ہیں پہلے کبھی بھی نہیں رہے۔'

اگلے دن جب صدر ٹرمپ ایک امریکی چینل سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہیں تو وہ اپنی کارکردگی بیان کرتے ہوئے دیگر ممالک کے علاوہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن اسی دن وہ ڈیموکریٹس پر تنقیدوالی ری ٹویٹ کرتے ہیں۔

'ڈیموکریٹس اور شیفٹی شیف جن کی سینیٹ کے سامنے پیش کی گئی رپورٹ جھوٹ اور غلط بیانی سے بھری ہوئی تھی، اب یہ بیان کرنے سے گریز کر رہے ہیں کہ اوبامہ انتظامیہ نے جن ملکوں کی امداد روکے رکھی ان میں مصر، ہونڈوراس، میکسیکو اور یوکرین سمیت پاکستان بھی شامل تھا۔'

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نمستے ٹرمپ اور پاکستان

سنہ 2020 میں فروری کی 24 تاریخ کو جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے احمدآباد، انڈیا میں 'نمستے ٹرمپ' تقریب میں شرکت کی تو انہوں نے جہاں انڈیا سے اچھ تعلقات کا ذکر کیا تو ساتھ ہی پاکستان کے بارے میں بھی کہا کہ 'ہمارے پاکستان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔'

اگلے دن انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ہمراہ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'ہمارے مذاکرات کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی اور میں نے اس بات کا عزم کیا کہ ہم اپنے شہریوں کو اسلامی دہشت گردی سے محفوظ رکھیں گے۔ اور اسی لیے امریکہ ایسے دہشت گردوں سے لڑنے کے لیے پاکستان سے مل کر بامقصد کام کر رہا ہے۔'

اسی برس فروری ہی کی 29 تاریخ کو جب کورونا وائرس کی وبا پھوٹی تو صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے تعاون کا ذکر کیا۔ 22 اپریل سنہ 2020 کو صدر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر بات کی اور پاکستان کی کورونا وائرس کے خلاف کاوشوں میں مکمل تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔