امریکی صدارتی انتخاب 2020: امریکہ کا اگلا صدر کون ہو گا؟ آپ فیصلہ کریں

اس سال ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب میں ہار اور جیت کا فیصلہ صرف چند امریکی ریاستوں کے نتائج پر منحصر ہو سکتا ہے۔
عام خیال یہی ہے کہ زیادہ تر ریاستیں کسی ایک امیدوار کو چنیں گی۔ اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو 188 جبکہ جو بائیڈن کو 233 ووٹ دیے ہیں۔
کیا جو بائیڈن بالآخر امریکی صدر بننے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مدت کے لیے صدر رہیں گے۔
یہ دوڑ 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے کی ہے اور اس کا فیصلہ آپ بھی کر سکتے ہیں۔
ہم نے ان ریاستوں کا انتخاب کیسے کیا ہے؟
امریکی انتخابات میں ریاستوں کے نتائج فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ ہر ریاست کے پاس اس کی آبادی کے لحاظ سے مخصوص ’الیکٹورل ووٹ‘ ہوتے ہیں اور بہت سی ریاستوں میں یہ ووٹنگ کم و بیش توقع کے مطابق ہوتی ہے۔
دو غیر جانبدار امریکی ذرائع، ریل کلیئر پولیٹیکس اور دی کک پولیٹیکل رپورٹ مختلف ریاستوں کی فہرست جاری کرتے ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہوتا ہے کہ وہ انتخابات میں ووٹ کس کو دے سکتے ہیں۔ بہت سی ریاستوں کو 'ٹاس اپ‘ کا درجہ دیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہاں دونوں میں سے کوئی بھی امید وار کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔
ہم نے سات 'ٹاس اپ‘ ریاستوں کا انتخاب کیا ہے جن کے پاس اتنے الیکٹورل ووٹ ہیں کہ وہ صدارتی امیدوار کو فتح دلوانے کے لیے کافی ہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے ان ریاستوں کو بھی دکھایا ہے جہاں کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ صدر ٹرمپ نے 2016 میں ان تمام ریاستوں میں کامیابی حاصل کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امیدواروں کو پہلے ہی سے کچھ ووٹ کیوں دیے گئے ہیں؟
ہم نے ان ریاستوں کے الیکٹورل ووٹ مذکورہ امیدواروں کو دیے ہیں جہاں ان کی کامیابی کی توقع ہے۔ اس کا مطلب ہے اس کھیل میں صدر ٹرمپ 188 جبکہ جو بائیڈن 233 ووٹوں سے شروعات کر رہے ہیں۔
کیاالیکشن کا نتیجہ ٹائی یا برابر ہوسکتا ہے؟
تکنیکی لحاظ سے ایسا ممکن ہے۔ کل ملا کر 538 الیکٹورل ووٹ ہیں اور دونوں امیدوار اگر مختلف ریاستوں میں اس ترتیب سے کامیابی حاصل کرتے ہیں کہ دونوں کے حق میں 269 ووٹ آتے ہیں تو پھر نتیجہ برابر ہو جائے گا۔
یہ صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے جس میں دونوں میں سے کوئی بھی امیدوار اکثریت حاصل نہ کرسکے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکی سینٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں سے ایک امیدوار کو ووٹ دیں گے جو کہ فیصلہ کن ووٹ ہوگا لیکن ایسا ہونے کا امکان بہت ہی کم ہے کیونکہ امریکی تاریخ میں یہ بہت کم بار ہوا ہے اور انیسویں صدی کے بعد سے ایسا ہر گز نہیں ہوا۔



















