امریکی صدارتی انتخاب 2020: امریکہ کا اگلا صدر کون ہو گا؟ آپ فیصلہ کریں

امریکہ

اس سال ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب میں ہار اور جیت کا فیصلہ صرف چند امریکی ریاستوں کے نتائج پر منحصر ہو سکتا ہے۔

عام خیال یہی ہے کہ زیادہ تر ریاستیں کسی ایک امیدوار کو چنیں گی۔ اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو 188 جبکہ جو بائیڈن کو 233 ووٹ دیے ہیں۔

کیا جو بائیڈن بالآخر امریکی صدر بننے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مدت کے لیے صدر رہیں گے۔

یہ دوڑ 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے کی ہے اور اس کا فیصلہ آپ بھی کر سکتے ہیں۔

امریکی صدارتی انتخاب میں اہم ریاستوں میں نتائج کی پیش گوئی کریں اور آنے والے امریکی صدر کا نام جانیں

وسکونسن

ووٹ: 10

2016 کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ حیران کن طور پر بہت تھوڑے سے فرق کے ساتھ وسکونسن میں کامیاب ہوگئے تھے کیونکہ انھوں نے دیہی علاقوں اور محنت کش طبقے میں سفید فام خواتین کی حمایت حاصل کر لی تھی۔ مگر دو سال بعد انہی ووٹروں نے ریاست میں ایک ڈیموکریٹک گورنر کے چناؤ میں مدد کی۔ اس وقت وہاں جو بائیڈن رائے شماری میں آگے ہیں۔

وسکونسن کے رہائشیوں کو ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کی خارجہ تجارتی جنگیں پسند نہیں آئی ہوں گی جن کی وجہ سے ریاست کی برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

ریاست میں اس وقت بھی پرتشدد مظاہرے ہوئے جب ایک سیاہ فام شخص کو پولیس نے شہر کنوشاہ میں ہلاک کر دیا تھا۔ یہاں رپبلکن پارٹی یہ انتخابی نعرہ لگا رہی ہے کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی جیتی تو مزید لاقانونیت اور تشدد آئے گا۔ مگر کیا وسکونسن کے رہائشی اس بات کو مانیں گے؟

ایریزونا

ووٹ: 11

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 میں یہ روایتی طور پر رپبلکن پارٹی کی حامی ریاست جیت تو لی تھی مگر یہاں ان کی کامیابی کا فرق صرف چار فیصد تھا جو کہ ماضی کے رپبلکن امیدواروں سے کہیں کم ہے۔ اس دفعہ رائے شماری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس ریاست میں جو بائیڈن سے ہار جائیں گے۔

اس ریاست میں لاطینی امریکہ سے آنے والوں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور شہری علاقوں میں لوگوں کی آمدن میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ دونوں گروہ عموماً ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔ اس ریاست پر کورونا وائرس کی وبا کا بھی شدید اثر پڑا ہے تو اسی لیے جو ووٹر یہ سمجھتے ہیں کہ صدر نے اس وبا کا مقاملہ صحیح سے نہیں کیا، ممکن ہے کہ وہ پارٹی بدل لیں۔

مگر صدر ٹرمپ کا ریاست کی جنوبی سرحد پر دیوار بنانے پر توجہ مرکوز رکھنا اور غیر ملکیوں کے لیے ورک ویزے کم کرنا شاید یہاں ان کے لیے آج بھی مقبولیت کا باعث بنے۔

شمالی کیرولائنا

ووٹ: 15

شمالی کیرولائنا رپبلکن پارٹی کا اہم گڑھ ہوا کرتا تھا مگر 2008 میں براک اوباما نے یہ ریاست انتہائی تھوڑے فرق کے ساتھ جیتی تھی۔ ریاست کے روایتی طور پر رپبلکن ہونے کے باوجود ایک ڈیموکرٹک امیدوار کے جیتنے کا مطلب ہے کہ یہاں ڈیموکریٹک کامیابی ناممکن نہیں ہے۔

ٹرمپ اور بائیڈن دونوں نے اس ریاست میں تشہیری مہم پر بھاری رقم خرچ کی ہے جبکہ انتخابی جائزوں میں یہاں بائیڈن کا پلڑا بھاری ہے۔

شمالی کیرولائنا وہ پہلی ریاست تھی جس نے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ شروع کر دی تھی اور بڑی تعداد میں ڈاک والے ووٹ پہنچ چکے ہیں۔ ان میں سے نصف کے قریب رجسٹرڈ ڈیموکریٹ پیں۔ اگر ڈاک کے ذریعے آنے والے ووٹوں نے اس ریاست میں فیصلہ کیا تو شاید صدر ٹرمپ کو مشکل ہو۔

مشیگن

ووٹ: 16

2016 میں یہاں پر صدر ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کو 0.3 فیصد کی برتری سے شکست دی تھی۔ روایتی طور پر ڈیموکریٹک ریاست نے جہاں محنت کش طبقے کے بہت سے لوگ رہتے ہیں 28 سال میں پہلی رپبلکن پارٹی کے امیدوار کو چنا تھا کیونکہ انھوں نے صنعت کاری کے لیے فائدہ مند تجارتی معاہدوں کا وعدہ کیا تھا۔

جو بائیڈن کے والد ایک کار سیلز مین تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا ڈیٹرائٹ سے انتہائی قریبی رشتہ ہے اور انھوں نے بطور نائب صدر ریاست کا متعدد بار دورہ کیا۔ انھوں نے ریاست کے انتہائی مقبول گورنر گریچن وٹمر کو اپنے ساتھ نائب صدر کا امیدوار بنانے پر بھی غور کیا تھا۔ بائیڈن کو ایک اعتدال پسند امیدوار سمجھا جاتا ہے اور ایسے امیدوار مشیگن میں ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔

پینسلوینیا

ووٹ: 20

چار سال پہلے مغربی پینسلوینیا کے رہائشیوں نے اپنے طرزِ زندگی کی بقا کے لیے ووٹ دیے تھے جس میں توانائی کی صنعت کا انتہائی اہم حصہ ہے۔ روایتی طور پر ڈیموکریٹک ریاست ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں گئی تھی۔ انھوں نے کوئلے کی صنعت کے حوالے سے ڈیموکرٹک پارٹی کے اصلاحات نہ پورے ہونے کا وعدہ کیا تھا مگر کیا صدر ٹرمپ یہ وعدے پورے کر سکے ہیں؟

کورونا وائرس کی وبا آنے سے اب تک ریاست میں بےروزگاری 10 فیصد سے زیادہ رہی ہے۔ جو بائیڈن اس ریاست کے مشرقی قصبے میں پیدا ہوئے تھے اور شاید یہ ذاتی کنکشن انھیں کامیابی میں مدد کر دے۔ (یہ قصبہ شاید ڈنڈر مفلن پیپر کمپنی کے گھر کے طور پر زیادہ معروف ہے جو کہ برطانوی کامیڈی سیریز دی آفس کے امریکی ورژن میں دکھائی گئی تھی)۔

فلوریڈا

ووٹ: 29

فلوریڈا میں ایک بات تو یقینی ہے: انتخابات ہمیشہ انتہائی تھوڑے فرق سے جیتے جاتے ہیں۔ یہ ریاست ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا گھر بھی سمجھی جاتی ہے مگر گذشتہ انتخابات میں انھوں نے بہت بڑے فرق سے وہاں کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ فلوریڈا میں انتخابات کے حوالے سے پیش گوئی کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ریاست میں آبادی کے خد و خال بدلتے رہتے ہیں۔ ریاست میں لاطینی امریکہ سے آنے والے تارکینِ وطن کی آبادی کافی زیادہ ہے اور وہ عموماً رپبلکن پارٹی کے حامی ہوتے ہیں۔ مگر اس وقت وہ ریاست کے ڈیموکریٹ حامی علاقوں میں بھی رہتے ہیں۔ دیگر ریاستوں سے معمر افراد فلوریڈا میں ریٹائرمنٹ کے لیے آتے ہیں اور ان میں ووٹ دینے کا تناسب بھی زیادہ ہوتا ہے۔ نوجوانوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے جو کہ عموماً ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی ہوتے ہیں اور ریاست میں سب اربن ووٹرز بھی رپبلکن پارٹی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

جورجیا

ووٹ: 16

جورجیا میں 1960 سے اب تک سوائے دو مرتبہ کے ہر بار ریپبلکن پارٹی کامیاب رہی ہے۔ مگر اس سال بائیڈن کی انتخابی مہم کے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ یہاں جیت سکتے ہیں۔ ان کا انحصار سیاہ فام ووٹروں پر ہوگا جو کہ ریاست کے ووٹروں میں ایک چوتھائی ہیں۔

نسلی امتیاز کے حوالے سے بائیڈن ٹرمپ کے مقابلہ میں رائے شماری میں بہت بہتر پوزیشن میں ہیں۔ اس سال ملک میں بلیک لائیوز میٹر کی مہم ملک بھر میں چلی ہے اور دیگر شہروں میں بھی ان کی قیادت جورجیا کے نوجوانوں نے کی ہے۔

مگر ٹرمپ خود کو لا اینڈ آرڈر والا امیدوار بنا کر پیش کر رہے ہیں جو کہ سفید فام قدامت پسند لوگوں میں مقبول ہو سکتے ہیں اور اس ریاست میں نتائج میں ان کا بہت اثر ہوتا ہے۔

بات یہی ہوگی کہ الیکشن کے دن کون باہر نکلے گا۔

پہلے 270 تک پہنچنے والا جیتے گا

ہم نے ان ریاستوں کا انتخاب کیسے کیا ہے؟

امریکی انتخابات میں ریاستوں کے نتائج فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ ہر ریاست کے پاس اس کی آبادی کے لحاظ سے مخصوص ’الیکٹورل ووٹ‘ ہوتے ہیں اور بہت سی ریاستوں میں یہ ووٹنگ کم و بیش توقع کے مطابق ہوتی ہے۔

دو غیر جانبدار امریکی ذرائع، ریل کلیئر پولیٹیکس اور دی کک پولیٹیکل رپورٹ مختلف ریاستوں کی فہرست جاری کرتے ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہوتا ہے کہ وہ انتخابات میں ووٹ کس کو دے سکتے ہیں۔ بہت سی ریاستوں کو 'ٹاس اپ‘ کا درجہ دیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہاں دونوں میں سے کوئی بھی امید وار کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔

ہم نے سات 'ٹاس اپ‘ ریاستوں کا انتخاب کیا ہے جن کے پاس اتنے الیکٹورل ووٹ ہیں کہ وہ صدارتی امیدوار کو فتح دلوانے کے لیے کافی ہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے ان ریاستوں کو بھی دکھایا ہے جہاں کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ صدر ٹرمپ نے 2016 میں ان تمام ریاستوں میں کامیابی حاصل کی تھی۔

امیدواروں کو پہلے ہی سے کچھ ووٹ کیوں دیے گئے ہیں؟

ہم نے ان ریاستوں کے الیکٹورل ووٹ مذکورہ امیدواروں کو دیے ہیں جہاں ان کی کامیابی کی توقع ہے۔ اس کا مطلب ہے اس کھیل میں صدر ٹرمپ 188 جبکہ جو بائیڈن 233 ووٹوں سے شروعات کر رہے ہیں۔

کیاالیکشن کا نتیجہ ٹائی یا برابر ہوسکتا ہے؟

تکنیکی لحاظ سے ایسا ممکن ہے۔ کل ملا کر 538 الیکٹورل ووٹ ہیں اور دونوں امیدوار اگر مختلف ریاستوں میں اس ترتیب سے کامیابی حاصل کرتے ہیں کہ دونوں کے حق میں 269 ووٹ آتے ہیں تو پھر نتیجہ برابر ہو جائے گا۔

یہ صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے جس میں دونوں میں سے کوئی بھی امیدوار اکثریت حاصل نہ کرسکے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکی سینٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں سے ایک امیدوار کو ووٹ دیں گے جو کہ فیصلہ کن ووٹ ہوگا لیکن ایسا ہونے کا امکان بہت ہی کم ہے کیونکہ امریکی تاریخ میں یہ بہت کم بار ہوا ہے اور انیسویں صدی کے بعد سے ایسا ہر گز نہیں ہوا۔