اسلام آباد ہائی کورٹ میں انڈین قیدیوں کی رہائی کا معاملہ: 'اگر قیدیوں نے اپنی سزائیں پوری کر لی ہیں تو انھیں رہا کیوں نہیں کیا جا رہا'

اسلام آباد ہائیکورٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بدھ کے روز چار انڈین قیدیوں کی رہائی کے بارے میں پاکستان میں انڈین ہائی کمیشن کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی جہاں انھوں نے وفاق سے سوال کیا کہ اگر ان قیدیوں نے اپنی سزائیں پوری کر لی ہیں انہیں رہا کیوں نہیں کیا جا رہا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اس ضمن میں اپنا جواب بھی جمع کروائیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے کچھ مہلت مانگی اور کہا کہ آئندہ سماعت پر حکومت سے ہدایات لیکر عدالت میں جواب جمع کروائیں گے۔

اس کے علاوہ عدالت نے ان قیدیوں کے سٹیٹس کے بارے میں سیکریٹری خارجہ اور سیکریٹری داخلہ کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کرلیا ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل شاہنواز نون نے عدالت کو بتایا کہ ان انڈین قیدیوں کو عدالتوں کی طرف سے سنائی جانے والی سزائیں پوری ہوچکی ہیں اور وہ کافی عرصہ سے لاہور اور کراچی کی جیلوں میں قید ہیں۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

وکیل نے الزام عائد کیا کہ ان جیلوں کے حکام ان انڈین قیدیوں کو نہ تو قانونی رسائی دے رہے ہیں اور نہ ہی اُنھیں وکلا سے ملنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

انھوں نے پاکستان کے آئین کی مختلف شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملکی آئین میں یہ درج ہے کہ اگر کوئی قیدی اپنی سزا پوری کرچکا ہے اور وہ کسی دیگر جرائم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب نہیں ہے تو ایسے قیدی کو ایک لمحے کے لیے بھی حراست میں رکھنا غیر قانونی ہے۔

جیل

،تصویر کا ذریعہReuters

اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ پانچ سال سے زیادہ عرصے سے انڈین قیدی جیلوں میں ہیں اور انہیں رہا نہیں کیا جارہا ۔

چیف جسٹس نے وکیل شاہنواز نون سے استفسار کیا کہ ان افراد کو کس عدالت نے سزائیں سنائی تھیں جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان انڈین شہریوں کو پاکستانی فوجی عدالتوں نے آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں سنائی تھیں اور یہ افراد عدالتوں کی طرف سے سنائی گئی عدالتوں کو پورا کرچکے ہیں اور رہائی کے منتظر ہیں۔

عدالت نے وفاق کے نمائندے ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ سے استفسار کیا کہ اگر یہ افراد اپنی سزائیں پوری کر چکے ہیں تو انھیں رہا کیوں نہیں کیا جارہا۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو بھی حکم دیا کہ ائندہ سماعت پر ان افراد کے بارے میں تازہ ترین رپورٹ جمع کروائیں۔ ان چار انڈین قیدیوں میں برجو،بنگ کمار، ستیش بھاگ اور سونو سنگھ شامل ہیں۔

انڈین ہائی کمیشن کی جانب سے چار مزید قیدیوں کی رہائی کے بارے میں بھی درخواست دائر کی گئی ہے اور کہا ہے کہ یہ قیدی بھی اپنی سزائیں پوری کر چکے ہیں لہذا ان کو بھی رہا کیا جائے۔

عدالت نے ان دونوں درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے ان درخواستوں کی سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔

واضح رہے کہ چار انڈین قیدیوں کی رہائی کے بارے میں درخواست کے لیے پہلے جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

بعدازاں جج محسن اختر کیانی نے یہ کہہ کر اس درخواست کی سماعت کرنے سے معذرت کر لی کہ چونکہ اس طرح کے معاملات چیف جسٹس کے پاس ہیں اس لیے اُنھوں نے یہ معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا ہے۔