ضلع خیبر میں افغانستان جانے والے سامان کی گاڑیوں پر حملہ

RESCUE 1122

،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقے ضلع خیبر میں فرنٹیئر روڈ پر افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے لیے سامان لے جانے والے ٹرالروں پر حملہ ہوا ہے جس سے ٹرالر اور ان پر لدی ہوئی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

یہ واقعہ جمعے کی دوپہر مقامی وقت کے مطابق لگ بھگ تین بجے پیش آیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ دو بڑے ٹرالروں پر دو دو فوجی گاڑیاں لادی گئی تھیں۔ یہ آرمرڈ گاڑیاں تھیں اور افغانستان کی جانب لے جائی جا رہی تھیں۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ باڑہ کے قریب فرنٹیئر روڈ پر اچانک موٹر سائیکلوں پر سوار درجن بھر مسلح افراد آئے اور انھوں نے ان ٹرالرز کو روک کر ڈرائیوروں اور عملے کے افراد کو اتار دیا اور اس کے بعد ان گاڑیوں پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اس موقع پر مسلح افراد نے ان گاڑیوں پر فائرنگ کی جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ مسلح افراد اس کارروائی کے بعد موٹر سائکلوں پر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مقامی سطح پر ریسکیو ورکرز نے بتایا کہ انھیں جب اطلاع ملی تو وہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور آگ کو بجھانے کا کام شروع کر دیا تھا۔

ریسکیو 1122 کے اہلکارروں نے بتایا کہ ٹرالروں اور اس پر لادی گئی گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی تھی جسے فوری کارروائی کرتے ہوئے بجھا دیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق گاڑیاں افغانستان کی جانب جا رہی تھیں جب ان پر حملہ ہوا۔

یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ ٹرالر اور ان پر لادی گئی فوجی گاڑیاں نیٹو افواج کے لیے تھیں یا امریکہ اور افغان فورسز کے لیے لے جائی جا رہی تھیں۔

RESCUE 1122

،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122

خیال رہے کہ پاکستان کے راستے افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے لیے سامان کی رسد کے لیے دو راستے ہیں جن میں ایک کراچی سے بلوچستان اور چمن کے راستے افغانستان اور دوسرا کراچی سے خیبر پختونخوا سے ہو کر طورخم کے راستے افغانستان جاتا ہے۔

افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کے سامان رسد پر یہ کوئی پہلا حملہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ان پر حملے ہو چکے ہیں لیکن یہاں ایک بات اہم ہے کہ یہ حملہ ایک طویل عرصے کے بعد ہوا ہے۔

قبائلی علاقوں میں متحرک کالعدم تنظیموں نے متعدد مرتبہ افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے کنٹینرز، ٹرالرز اور ٹینکرز پر حملے کیے اور حملوں کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ پ

اکستان میں امریکی ڈرون حملے روکنے کے لیے بھی متعدد مرتبہ یہ کہا گیا کہ اگر یہ ڈرون حملے نہ رکے تو پاکستان کے راستے غیر ملی افواج کے لیے سامان رسد پر پابندی عائد کی جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کی صوبے میں حکومت کے قیام کے بعد سال 2013 میں طور خم کے راستے نیٹو سپلائی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جب عمران خان نے پاکستان پر امریکی ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تحریک انصاف کی حکومت کے قائم ہو نے سے پہلے بھی عمران خان نے پشاور میں نیٹو سپلائی کے راستے پر حیات آباد کے مقام پر دھرنا بھی دیا تھا۔

نیٹو کی گاڑیوں پر حملوں کا سلسلہ سال 2008 سے جاری ہے اور اُس سال کوئی چالیس سے زیادہ گاڑیوں پر حملے ہوئے تھے اور اس کے علاوہ خیبر ضلع میں جہاں نیٹو سپلائی کے کنٹینر، ٹینکرز اور ٹرالرز رکتے ہیں وہاں بھی حملے میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا

اس بارے میں خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات کامران بنگش اور ضلع پولیس افسر سے رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

کامران بنگش کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ میٹنگ میں مصروف ہیں جبکہ ضلع پولیس افسر کا نمبر بند آ رہا تھا۔

RESCUE 1122

،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122

ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس بارے میں ضلع پولیس افسر ہی کچھ بتا سکیں گے۔ تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس انسپکٹر کے موبائل فون نمبر بند تھے۔

پاکستان کے نیٹو کے تعلقات اس وقت کشیدگی اختیار کر گئے تھے جب سال 2011 میں پاک افغان سرحد کے قریب ضلع مہمند میں سلالہ کے مقام پر نیٹو نے پاکستان کے علاقے میں حملہ کیا تھا۔ 26 نومبر کو نیٹو کے ہیلی کاپٹرز اور جنگی طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پاکستانی حفاظتی چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا اور اس حملے میں چوبیس پاکستانی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان نے اس حملے کی تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور اس حملے کے بعد نیٹو سپلائی پر پاکستان سے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ امریکہ کی جانب سے معافی مانگنے کے بعد سپلائی دوبارہ شتروع کر دی گئی تھی۔

بلوچستان کے ضلع کیچ میں بھی سکیورٹی فورسز پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک

بلوچستان کے ضلع گوادر میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے قافلے پر ہونے والے بڑے حملے کے بعد جمعہ کو ضلع کیچ میں بھی سیکورٹی فورسز پر حملہ ہوا ہے۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بتایا کہ آج ایک اجلاس کے دوران اس حملے کی اطلاع موصول ہوئی تاہم اس کی تفصیلات ابھی تک نہیں ملی ہیں ۔

انھوں نے بتایا کہ تفصیلات ملنے کے بعد ان کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

یہ حملہ ضلع کیچ کے علاقے گوارکوپ میں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں سیکورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ۔

گزشتہ روز آئل اینڈ گیس ڈویلیپمنٹ کارپوریشن کے قافلے پر جو حملہ ہوا تھا وہ ضلع کیچ سے متصل ضلع گوادر کے علاقے اورماڑہ میں ہوا تھا ۔

اس حملے میں فرنٹیئر کور کے آٹھ اہلکاروں کے علاوہ اوجی ڈی سی ایل کی اپنے سکیورٹی کے سات لوگ مارے گئے تھے ۔

مکران ڈویژن میں حملوں میں اضافہ کیوں ؟

دو روز کے دوران جن دواضلاع کیچ اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا وہ دونوں انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایران سے متصل ایک اور ضلع پنجگور بھی مکران ڈویژن کا حصہ ہے ۔

رواں سال بلوچستان میں سیکورٹی فورسز پر جو بڑے حملے ہوئے وہ زیادہ ترمکران ڈویژن اور اس سے متصل علاقوں میں ہوئے ہیں۔

پریس کانفرنس میں ایک سوال پر بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے بتایا چونکہ گوادر پورٹ اور اس سے منسلک متعدد دیگر اہم منصو بے مکران ڈویژن میں ہیں اس لیے وہاں زیادہ تر بد امنی پھیلائی جارہی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بد امنی پھیلانے کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کو ناکام بنانا ہے لیکن حکومت ایسے تمام عزائم کو ناکام بنائے گی ۔

بلوچستان میں بدامنی کا الزام انڈیا پر

بلوچستان میں بد امنی کے جو واقعات رونما ہورہے ہیں اس کے لیے سرکاری حکام بیرونی مداخلت، بالخصوص انڈیا کو ذمہ دار ٹھیرا رہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں بلوچستان کے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جب ہماری سیکورٹی فورسز ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کامیاب کاروائی کرکے ان کو کمزور کرتے ہیں تو یہ دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ بلوچستان میں بد امنی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہونے پر وفاقی حکومت نے متعدد پر یہ معاملہ افغان حکام سے اٹھایا ہے ۔

دوسری جانب افغان حکام بلوچستان میں بد امنی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہونے کو الزام کو مسترد کرتے رہے ہیں ۔

سرکاری حکام کے موقف کے برعکس بلوچستان کے سخت گیر موقف کے حامل قوم پرست حلقے بھی بلوچستان میں بد امنی کے واقعات کا ذمہ دار وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو ٹہرا رہے ہیں ۔