نیلسن منڈیلا: جب جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت کو شکست دینے والے عظیم رہنما نے کشمیر کو ’متنازع خطہ‘ اور جناح کو اپنا ہیرو قرار دیا

    • مصنف, ثقلین امام
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس

(یہ مضمون اکتوبر 2020 کو پہلی مرتبہ شائع کیا گیا تھا، آج نیلسن منڈیلا کے یوم پیدائش کی مناسبت سے اسے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے)

نسلی عصبیت میں ڈوبی ہوئی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کے 'جرم' میں ایک ربع صدی جیل میں قید رہنے والے حریت پسند رہنما نیلسن منڈیلا دیوارِ برلن کے گرنے کے اگلے برس سنہ 1990 میں عالمی دباؤ کی وجہ سے عمر قید سے قبل از وقت رہا ہوئے۔

اس برس جب وہ 11 فروری کو وکٹوریہ جیل سے اپنے اصولوں پر سمجوتہ کیے بغیر رہا ہوئے تو اس منظر کو دنیا بھر کے مغربی ٹیلی ویژن چینلوں نے دکھایا۔ یہ صرف ایک عظیم رہنما کی رہائی نہیں تھی بلکہ نسلی عصبیت کی شکست کا اعتراف بھی تھا۔

اُس وقت دنیا بھر میں ہر باضمیر شخص نیلسن منڈیلا کو کامیاب دیکھنا چاہتا تھا۔ ہر ملک خاص، کر تیسری دنیا کے عوام اور تیسری دنیا کی حکومتیں، انھیں اپنا مہمان بنانا چاہتی تھیں۔ انڈیا نے منڈیلا کو 1990 میں اپنا سب سے اعلیٰ ایوارڈ 'بھارت رتنا' دیا۔

لیکن پاکستان کو منڈیلا کو اعزاز دیتے دیتے مزید دو برس لگے۔

یہ بھی پڑھیے

نیلسن منڈیلا دو اکتوبر سنہ 1992 کو کراچی پہنچے جہاں ان کا سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مظفر حسین شاہ نے استقبال کیا۔ نیلسن منڈیلا نے کراچی میں بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دی تھی۔

اس وقت تک پاکستان نے جنوبی افریقہ کی نسلی عصبیت والی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا، اس لیے اسلام آباد کے پریٹوریا کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں تھے۔ پاکستان نے نسلی عصبیت والی حکومت کا سنہ 1949 سے بائیکاٹ کر رکھا تھا۔

پاکستان نے افریقہ میں ہر اس حکومت سے رابطوں پر پابندی عائد کر رکھی تھی جو نسلی عصبیت والی پالیسیوں کو اپنائے ہوئے تھیں۔ سنہ 1990 میں زمبابوے میں پاکستان کے ہائی کمشنر رفعت مہدی نے نیلسن منڈیلا سے ان کے زمبابوے آنے کے موقع پر ملاقات کی۔

اس طرح پاکستان کا نیلسن منڈیلا سے یہ پہلا باقاعدہ رابطہ تھا۔ رفعت مہدی نے اپنی یاداشتوں میں اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ منڈیلا کا خواب تھا کہ وہ اپنے ملک کی سیاہ فام آبادی کو مقامی اور قومی انتخابات میں ووٹ دینے کا حق دلوائیں۔

رہائی کے بعد اپنی اس جدوجہد کے دوران منڈیلا کی پاکستان کے سفارت کار رفعت مہدی سے اور بھی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ ان کی اس ذاتی قسم کی ایک اور ملاقات میں منڈیلا نے کہا 'میرے ہیرو جناح ہیں۔ میں نے اپنی جدوجہدِ آزادی میں ان سے حوصلہ حاصل کیا۔'

جب رفعت مہدی اکتوبر سنہ 1992 میں نیلسن منڈیلا کے پاکستان کے دورے کے انتظامات کر رہے تھے اور منڈیلا نے جب اپنے سفر کی تفصیلات دیکھیں تو انھوں نے کہا تھا کہ 'میں اپنے ہیرو کو خراج تحسین ادا کیے بغیر پاکستان میں کیسے داخل ہو سکتا ہوں۔'

ان کے یہ الفاظ جذبات سے خالی نہیں تھے۔ منڈیلا نے جناح کے مزار پر مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے: 'جناح ان تمام کے لیے حوصلہ بڑھانے کا ذریعہ ہیں جو نسلی اور گروہی امتیاز کے خلاف لڑ رہے ہیں۔'

لہٰذا ان کے سفر کی منصوبہ بندی میں تبدیلی کی گئی اور ایک نئی ٹکٹ بنوائی گئی۔

منڈیلا کا پاکستان کا دورہ اکتوبر میں اس وقت ممکن ہوا جب وہ چین کی دعوت پر بیجنگ جا رہے تھے۔ پاکستان کے ہائی کمشنر رفعت مہدی ان سے مسلسل رابطے میں تھے۔ پاکستان کے اس وقت کے وزیرِ خارجہ سرتاج عزیز تھے۔

سرتاج عزیز بتاتے ہیں کہ نیلسن منڈیلا کو چین نے مارچ سنہ 1992 میں دعوت دی تھی۔ یہ دورہ چین کا طے کیا ہوا تھا اور پاکستان نے کوشش کی کہ وہ چین جاتے ہوئے پاکستان رکیں تا کہ پاکستان بھی اس عظیم لیڈر کی میزبانی کا شرف حاصل کر سکے۔

منڈیلا اس وقت جنوبی افریقہ کے حزبِ اختلاف کے لیڈر تھے۔ جنوبی افریقہ میں ایک نسل پرست حکومت موجود تھی۔ تاہم پاکستان نے دیگر افریقی اور تیسری دنیا کے ممالک کی طرح ان کا سرکاری مہمان کے طور پر استقبال کرنے کا فیصلہ کیا۔

1980 اور 1990 کی دہائیاں بیسویں صدی کے بدلتے ہوئے دور میں اس لحاظ سے قدرے بہتر تھیں کہ اس زمانے میں مغرب میں تیسری دنیا کے ملکوں کی آزادیوں کے حق میں بات کرنے پر کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا تھا۔ سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ 1960 اور 1970 کی دہائیاں ایک 'ڈی کالونائئزیشن' کا دور تھا جب 60 سے زیادہ ممالک کو آزادی ملی تھا۔

'تیسری دنیا میں ان ملکوں کی آزادی کاجشن منایا جاتا جبکہ مغربی میڈیا میں ان کو بغاوت، اشتراکیت اور شورشوں کا نام دے کر پیش کیا جا رہا تھا۔ اسی پس منظر میں نسل پرستی کے خلاف تحریکوں کو مغرب کے خلاف شورش سمجھا گیا تھا۔'

پاکستان کے وزیرِ خارجہ سرتاج عزیز کو نیلسن منڈیلا کے استقبال اور دیگر انتظامات کے لیے وزیرِ مہمانداری کی ذمہ داریاں دی گئی تھیں۔ کراچی آنے کے اگلے روز نیلسن منڈیلا کی اس وقت کے پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔

سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ '(قائم مقام صدر وسیم سجاد) نے اس موقع پر نیلسن منڈیلا کو نشانِ پاکستان دیا۔' سات برس بعد دوبارہ پاکستان کے دورے پر منڈیلا نے کہا 'جب میں پہلے آیا تھا تو جنوبی افریقہ میں جمہوریت نہیں تھی، لیکن آج ہم جہموری ملک ہیں۔'

سابق وزیرِ خارجہ سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ ’میں نے نیلسن منڈیلا میں جو بہت اہم بات دیکھی تھی وہ یہ کہ اتنی بڑی شخصیت، جس کا اتنا بڑا نام تھا اور اتنی بڑی جدوجہد، وہ بہت ہی سادہ زندگی گزارتے تھے، تکبر سے بالکل پاک تھے۔ ان سے مل کر ان سے لگاؤ پیدا ہوتا تھا۔'

نیلسن منڈیلا نے پاکستان کے پہلے دورے کے موقع پر پریس سے بھی بات چیت کی تھی۔ انہوں نے ہر موقع پر دنیا میں نسلی عصبیت کے خلاف پاکستانی موقف کو بہت زیادہ سراہا۔ اُن کی پاکستان آمد کے موقع پر عام لوگ بھی خوش تھے۔

سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ منڈیلا دو اکتوبر کو پاکستان آئے اور چار اکتوبر کو چین روانہ ہو گئے۔ ان کے فوراً بعد ہی وزیرِ اعظم نواز شریف کا بھی چین کا پہلے سے طے شدہ دورہ تھا۔ 'میں ان کے ساتھ گیا۔ اتفاق سے جہاں ہمیں ٹھہرایا گیا، پتہ چلا کہ منڈیلا بھی وہیں ٹھہرے ہوئے تھے۔'

'پاکستان میں ان کے دورے کے دوران تو میں انتظامات میں مصروف تھا لیکن بیجنگ میں ہم نے دو مرتبہ صبح صبح اکھٹے واک بھی کی تھی جس کے دوران ہم نے بہت ساری باتیں کیں۔ اس طرح مجھے بیجنگ میں ان سے بات چیت کرنے کا زیادہ موقع ملا۔'

'میں نے نیلسن مینڈیلا سے پوچھا کہ جب آپ کو عمر قید کی سزا ملی تو آپ نے اپنے آپ کو ذہنی طور پر کس طرح مضبوط رکھا؟ نیلسن منڈیلا نے کہا کہ اگر آپ کو اپنے مشن پر یقین ہے تو آپ میں خود بخود ہمت پیدا ہو جاتی ہے۔ میرا یقین کبھی کمزور نہیں ہوا۔'

سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ نیلسن منڈیلا انڈیا اور پاکستان کے بارے میں بہت زیادہ بات کرتے تھے۔ وہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی باتیں کرتے تھے لیکن وہ کشمیر کے بارے میں بھی ایک حسّاس رائے رکھتے تھے۔

'یہی وجہ ہے کے جنوبی افریقہ کے صدر بننے کے بعد جب وہ سنہ 1998 میں ڈربن میں غیر جانبدار ممالک کی تنظیم کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے تو انھوں نے کشمیر کے تنازعے کے بارے میں ایسا بیان دیا تھا جس پر انڈیا نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔'

اس وقت جنوبی افریقہ کے صدر نیلسن منڈیلا نے غیر جانبدار ممالک کی تنظیم کے چیئرمین کی حیثیت سے کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک متنازع خطہ کہا۔

'ہم سب کو یہ تشویش ہے کہ مسئلہِ جموں اور کشمیر کو پر امن مذکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور ہم اس مسئلے کے حل کے لیے جو کچھ بھی کر سکتے ہیں اس کے لیے ہمیں تیار ہونا چاہیے۔'

انڈیا کیونکہ کشمیر کے مسئلے کو ایک دو طرفہ مسئلہ کہتا ہے اور اس کے حل کے لیے کسی بھی تیسری پارٹی کی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔ نیلسن منڈیلا کی رائے کے برعکس اُس وقت کے انڈیا کے وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی نے منڈیلا کی تقریر کے فوراً بعد سٹیج پر آ کر کہا کہ 'کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے۔'

انڈیا کے اخبارات نے بھی منڈیلا کی تقریر پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ بعض اخبارات نے تو کسی لگی لپٹی کے بغیر کہا کہ 'اس خطے کے تنازعے کو جنوبی ایشیا کا معاملہ کہنے کے بجائے جموں کشمیر کا نام لے کر منڈیلا نے انڈیا کو صدمہ پہنچایا۔'

تاہم اس موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ سرتاج عزیز نے منڈیلا کی تقریر کا یہ کہتے ہوئے خیر مقدم کیا کہ کشمیر ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر مذاکرات کی ضرورت ہے۔

کئی مبصرین کے خیال میں وہ اپنی تقریر کے ذریعے انڈیا اور پاکستان پر تخفیفِ اسلحہ اور مسئلہِ کشمیر کے حل کے لیے زور ڈالنا چاہتے تھے۔

منڈیلا کے صدارتی عہدے کی میعاد اگلے برس ختم ہو گئی۔ لیکن اپنے عہدے کی میعاد سے پہلے بھی انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت ان کی میزبانی کے فرائص مشاہد حسین نے ادا کیے۔ وہ بتاتے ہیں کہ دوسرے دورے کے موقع پر نیلسن منڈیلا اپنی بیٹی کے ہمراہ پاکستان آئے تھے۔

چند برس پہلے، سنہ 2016 اور سنہ 2017 میں نیلسن منڈیلا کے ایک پوتے، نکوسے زویلِولائل منڈیلا جو 'منڈلا مینڈیلا' بھی کہلاتے ہیں، پاکستان آئے تھے۔ وہ اس سے پہلے مسلمان ہوئے تھے اور علامہ طاہرالقادری کی دعوت پر ختمِ نبوت کی ایک کانفرنس میں شرکت کرنے آئے تھے۔

نیلسن منڈیلا کے سنہ 1992 کے پہلے دورے کے فوراً بعد پاکستان نے ان کی سیاسی تنظیم ایفریکن نیشنل کانگریس (اے این سی) کو پاکاستان میں اپنے دفاتر کھولنے کی اجازت دے دی تھی۔ اُس وقت تک جنوبی افریقہ میں اے این سی کی قانونی حیثیت متنازع تھی۔

پاکستان میں اپنی تقریر میں منڈیلا نے پاکستان اور پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا 'میں آپ سب سے کہوں گا کہ حکومتِ پاکستان اور اس کے عوام کے لیے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے اپنے جام اٹھائیں۔ خدا حافظ۔'

انہوں نے 'خدا حافظ' اردو میں کہا تھا۔