گذشتہ ہفتے کا پاکستان تصاویر میں

گذشتہ ہفتے پاکستان میں پیش آنے والے چند اہم واقعات کی تصویری جھلکیاں

پشاور

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث اپریل سے تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے تھے تاہم ملک میں صورتحال بہتر ہونے کے بعد اگلے ہفتے سے تعلیمی اداروں میں تدریسی عملی دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ سکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر عمل پیرا کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
اسلام آباد
،تصویر کا کیپشنستمبر کے اوائل میں لاپتہ ہو جانے والے سکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل چھ دن بعد بازیاب ہو گئے اور بعد میں انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی واپسی کی تصدیق بھی کی۔ ساجد گوندل کی گمشدگی ایک معمہ بنی ہوئی تھی اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکام کو انھیں انتباہ کی تھی کہ دس دن میں تلاش کیا جائے۔
مہمند
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کے علاقے زیارت کلی میں سنگِ مرمر کی کان پر سات ستمبر کو پہاڑی تودہ گر گیا جس کے نتیجے میں 18 سے زیادہ افراد کی ہلاکت ہو گئی۔
کراچی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکراچی کے علاقے کورنگی میں ایک چار منزلہ عمارت گر گئی جس کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت ہو گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ عمارت میں 40 سے 50 افراد کی رہائش تھی اور حالیہ بارشوں کے بعد عمارت کی بنیادوں میں پانی بھر گیا تھا۔ گذشتہ چند ماہ میں کراچی میں اس نوعیت کا یہ تیسرا واقعہ تھا۔
لاہور
،تصویر کا کیپشنقومی احتساب بیورو یعنی نیب نے محکمہ ایکسائز کے ایک سابق انسپکٹر کے گھر سے کروڑوں روپے کیش اور پرائز بانڈ کی صورت میں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور بتایا کہ ملزم کے گھر سے چھاپے کے دوران 33 کروڑ روپے کیش اور پرائز بانڈ کی صورت میں برآمد کیے گئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ملزم کے بینک اکاؤنٹس میں 2013 سے 2017 تک 22 کروڑ روپے سے زائد کا سرمایہ بیرون ملک سے منتقل ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں جن کے ذرائع ملزم تاحال ثابت نہیں کرسکا ہے۔
کراچی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلاہور میں نو ستمبر کو موٹروے پر ہونے والے ریپ کے واقعے کے بعد پورے ملک میں کافی غم و غصہ تھا جس کے نتیجے میں پاکستان کے مختلف شہروں میں جمعے اور ہفتے کے روز بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے جہاں مظاہرین کی جانب سے مطالبات کی فہرست پیش کی گئی اور ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق انھیں ڈی این اے کی مدد سے دونوں ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے۔
اوکاڑہ

،تصویر کا ذریعہHasnain Raza

،تصویر کا کیپشنجنرل سیکرٹری انجمن مزارعین پنجاب مہر عبدالستار کو لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی ڈویژنل بینچ نے آٹھ ستمبر کو ان پر لگائے مختلف مقدمات میں سے آخری مقدمے میں بھی بری کر دیا جس کے بعد 12 ستمبر یعنی ہفتے کے روز انھیں بالآخر چار سال کے بعد رہائی مل گئی۔ سنہ 2001 سے لیکر 2016 تک ان کے خلاف 36 مقدمات درج کیے گئے تھے۔