گذشتہ ہفتے کا پاکستان تصاویر میں

گذشتہ ہفتے میں پاکستان میں پیش آنے والے اہم واقعات کی تصویری جھلکیاں۔

عید الضحیٰ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنملک بھر میں سنیچر کو عید الاضحیٰ کہیں سماجی فاصلے کی ہدایات کے ساتھ اور کہیں خلاف ورزیوں کے ساتھ منائی گئی۔
عمران خان

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم عمران خان نے عندیہ دیا ہے کہ عید الاضحیٰ اور محرم کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ دوسری طرف ان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ آئدروس نے اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔
ملک بھر میں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں توہین رسالت کے مقدمے میں ملزم کو عدالت میں جج کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس دوران پشاور کی سڑکوں پر ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔
کورونا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنملک بھر میں عید سے قبل کورونا وائرس کے متاثرین اور اموات میں کمی دیکھی گئی۔ تاہم حکام نے لوگوں کو متنبہ کیا تھا کہ اگر عید میں احتیاط نہ کی گئی تو متاثرین دوبارہ بڑھ سکتے ہیں۔
چمن

،تصویر کا ذریعہABDUL BASIT ACHAKZAI

،تصویر کا کیپشنبلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کی کشیدہ صورتحال کے حوالے سے حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور مقامی تاجروں اورمحنت کشوں نے گذشتہ 62 روز سے وہاں جاری دھرنے کو ختم کردیا ہے۔
سینیٹ

،تصویر کا ذریعہSenate Pakistan

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے پارلیمان نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل ترمیمی بل اور انسداد دہشتگردی ترمیمی بل سنہ 2020 کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت پاکستان میں دہشتگردوں کی مدد اور مالی معاونت کے خلاف قوانین مزید سخت ہوگئے ہیں۔
چلاس

،تصویر کا ذریعہHASSAN AHMAD

،تصویر کا کیپشنپیر اور منگل کی درمیانی شب انسدادِ دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی کی جانب سے چلاس میں ایک چھاپے کے دوران پانچ پولیس اہلکاروں اور دیگر دو افراد کی ہلاکت کے واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں سی ٹی ڈی اہلکار اور گھر میں موجود شخص اظہار اللہ مفرور ہونے والے ملزمان کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ظہار اللہ اسلام آباد کی نمل یونیورسٹی کے طالبعلم تھے۔
عمر اکمل

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشنپاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر نے بطور آزاد ایڈجوکیٹر عمر اکمل کی اپیل پر کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا ہے۔ اس کے مطابق ان کی سزا یعنی پابندی کی مدت ایک سال سے کم کر کے چھ ماہ کر دی گئی ہے۔