گذشتہ ہفتے کا پاکستان تصاویر میں

گذشتہ ہفتے پاکستان میں پیش آنے والے چند اہم واقعات کی تصویری جھلکیاں

مریم نواز

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنلاہور میں واقع قومی احتساب بیورو (نیب) کے دفتر کے باہر گذشتہ منگل کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز شریف نے الزام لگایا کہ ان کی گاڑی پر پتھراؤ کرنے والے پولیس کی وردی میں تھے اور اگر وہ بلٹ پروف گاڑی میں نہ ہوتیں تو نہ جانے کتنا نقصان پہنچتا۔ دوسری جانب پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے دعویٰ کیا کہ نیب کے دفتر اور پولیس پر نواز لیگ کے کارکنوں کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تھا۔
پشاور بی آر ٹی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم عمران خان نے صوبہ خیبر پختونخوا کے پہلے ماس ٹرانزٹ منصوبے، پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ یا بی آر ٹی، کا افتتاح کیا۔
ڈبل ڈیکر بس سروس

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنراولپنڈی اور اسلام آباد میں سیاحت کے فروغ کے لیے نئی ڈبل ڈیکر بس سروس متعارف کرائی گئی ہیں جس کی ٹیسٹ ڈرائیو 15 اگست کو وفاقی دارالحکومت میں کی گئی۔
پاکستان، جشن آزادی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنہر سال کی طرح رواں سال بھی 14 اگست کو پاکستان کے چھوٹے بڑے تمام شہروں میں یوم آزادی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔
سیاحت، گاڑیاں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکورونا وائرس کے باعث لگائے گئے لاک ڈاؤن میں حالیہ نرمی کے موقع پر پاکستان کے شمالی علاقوں میں سیاحت کی اجازت دی گئی جس کے بعد ان مقامات پر سیاحوں کا ہجوم دیکھا گیا۔
ریستوران، مونال

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی کے لیے لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا لیکن کئی مہینوں بعد اب اس میں نرمی لائی گئی ہے اور اس کے ساتھ ریستوران کی صنعت کی بحالی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
تاج جویو

،تصویر کا ذریعہENCYCLOPEDIA SINDHIANA

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں سندھی زبان کے معروف ادیب اور مصنف تاج جویو نے اپنے بیٹے سارنگ جویو کی گمشدگی سمیت دیگر اعتراضات کی بنا پر صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
بلال سعید، صبا قمر

،تصویر کا ذریعہInstagram/BilalSaeed

،تصویر کا کیپشنلاہور کی تاریخی مسجد وزیر خان میں ایک گانے کی شوٹنگ کرنے پر اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ دونوں کا موقف ہے کہ فلم بندی کے وقت مسجد کی انتظامیہ بھی موجود تھی اور وہ گواہ ہیں کہ وہاں کسی قسم کی کوئی موسیقی نہیں چلائی گئی۔ ویڈیو میں سے مسجد کے سینز بھی نکال دیے گئے ہیں۔