آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نواز شریف اور العزیزیہ کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت، ’مریض لندن میں ڈاکٹر امریکہ میں‘
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو احتساب عدالت کی طرف سے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں دی جانے والی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔
اس اپیل کی سماعت کا وقت عدالت نے بارہ بجے مقرر کر رکھا تھا لیکن پونے گھنٹے کی تاخیر سے اس پر عدالتی کارروائی شروع ہوئی۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ ان اپیلوں کی سماعت کے لیے کمرہ عدالت میں پہنچا تو نیب کے پراسیکوٹرز کی باڈی لینگوئج سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے آج عدالت اپنی گزشتہ سماعت کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر مجرم نواز شریف کو مفرور قرار دینے کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو ان اپیلوں کی کارروائی سے روک دے گی۔
گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا تھا کہ میاں نواز شریف 10 ستمبر سے پہلے سرنڈر کریں ورنہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔
سماعت کے آغاز میں ہی بینچ کے سربراہ نے نواز شریف کے وکیل اور نیب کے پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ سے استفسار کیا کہ اُنھوں نے میڈیا میں پڑھا ہے کہ مجرم نواز شریف کو اسلام آباد کی ایک عدالت نے ایک مقدمے میں اشتہاری قرار دے دیا ہے تو کیا عدالت کی طرف سے اشتہاری قرار دینے کے بعد ان اپیلوں کی سماعت پر کوئی اثر پڑے گا جس پر دونوں نے یک زبان ہوکر کہا کہ اس سے ان اپیلوں کی سماعت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ہر ایک مقدمے کی نوعیت الگ ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سماعت کے دوران جب سابق وزیر اعظم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اُنھوں نے حاضری سے استثنی اور گزشتہ سماعت کا فیصلہ واپس لینے سے متعلق جو درخواست دائر کی ہے پہلے ان کو سن لیا جائے۔ جسٹس عامر فاررق نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کی ضمانت ختم ہوچکی ہے اور جب تک ان کے سٹیٹس کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا اور وہ خود کو سرنڈر نہیں کرتے اس وقت تک اس پر کارروائی کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
سماعت کے دوران ایک موقع پر تو عدالت نے کہہ دیا تھا کہ پہلے نواز شریف کو مفرور قرار دیتے ہیں پھر ان درخواستوں کی سماعت کریں گے۔ یہ ریمارکس سن کر نیب کی پراسکیوشن ٹیم کے ارکان کے چہرے کھل اٹھے لیکن ان کی یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی۔
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ اُنھیں معلوم ہے کہ عدالت کی اگلی کارروائی یہی ہوگی لیکن پہلے ان کو سن لیا جائے۔
جسٹس عامر فاروق نے ان اپیلوں میں وفاق کی نمائندگی کرنے والے ایڈشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ جب سابق وزیر اعظم نواز شریف گزشتہ برس علاج کی غرض سے لندن گئے تھے تو کیا اس دوران اُنھوں نے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن سے پوچھا کہ مجرم کی طبعیت کیسی ہے۔ عدالت کے اس سوال کے جواب میں ایڈشنل اٹارنی جنرل نے اس وقت سے کہانی سنانا شروع کردی جب نواز شریف کو بیرون ملک بھجوانے کے لیے بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔
عدالت نے پھر پوچھا کہ جب پنجاب حکومت نے 27 فروری کے بعد نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہیں کی تھی تو اس دوران بھی برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطہ کیا گیا تھا جس پر ایڈشنل اٹارنی جنرل نے میڈیکل بورڈ میں پیش کی جانے والی رپورٹ کا تذکرہ کرنا شروع کر دیا۔
عدالت نے بارہا ان سے پوچھا کہ کیا وفاقی حکومت نے پاکستانی ہائی کمیشن سے میاں نواز شریف کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں جس پر ایڈشنل اٹارنی جنرل نے دوبارہ کہانی سنانا شروع کر دی، اس پر بینچ کے سربراہ نے اُنھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'معذرت کے ساتھ آپ کو سمجھ نہیں آ رہی۔'
بینچ میں موجود جسٹس محسن کیانی نے، جو کہ میاں نواز شریف کی طرف سے دائر کردہ درخواست کا مطالعہ کر رہے تھے، کہا کہ نواز شریف کی ضمانت کو منسوخ ہوئے بھی سات ماہ کے قریب ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک وہ علاج کے لیے کسی ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس درخواست کے ساتھ ایک ڈاکٹر کا خط بھی ہے جو خود امریکہ میں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ 'مریض لندن میں اور ڈاکٹر امریکہ میں'۔
عدالت کی طرف سے یہ آبزرویشن بھی سامنے آئی کہ اگر کوئی ملزم یا مجرم علاج کی غرض سے ہسپتال میں داخل نہیں ہوتا تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ صحت مند ہے اور وہ جان بوجھ کر عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بن رہا۔
اس موقع کو دیکھتے ہوئے جہانزیب بھروانہ نے فوری طور پر لاہور کی احتساب عدالت کا ایک آرڈر بھی پیش کیا اور کہا کہ مائی لارڈ ایک اور احتساب عدالت نے بھی نواز شریف کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے جب یہ عدالتی آرڈر پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ نواز شریف بیرون ملک ہیں لیکن ان کا سراغ نہیں مل رہا۔
یہ سن کر ججوں کے علاوہ کمرۂ عدالت میں موجود لوگ مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔
نیب کے پراسکیوٹرز اور ایڈشنل اٹارنی جنرل کی اس 'کارکردگی' کو دیکھتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی نے میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت آپ کو باہر نہیں نکالے گی اور العزیزیہ سٹیل ملز کے ریفرنس میں 20 ہزار سے زیادہ صفحات ہیں اور ایسے حالات میں وہی عدالت کی معاونت کر سکتے ہیں۔
کمرۂ عدالت میں موجود قانونی ماہرین نے عدالت کی اس آبزرویشن کو نواز شریف کے لیے ایک بڑا ریلیف قرار دیا کیونکہ نیب کی قانونی ٹیم کی کوشش تھی کہ عدالت خواجہ حارث کو ان اپیلوں کی پیروی سے روک دے اور ان کی جگہ کسی نمائندے کو مقرر کرے جو ان اپیلوں کی سماعت کے دوران عدالت میں حاضر ہو۔
نیب حکام کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں نواز شریف کی ضمانت کی منسوخی کے لیے ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران پاکستان مسلم لیگ نواز کے کئی رہنما بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔ عدالت نے یہ آبزرویشن دے رکھی ہے کہ چونکہ ابھی کورونا ختم نہیں ہوا اس لیے سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے لیکن اس پر عمل درآمد دکھائی نہیں دیا۔