وزیر اعظم عمران خان: ’انڈیا کا معاملہ ہو یا افغانستان میں امن کا، فوج ہر قدم پر ہمارے ساتھ کھڑی ہے'

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ImranKhanOfficial
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم خوابوں کی دنیا میں نہیں رہتے جہاں جادو کی چھڑی گھماتے ہی حالات تبدیل ہو جائیں گے بلکہ حقیقی زندگی میں ایسا کرنے کے لیے بہت جد و جہد درکار ہوگی۔
پاکستانی وزیر اعظم نے قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں لیکن ان کی حکومت کے دو برسوں میں کوئی 'میگا کرپشن' سکینڈل سامنے نہیں آیا ہے کیوں کہ ’حکومت کی اوپر کی سطح پر اسے قابو کر لیا گیا ہے۔‘
'ماضی میں جو طاقت میں آئے انھوں نے اس کا فائدہ اٹھایا لیکن ان کا احتساب نہیں ہوا۔ اب ہماری تاریخ میں پہلی بار طاقتور کا احتساب ہو رہا ہے۔'
پروگرام 'ٹاک ٹو الجزیرہ' میں میزبان ہاشم اہلبرا سے تقریباً 20 منٹ کی گفتگو میں عمران خان نے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ImranKhanOfficial
پاکستان میں آزادی اظہار رائے سلب کرنے کے الزامات کے جواب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انھیں شواہد دکھائے جائیں کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے پر کیسے پابندی لگائی جا رہی ہے اور بتایا جائے کہ گذشتہ دو برسوں میں پاکستان میں کتنے صحافیوں کو اغوا کیا گیا۔
'بس شاید ایک واقعہ ہوا تھا، کسی صحافی نے دعویٰ کیا تھا، ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اسے اٹھانے کی وجوہات کیا تھیں، بس کچھ گھنٹوں کے لیے اٹھایا گیا تھا۔'
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ تنقید سے نہیں گھبراتے لیکن ان کی حکومت کے خلاف ’کھلم کھلا پروپیگنڈا‘ کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس قسم کا مواد ان کی حکومت کے خلاف میڈیا پر چلا ہے، اگر یہ برطانیہ ہوتا تو ان کی حکومت اور وزرا کو لاکھوں ڈالر ہرجانے کی صورت میں مل چکے ہوتے۔
'بدقسمتی سے ہماری حکومت، ہمارے وزرا خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی جعلی خبریں چلائے وزیر اعظم کے خلاف اور وزیر اعظم انھیں عدالت لے جائے، تو کیا یہ ڈرانا دھمکانا شمار ہوگا؟۔۔۔ اب ہمیں تحفظ کی ضرورت ہے۔'
سویلین حکومت اور فوج سے تعلقات کے بارے میں سوال پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستان میں سویلین حکومتوں اور فوج کے درمیان تعلقات میں مشکلات رہی ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہے اور دونوں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔
'میں بلاجھجک یہ کہہ سکتا ہوں کہ اب تک کا سب سے زیادہ ہم آہنگی پر مبنی تعلق ہے۔ ہم ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ فوج مکمل طور پر ہماری پالیسیوں کے ساتھ کھڑی ہے، چاہے وہ انڈیا کا معاملہ ہو یا افغانستان میں امن کا معاملہ ہو۔ فوج ہر قدم پر ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔'
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات

،تصویر کا ذریعہTwitter/@PID_Gov
انڈیا ، کشمیر اور افغانستان
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے بارے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خواہش تھی کہ او آئی سی کشمیر کے معاملے کو زیادہ اہمیت دے۔
'لیکن میں یہاں پر یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کا دوست رہے گا۔ لیکن ہاں، ہماری خواہش ہے کہ او آئی سی اس معاملے پر زیادہ اہم کردار ادا کرے۔'
افغانستان میں امن قائم کرنے کے حوالے سے سوال پر وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کا ہمیشہ یہ موقف رہا تھا کہ افغان مسئلے کا صرف سیاسی حل ہو سکتا ہے، جنگی حل نہیں۔
'جس چیز کو بھی افغان عوام اپنے لیے بہتر سمجھتے ہیں، وہ ہمارے لیے بھی بہتر ہوگا۔ ہماری دعا ہے کہ یہ کامیاب ہو جائے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایک ملک، انڈیا ایسا ہونے نہیں دینا چاہتا۔‘
انڈیا سے تعلقات کے معاملے پر وزیر اعظم نے کہا کہ انھوں نے تو اپنا عہدہ سنبھالتے ہی انڈیا کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا ’لیکن انڈیا پر اب انتہا پسندوں کی حکومت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا 'ہم نے کشمیر کے معاملے پر دنیا بھر میں آواز اٹھائی کہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے اور اگر یہ مسئلہ بڑھ جائے تو یہ دنیا بھر کے لیے مسئلہ بن جائے گا۔ لیکن باقی دنیا اس پر کچھ نہیں کہہ رہی، کیونکہ ان کو اپنے تجارتی مفادات کی پرواہ ہے، وہ انڈیا کو ایک مارکیٹ کے طور پر دیکھتے ہیں تو وہاں ہونے والی ناانصافیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔'
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاک چین اقتصادی راہداری
پاک چین اقتصادی راہداری کے سوال پر وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا معاشی مستقبل اب چین سے جڑا ہوا ہے۔
’چین جتنی تیزی سے ترقی کر رہا ہے اتنی دنیا میں کوئی اور ملک نہیں کر رہا۔ انھوں نے جس طرح ترقی کی ہے اور ملک سے غربت کا خاتمہ کیا ہے، پاکستان اس سے بہت کچھ سیکھ سکھتا ہے۔‘
چین یا امریکہ؟
چین اور امریکہ سے تعلقات کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ کسی ایک ملک کے کیمپ میں جائے اور اس وقت پاکستان کے دونوں ملکوں کے ساتھ’ بہت عمدہ‘ تعلقات ہیں۔
'ایسا کیوں ہو کہ ہم صرف ایک ملک کے ساتھ ہوں یا دوسرے ملک کے۔ ہر ملک اپنے مفادات کی فکر کرتا ہے۔ ہماری عوام کے لیے کیا بہتر ہے؟ ہم ہر کسی کے ساتھ اچھے تعلقات کیوں نہیں قائم کر سکتے؟ مجھے نہیں سمجھ آتی کہ چین یا امریکہ میں سے ایک کیوں ہو؟'












