پشاور میں 61 سالہ احمدی شہری معراج احمد کا قتل

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بدھ کی شب احمدیہ جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک 61 سالہ شخص کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔ پولیس تھانہ ڈبگری نے اس قتل کا مقدمہ ہلاک ہونے والے شخص معراج احمد کے بیٹے کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔

جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ مذہبی منافرت کا نتیجہ ہے۔

ان کے مطابق ’معراج احمد گزشتہ کچھ عرصے سے مشکلات کا شکار تھے۔ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم چلائی جا رہی تھی جبکہ ان کی دکان میں کام کرنے والے ملازمین نے بھی حال ہی میں ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔‘

معراج احمد کے بیٹے کے مطابق وہ ڈبگری گارڈن میں واقع اپنا میڈیکل سٹور بند کر کے گھر واپس جا رہے تھے جب انھیں اطلاع ملی کہ ان کے والد کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے بتایا کہ جب وہ ہسپتال پہنچے تو وہاں ان کے والد کی لاش پڑی تھی جنھیں آتشین اسلحے سے قتل کیا گیا تھا۔

معراج احمد کے بیٹے کی جانب سے درج کروائی جانے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کے والد کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی۔

انھوں نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'میں نہیں جانتا کہ میرے والد کو کس نے قتل کیا ہے اور نہ ہی وہ کوئی مشہور آدمی تھے۔ ان کی اپنی ساری زندگی میں کبھی کسی کے ساتھ تلخ کلامی نہیں ہوئی تھی۔'

انھوں نے بتایا کہ پہلے ان کے والد میڈیکل سٹور پر خود کام کرتے تھے مگر عمر کے تقاضے کی وجہ سے اب ان کے لیے کام کرنا ممکن نہیں تھا جس کی وجہ سے اب وہ خود میڈیکل سٹور پر ڈیوٹی نہیں دیا کرتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے والد زیادہ تر وقت گھر ہی پر گزارتے تھے تاہم شام کے اوقات میں تھوڑا بہت باہر نکلتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس میں درج کروائے گے مقدمے میں بھی انھوں نے کسی کو نامزد نہیں کیا ہے۔

'امید ہے کہ پولیس اس مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کرے گی۔'

جماعت احمدیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ معراج احمد کی تدفین ربوہ میں کر دی گئی ہے اور انھوں نے سوگوران میں بیوہ، تین بیٹے اور بیٹی چھوڑی ہے۔

جماعت کے ترجمان کے مطابق ریاستی ادارے احمدیوں کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں احمدیوں کی جان و مال کو خطرات بڑھ چکے ہیں۔

ایس ایس پی پشاور منصور امان کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے اعلیٰ سطح پر تفتیش شروع کر دی ہے اور جائے وقوعہ سے ثبوت اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔

پشاور پولیس کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے کئی لوگوں سے پوچھ کچھ کی ہے اور چند مشکوک افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔