آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تاریخی مذہبی عمارتوں کو محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے ’وائٹ واش‘ کرنے کا معاملہ، حکومتِ سندھ کا دفاع
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ میں دو تاریخی مذہبی عمارتوں کو بحالی کے دوران محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے بظاہر ’وائٹ واش‘ کیا گیا ہے، جس کو ماہرین ان کا تشخص مٹانے کے مترادف قرار دے رہے ہیں جبکہ صوبائی محکمہ نوادرات کا کہنا ہے کہ اس عمل میں قدیم دور کے تعمیراتی ساز و سامان کو ہی استعمال کیا گیا ہے۔
محمکہ ثقافت اور آثار قدیمہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ سے حیدرآباد سے 25 کلومیٹر دور ٹنڈو فضل میں واقع تاریخی مسجد کی مرمت کی تصاویر شیئر کی تھیں۔
حکام کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ آرکیالوجی کے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی بحالی کی گئی ہے، بحالی اور اس سے پہلے کی تصاویر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو بھی ٹیگ کیا گیا تھا۔
ان تصاویر پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی جس کے بعد محکمہ ثقافت اور نوادرات نے ان تصاویر کو ہٹا دیا۔
یہ تصاویر ھنگورانی ماڑیوں کے آثار کی تھیں، محکمہ نوادرات کے مطابق ھنگورانی ماڑیوں (حویلی) کے نام سے یہ سیّدوں کا گڑھ تھا، کلہوڑا دورِ حکومت کے ابتدا میں افغان بادشاہ مدد خان پٹھان نے سنہ 1775 میں حملہ کر کے اس کو تباہ کردیا تھا۔
اس حملے میں دو مساجد اور ایک مقبرہ اور چند حویلیاں بچ گئی تھیں، اس وقت نور محمد کلہوڑو سندھ کے حکمران تھے۔
صوبائی وزیر ثقافت اور آثار قدیمہ سید سردار علی شاہ نے بتایا کہ یہ کلہوڑا دور حکومت کی عمارت ہے جو فن تعمیر میں چونے کا استعمال کرتے تھے، اس وقت اینٹ، چیرولی اور چونا استعمال ہوتا تھا اسی کی روشنی میں ہی اس مسجد کی عمارت کو بحال کیا گیا ہے۔
'اینٹوں اور چونے (لائیم سٹون) کے استعمال کے بعد اگر اس کو چھوڑ دیا جائے تو جو دراڑیں یا سپیس ہے اس سے عمارت کمزور ہو سکتی ہے اس لیے اس کو مضبوط اور محفوظ بنانے کے لیے اس پر باہر بھی لائیم سٹون لگایا جاتا ہے یہ وائٹ واش ہرگز نہیں ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ محکمے کا سٹاف ٹوئٹر ہینڈل دیکھتا ہے اور اس پر آنے والے کمنٹس دیکھ کر گھبرا کر تصاویر ہٹائی گئیں اور اب مکمل معلومات کے ساتھ انھیں دوبارہ شیئر کیا جائے گا۔
یہ تاریخی عمارتیں کہاں ہیں؟
تھر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی سے تقریباً سوا سو کلومیٹر دور موجودہ ویرا واہ شہر اور سابق پاری نگر، بھوڈیسر اور ننگر پارکر شہر میں موجود جین مذہب کے ان مندروں کا شمار اس خطے کے قدیم مندروں میں ہوتا ہے۔
بھوڈیسر اور ویراہ واہ میں موجود بعض مندروں کی مرمت کرائی گئی ہے، سب سے بڑا مندر جس کو گوڑی مندر کے نام سے جانا جاتا ہے کے گنبد کے اندر تصویری کہانی موجود ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی چند پوسٹس میں دعوی کیا گیا تھا اس پر بھی وائٹ واش کر دیا گیا ہے تاہم حکومت نے اس دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ دو مختلف مقامات کی تصاویر کو ملا جلا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
محکمہ نوادرات کے ڈائریکٹر جنرل منظور کناسرو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جین مندروں کی بحالی اور مرمت میں کوئی کوتاہی نہیں برتی گئی ہے اور یہ کام آثارِ قدیمہ اور سائنسی اصولوں کے مطابق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ننگرپارکر اور بھوڈیسر میں جین مندروں کی بحالی کا کام سندھ اینڈاؤمنٹ ٹرسٹ کر رہا ہے جبکہ دیگر جگہیں حکومت سندھ کی ذمہ داری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ویرا واہ مندر کے گنبد کو وائٹ واش کیا گیا ہے جبکہ گوڑی مندر کی چھت پر موجود تصویری کہانی اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔
ڈی جی کے مطابق یہ مندر حکومت سندھ کی ملکیت ہیں اور اینڈاؤمنٹ فنڈ اُس کی اجازت سے ان کی بحالی میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے انجینیئرز نے جگہ کا معائنہ کیا ہے اور اس میں کوئی غفلت نہیں برتی گئی۔
صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے بھی ٹوئٹر پر لکھا ہے کے ’ہم تحقیقات کر رہے ہیں تاہم ننگر شہر اور بھوڈیسر کے جین مندر کی کنزرویشن اینڈاؤمنٹ فنڈ کر رہا ہے جبکہ دیگر سندھ حکومت نے کیے ہیں۔‘
تاہم صوبائی وزیر نے گوڑی مندر پر تبصرہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ سندھ کے ورثے کی دیکھ بھال کے لیے اگست 2008 میں سندھ حکومت نے سندھ اینڈاؤمنٹ فنڈ قائم کیا تھا جس کے لیے 100 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ فنڈ کے تحت بینکوں میں جو سرمایہ کاری کی گئی اس کے منافع سے مرمتی اور تعمیراتی کام کیا جاتا ہے۔
فنڈ کے سربراہ حمید آخوند ہیں جو محکمہ ثقافت کے سابق سیکریٹری رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے بھوڈیسر میں جین مندر کے پلیٹ فارم کی بحالی کا کام کیا ہے جس میں پتھر اور چونے کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ مندر کا جو گنبذ اور ڈھانچہ ہے وہ ان کے بس کی بات نہیں اور اس کی بحالی کے لیے پاکستان میں کوئی ماہر موجود نہیں ہے۔
’اگر لائیم سٹون کا استعمال ہو گا تو وہ سفید ہی نظر آئے گا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا رنگ تبدیل ہو گا، اگر چونے کے ساتھ کوئلہ ملایا جائے تو پھر یہ سفید نہیں نظر آئے گا بصورت دیگر یہ وائٹ رہے گا۔‘
محکمہ نوادرات کے سابق ڈائریکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ یہ خطہ جین دھرم والوں کا گڑھ رہا ہے۔
’اسلام کی آمد سے پہلے سے لے کر 13ویں صدی تک جین کمیونٹی نے تجارت میں عروج حاصل کیا اور جب یہ کمیونٹی خوشحال ہوئی تو انھوں نے یہ مندر تعمیر کرائے۔ موجودہ مندر 12ویں اور 13ویں صدی کے بنے ہوئے ہیں۔‘
یاد رہے کہ تقریباً چھ سو سال قبل مسیح میں مہاویر نامی شخص نے جین دھرم کی بنیاد رکھی تھی، کچھ محقیقن کا کہنا ہے کہ جین ہندو دھرم کی ایک شاخ ہے تاہم کئی محققین کے مطابق یہ بدھ مذہب کے زیادہ قریب ہے۔
وائٹ واش سے ’تشخص ہی ختم کردیا گیا‘
نامور آرکیالوجسٹ اور یونیسکو کی سابق کنسلٹنٹ یاسمین لاری کا کہنا ہے کہ کنزرویشن اور پریزرویشن کا یہ بنیادی اصول ہے کہ کم از کم مداخلت کی جائے اور غیر ضروری طور پر کسی چیز کو تبدیل نہ کیا جائے ان چیزوں کو اصل حالت میں ہی رکھا جائے۔
اگر کوئی پتھر ٹوٹا ہوا ہے تو وہ وہاں ہی رہنا چاہیے اگر کوئی کریک یا دراڑ ہے تو مزید دراڑیں پڑنے کی روک تھام کی جائے۔
یاسمین لاری کا کہنا ہے اگر سب کچھ نیا لگا دیا گیا ہے تو پھر اس کی تاریخی حیثیت ہی ختم کردی گئی ہے۔
’ہم نے تو اپنی آنے والی نسلوں کو یہ دکھانا تھا کہ اس وقت کا طرز تعمیر کیا تھا، کس قسم کے ماہر کاریگر تھے کیا میٹریل تھا، اب جب نیا بنا دیا جائے گا تو وہ تو نیا ہی ہو گا۔‘
انھوں نے گوڑی مندر کے گنبد پر پینٹ کہانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو لکھائی تھی یا فیساکو تھا اس کو تو اسی حالت میں ہی رکھنا تھا اس کا وائٹ واش کر کے تو بڑی زیادتی کی گئی ہے، اس سے تو اس کا تشخص ہی ختم کردیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا ردعمل: ورثے کی ’ڈیرے والی کوٹھی میں تبدیلی‘
سوشل میڈیا پر ان تصاویر کو حکام نے اپ لوڈ کر کے ہٹا تو دیا تاہم اس موضوع پر صارفین نے تبصرے بعد میں بھی جاری رکھے۔
حماد نامی صارف نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کلچر منسٹر سے کہا کہ بحالی کا مطلب ہے صرف متاثرہ حصے کو ٹھیک کرنا۔ محفوظ کرنے کا مطلب ہے کہ اس کے رنگ و خوبصورتی کو پہلے جیسا رکھا جائے۔ اس سفید رنگ نے اصل رنگ و خوبصورتی کو تباہ کر دیا ہے۔
نزہت ایس صدیقی نے اس اقدام پر ذرا جبھتے لہجے میں گلہ کیا۔
ایک ورثے کو ڈیرے والی کوٹھی میں تبدیلی کرنے کے لیے شکریہ۔
سندھ حکومت کی جانب سے ٹوئٹ ہٹانے پر بھی صارفین نے طنزیہ پیغامات کی بوچھاڑ کی۔
ٹوئٹر ہینڈل آرچر پر پیغام لکھا گیا کہ اگر اعلیٰ عہدوں پر بیٹے نااہل لوگوں کو ایک تصویر میں بیان کیا جا سکتا ہوتا وہ یہ ہوتی۔
بلاگر ہارون ریاض نے لکھا کہ سندھ حکومت کو یقیناً احساس ہو گیا کہ بحالی سے متعلق ٹویٹ بیک فائر ہوئی۔ ٹویٹ تو ڈیلیٹ ہو ہی سکتی ہیں بس بحالی کے کام پر توجہ دیں۔
نوٹ: اس خبر میں گوڑی مندر کے حوالے کچھ معلومات درست انداز میں پیش نہیں کی گئی تھیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے معلومات کی فراہمی کے بعد ان کی تصحیح کر دی گئی ہے۔ ادارہ اس غلطی پر معذرت خواہ ہے۔