مولانا فضل الرحمان کے بھائی کی بطور ڈپٹی کمشنر کراچی تعیناتی منسوخ، ضیا الرحمان کی خدمات خیبر پختونخوا کے حوالے

وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کے بھائی ضیا الرحمن کی خدمات صوبہ سندھ سے واپس لے کر صوبہ خیبر پختون خوا کے حوالے کر دی ہیں۔

یاد رہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی کو کراچی میں ڈپٹی کمشنر تعینات کرنے پر ایک گذشتہ ہفتے ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی اور اس پر صوبے میں حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے سخت اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔

تحریک انصاف کی جانب سے اس پوسٹنگ کو ’سیاسی رشوت‘ قرار دیا گیا جبکہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کا مؤقف دیتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ ضیا الرحمان کی خدمات حاصل کرنے کے لیے دونوں صوبوں کی حکومتوں کے درمیان مشاورت ہوئی تھی جس کے بعد ہی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان کی خدمات سندھ حکومت کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق 19ویں گریڈ میں کام کرنے والے ضیا الرحمان کی خدمات فوری طور پر حکومتِ خیبر پختونخوا کو واپس کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اعتراضات کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ حکومت کے سینیئر عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کے عماد خالق کو بتایا کہ دراصل وفاق کی جانب سے ضیا الرحمان کو ڈیپوٹیشن پر سندھ بھیجنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ افسران کو صوبے میں جہاں چاہیں تعینات کریں۔

سرکاری افسران کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کرنے والے محمکے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پر نظر رکھنے والے صحافی عامر الیاس رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ سندھ حکومت چاہے تو وہ ضیا الرحمان کی خدمات واپس کرنے سے انکار کرسکتی ہے اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے ساتھ خط و کتابت شروع کرسکتی ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ سنہ 1988 میں جب مرکز میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی، تو اس وقت پنجاب کے چیف سیکرٹری انور زاہد تھے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان کی خدمات وفاق کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔

تاہم اس وقت کی صوبائی حکومت نے ان احکامات پر عمل درآمد سے انکار کر دیا تھا۔ جس کے بعد انور زاہد اس وقت تک چیف سیکرٹری رہے جب تک قومی اور صوبائی حکومتیں ختم نہیں کر دی گئی تھیں۔

ضیا الرحمان کون ہیں؟

ضیا الرحمان جمیعت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کے کل پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ بھائیوں میں سب سے بڑے خود مولانا فضل الرحمان ہیں، ان کے بعد عطا الرحمان، پھر لطف الرحمان، اس کے بعد ضیا الرحمان اور سب سے چھوٹے بھائی کا نام عبید الرحمان ہے۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والے دستاویزات کے مطابق ضیا الرحمان ستمبر 2007 سے قبل پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان ٹیلی کمیونیکشن لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) میں گریڈ 17 کے ملازم تھے اور انھیں اس وقت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم خان درانی نے ڈپیوٹیشن پر ایڈیشنل کمشنر افغان مہاجرین تعینات کر رکھا تھا۔

ستمبر سنہ 2007 میں اس وقت کے گورنر خیبرپختونخوا على محمد جان اوركزئی نے خصوصی احکامات جاری کرتے ہوئے ضیا الرحمان کو پراونشل سول سروس میں ضم کرنے کے احکامات جاری کیے۔

جس کے بعد انھیں پراونشل منیمجمنٹ سروس میں گریڈ 17 میں تعینات کیا گیا۔

ضیا الرحمان صوبہ پنجاب میں بھی مختلف عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں۔ سنہ 2018 میں خیبر پختونخوا حکومت نے انھیں او ایس ڈی بنا دیا اور بی بی سی کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق وفاق نے جنوری 2020 میں ضیا الرحمان کو سندھ بھیجنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔

وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق ضیا الرحمان کی خدمات ڈیپوٹیشن پر سندھ کو دی گئیں۔

سندھ حکومت نے حال ہی میں انھیں تاحکم ثانی ڈپٹی کمشنر وسطی تعینات کیا ہے۔ جبکہ سابق ڈی سی وسطی فرحان غنی کا تبادلہ کر کے انھیں ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ تعینات کر دیا گیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کو کیا اعتراضات ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف سندھ کے رہنما اور صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اقدام سندھ حکومت کی منافقت کو ظاہر کرتا ہے۔

’ایک طرف سندھ حکومت صوبے میں صوبائی ڈومیسائل پر غیر قانونی نوکریوں کے معاملے کی تحقیقات کرنے کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری جانب لوگوں کو دیگر صوبوں سے لا کر سیاسی مفادات کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ضیا الرحمان ڈی ایم جی گروپ سے نہیں بلکہ پراونشل منیجمنٹ سروس (پی ایم ایس) سے تعلق رکھتے ہیں اور ابھی تک ایسا نہیں ہوا کہ پی ایم ایس کے کسی افسر کی بین الصوبائی تعیناتی ہوئی ہو۔

ادھر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما فیصل سبز واری نے اس حوالے سے اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’اس تعیناتی پر اعتراضات کی کئی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ یہ ہے کہ اس وقت سندھ میں بلدیاتی نظام حکومت کی مدت ختم ہونے جا رہی ہے اور غالب امکان یہ ہے کہ سندھ حکومت ماضی کی طرح ان من پسند ڈپٹی کمشنرز کو ایڈمنسٹریٹرز کا بلدیاتی چارج دے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تحفظات یہ ہیں کہ سیاسی بنیادوں پر ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتیوں کے باعث سندھ حکومت نے گذشتہ دس برس کے دوران تمام ترقیاتی کام ان کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں سے کروائے ہیں۔

انھوں نے منتخب بلدیاتی حکومتوں کو کراچی اور حیدرآباد سے دور رکھا اور آگے بھی پیپلز پارٹی ایسا ہی ارادہ رکھتی ہے۔

’ضیا الرحمان کی پنجاب میں تعیناتی پر شور کیوں نہیں مچا تھا؟‘

سندھ حکومت کے سینیئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’یہ اپوزیشن والے جو مولانا فضل الرحمان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے ان کے بھائی کو نوازنے کی بات کرتے ہیں یہ بے بنیاد ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ماضی میں بھی اور اب بھی افسروں کی ڈپیوٹیشن پر بین الصوبائی تعیناتیاں ہوتی ہیں، ضیا الرحمان پہلے پنجاب میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں تب شور کیوں نہیں مچا تھا۔‘

اس حوالے سے جب تحریک انصاف کے فردوس شمیم نقوی سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ وفاق سے ضیا الرحمان کی خدمات لینے سے انکار کر دیتے۔‘

جبکہ ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری نے کہا کہ 'وفاق کو بھی ایسے فیصلے کرتے وقت سوچنا چاہیے اور دوسرا سندھ حکومت نے ان کو ایم کیو ایم کے گڑھ ضلع وسطی میں ہی کیوں تعینات کیا؟ انھیں لاڑکانہ، خیرپور یا اندرون سندھ کہیں تعینات کر دیتی، اس سے حکومت کی بددیانتی واضح ہوتی ہے۔‘