آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لاہور ہائی کورٹ کا راولپنڈی میں شادی کرنے والی دو ’لڑکیوں‘ کی جنس معلوم کروانے کا حکم
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
لاہور ہائی کورٹ نے دو 'لڑکیوں' کی آپس میں شادی کے معاملے پر راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ حقائق معلوم کرنے کے لیے ایک چار رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیں۔
جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے بدھ کے روز راولپنڈی بینچ میں دو لڑکیوں کے درمیان شادی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ عدالت ان دونوں لڑکیوں کی جنس معلوم کرنے کے لیے ان کا میڈیکل کروائیں اور اگر سرکاری ہسپتال میں اس کی سہولت موجود نہیں ہے تو پھر کسی نجی ہسپتال سے ان کا میڈیکل کروایا جائے۔
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں شہر کے رہائشی امجد شاہ کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کی 20 سالہ بیٹی جو کہ ایک مقامی نجی سکول میں پڑھتی تھی، وہاں پر اس کے تعلقات ایک اور خاتون ٹیچر کے ساتھ ہوگئے۔
درخواست گزار کے مطابق دوسری لڑکی نے جعلسازی کے ذریعے اپنے شناختی کارڈ میں خود کو لڑکا ظاہر کیا اور کچھ دنوں کے بعد دونوں گھر سے بھاگ گئے اور کورٹ میرج کر لی۔
درخواست گزار کے مطابق راولپنڈی کی مقامی عدالت نے بھی حقائق کو دیکھے بغیر ان کو میرج سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدھ کو عدالتی حکم پر مقامی پولیس نے دونوں لڑکیوں کو سخت سیکورٹی کے حصار میں عدالت میں پہنچایا۔
درخواست گزار امجد شاہ کے وکیل اس درخواست کے حق میں دلائل دینے کے آئے تو درخواست گزار کی بیٹی نے عدالت کو بتایا کہ اُنھوں نے اپنی مرضی سے دوسری لڑکی، جو اب لڑکا بن چکی ہے، سے شادی ہے اور وہ اس شادی سے مطمئن ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ان کے 'شوہر' ان کے حقوق پورے کر رہے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل کا اصرار تھا کہ عدالت پہلے ان کے دلائل سنے اور پھر اس بارے میں کوئی فیصلہ دے، تاہم جسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دیے کہ جب تک عدالت کے سامنے کوئی دستاویزات موجود نہیں ہوں گی تو اس وقت تک اس بارے میں کیسے کوئی رائے قائم کی جاسکتی ہے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل مجیب الرحمان نے عدالت کو بتایا کہ بہتر یہی ہوگا کہ پہلے ان دونوں کی جنس معلوم کرنے کے لیے ان کا میڈیکل کروایا جائے اور پھر اس کے بعد اس درخواست پر فریقین کے دلائل سنے جائیں۔
عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی اس رائے سے اتفاق کیا اور راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کا میڈیکل کروائیں اور 20 جولائی تک اس بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔
نادرا دستاویزات میں جنس تبدیل کب ہوئی؟
نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ایک اہلکار کے مطابق جس لڑکی کی جنس تبدیل ہوئی ہے، اُن کے شناختی کارڈ میں جنس کی تبدیلی اسی صورت میں عمل میں لائی گئی جب اُنھوں نے اس حوالے سے تصدیق شدہ میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیے تھے۔
درخواست گزار کے وکیل راجہ امجد کا کہنا تھا کہ مذکورہ لڑکی کی میٹرک سے لے کر ایم اے کی ڈگریوں تک میں جنس لڑکی ہی لکھی گئی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ راولپنڈی ٹریفک پولیس کی طرف سے مبینہ طور پر جنس تبدیل کروانے والی لڑکی کو جو ڈرائیونگ لائسنس جاری کیا گیا ہے، اس میں بھی جنس کے خانے میں انھیں لڑکی ظاہر کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کے بقول مذکورہ لڑکی گذشتہ برس آن لائن ٹیکسی بھی چلاتی رہی ہیں۔
اُنھوں نے بظاہر اُن لڑکی کی جانب سے جنس تبدیلی کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جنس کی تبدیلی ایک مہنگا عمل ہے جبکہ ان لڑکی کے والد کی مالی حیثیت ایسی نہیں ہے کہ وہ اتنا خرچہ برداشت کرسکیں۔
بدھ کے روز اس درخواست کی سماعت کے بعد ان دنوں لڑکیوں کو عدالت کے عقبی دروازے سے نکالا گیا اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ان دونوں لڑکیوں سے بات چیت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
سماعت کے دوران کمرہ عدالت کے باہر لوگوں کی ایک قابل ذکر تعداد موجود تھی اور مقامی پولیس کے بقول ان میں مختلف مدارس سے تعلق رکھنے والوں کی بھی ایک تعداد شامل تھی۔
مقامی پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد ان دونوں لڑکیوں کی زندگیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں جس کا اظہار ان دونوں نے پولیس حکام کے سامنے بھی کیا ہے۔
تاہم حکام کی جانب سے ان دونوں لڑکیوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی تحریری احکامات سامنے نہیں آئے۔