ہم جنس جوڑا: کیا خاندان کا مطلب صرف شوہر، بیوی اور بچے ہے؟

    • مصنف, بھومیکا رائے
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

’یہ حقیقت ہے کہ یہ وہ خاندان تو بالکل نہیں جس کا میں نے تصور کیا تھا۔ کیونکہ میں نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ خاندان ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے خاندان میں بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ ایک ’مثالی‘ اور روایتی خاندان میں ہوتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جو پارٹنر ہیں وہ مرد اور عورت نہیں ہیں۔ ہم دونوں مرد ہیں لیکن اس کے علاوہ کچھ بھی جدا نہیں ہے۔‘

ہرش اور ایلیکس ایک ’گے کپل‘ یعنی ہم جنس پرست جوڑا ہیں اور ایک دوسرے کا خاندان بھی۔

تین برس قبل دونوں کی ملاقات گُوا میں ہوئی تھی۔ دونوں نے کچھ وقت ساتھ گزارا اور اس کے بعد ’گھر بسانے‘ کا فیصلہ کیا۔

ہرش بتاتے ہیں ’لوگوں کو ایسا لگ سکتا ہے کہ ہمارا خاندان عام خاندان کی طرح نہیں ہے۔ لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ ہمارے گھر میں بھی گھر کے کام بٹے ہوئے ہیں، ذمہ داریاں بٹی ہوئی ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا اور فلم دیکھنے جانا پسند ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

یہ خاندان روایتی خاندان سے کتنا مختلف ہے؟

ایلیکس کا خیال ہے کہ ہر انسان کا خاندان سے متعلق تصور منفرد ہو سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’خاندان ایک دھاگے کی مانند ہے جو آپ کو اپنے ساتھ باندھے رکھتا ہے۔ اس میں ایک دوسرے کے لیے دل میں جگہ ہونی چاہیے اور ایک دوسرے کو جیسا ہے ویسے قبول کرنے کی صلاحیت۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’بعض اوقعات ایسا ہو سکتا ہے کہ دو سگے بھائی بھی آپس میں کھل کر بات نہیں کر سکتے اور کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کسی دوست کے ساتھ اپنی ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات شیئر کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں آپ ہی بتائیں کس کو خاندان کہنا صحیح ہو گا۔‘

ہرش کا کہنا ہے کہ خاندان کے بارے میں سماج نے کچھ معیار طے کر دیے ہیں جس کے تحت ’نارمل‘ یعنی قابل قبول اور ’ابنارمل‘ یعنی ناقابلِ قبول خاندان کا تعین کیا جاتا ہے۔

اس بارے میں وہ مزید کہتے ہیں ’کئی بار ایسا لگتا ہے کہ خاندان قائم کرنے کے لیے بعض معیار بنا دیے گئے ہیں اور ان معیاروں پر پورا اترنے کے بعد ہی کسی کے خاندان کے مکمل ہونے کا تعین کیا جاتا ہے۔ یہ بہت عجیب سی بات ہے۔‘

’ہمارے لیے خاندان کا مطلب وہی ہوتا ہے جسے ہم دیکھتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں۔ ہم کبھی اس بارے میں سوچتے ہی نہیں کہ آخر خاندان ہوتا کیا ہے۔ جب آپ اس بارے میں مطالعہ کرتے ہیں تو کئی جگہ آپ کو اس کی تعریف کچھ اس طرح سے بیان کی گئی ہے کہ انسانوں کا وہ گروپ جن کے بچے ہیں۔‘

’بچوں کا ذکر جس طرح سے ہوتا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ مان لیجیے اگر بچے نہیں ہیں تو خاندان ہی نہیں ہے۔ خاندان کا مطلب بس یہ کہ شوہر، بیوی اور بچے۔‘

ہرش کے مطابق خاندان کی تعریف کیا ہے؟

اس سوال کے جواب میں ہرش کہتے ہیں کہ ’میرے لیے خاندان وہی ہے جو مجھے جیسا میں ہوں ویسا ہی قبول کرے۔ جو مجھے جج نہ کرے۔ جو میرا سہارا بنے۔‘

لیکن ہرش اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ ان کا خاندان ایک روایتی خاندان نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے خاندان میں ’ہیٹرونورمٹیوٹی‘ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے گھر میں کون کیا کردار ادا کرے گا، کون کیا کام کرے گا یہ بہت واضح طریقے سے طے نہیں کیا گیا۔ دونوں سارے کام کر لیتے ہیں۔

حالانکہ ان کے روز مرہ کے گھر کے کام بٹے ہوئے ہیں۔ ہرش کھانا بناتے ہیں تو ایلیکس گھر کی صفائی کرتے ہیں۔

ایلیکس کہتے ہیں ’میرے لیے خاندان کا مطلب ہے کہ دو لوگ ایک جیسا اور ایک ہی سمت میں سوچیں۔ خاندان وہ ہوتا ہے جہاں آپ سکون محسوس کریں، جہاں کسی سے راز نہ رکھنے پڑیں، جہاں کچھ بھی پوشیدہ رکھنے کی ضروت نہ پڑے۔‘

ان کا خیال ہے کہ خاندان کا ایک ہونا ضروری ہے۔ اپنے خاندان کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ان کے گھر میں دو افراد ہیں لیکن ان کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ایک جان ہیں۔

سمجھوتا اور قربانی دینے میں فرق

ایک عام انڈین خاندان میں یہ مانا جاتا ہے کہ خاندان چلانے کے لیے سمجھوتے تو کرنے ہی پڑتے ہیں۔ لیکن یہ بات اکثر خواتین کے تناظر میں زیادہ کہی جاتی ہے لیکن کیا ایک ہم جنس جوڑے کے رشتے میں بھی سمجھوتے اور قربانی کی جگہ ہے؟

ہرش کا خیال ہے کہ اگر رشتہ ہے تو سمجھوتہ اور قربانی تو ہوتی ہے حالانکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں اس کو وہ سمجھوتے کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔

وہیں ایلیکس کہتے ہیں ’سمجھوتے تو ہمیشہ ہی ہوتے ہیں لیکن سمجھوتہ کبھی بھی قربانی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے، رشتے میں منسلک کسی ایک بھی فرد کو ایسا لگے کہ اس کا استحصال ہو رہا ہے اور وہ نشانہ ہے۔ سمجھوتا اس طرح کا ہو جس سے دونوں کو خوشی حاصل ہو اور رشتہ قائم رہے۔‘

عام خیال یہ بھی ہے کہ اگر دو لوگوں کا مزاج ایک جیسا ہو تو رشتہ نبھانے میں آسانی ہوتی ہے لیکن ایلیکس اور ہرش کا مزاج ایک دوسرے سے کافی مختلف ہے۔ ایلیکس کو ہر چیز میں پرفیکشن چاہیے وہیں ہرش کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

دونوں کی عادتیں جدا ہیں اس سے بھی ان کا رشتہ متاثر نہیں ہوتا ہے۔

ان کے خاندان کو قبول کروانا کتنا مشکل ہے؟

انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے نکال دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اپنی مرضی سے قائم کیے گئے ہم جنس رشتوں کو جرم نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔

بھلے ہی انڈیا میں ہم جنس پرستی قانونی طور پر جرم نہ ہو لیکن سماج میں آج بھی اس کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔

ہرش کہتے ہیں کہ یہ ایک حقیقیت ہے اور اس سے ہم انکار نہیں کر سکتے ہیں۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’جس گھر میں آپ پیدا ہوئے، جہاں آپ کے والدین اور بھائی بہن ہیں وہاں بھی کسی ہم جنس جوڑے کو قبولیت ملنا مشکل ہے۔‘

ہرش کہتے ہیں ’اگر کوئی ان کے جیسے خاندان کو خاندان تسلیم نہیں کرتا ہے تو اس میں اس شخص کی کوئی غلطی نہیں ہے کیونکہ بیشتر لوگوں کے دماغ میں خاندان کا تصور بالکل الگ ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’آپ خود سوچیے جب ایک ہم جنس پرست شخص کو خود اپنی شناخت کو تسلیم کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں تو کسی اور کے لیے یہ بات سمجھنا کتنا مشکل ہو گا۔ ایسے میں کسی اور سے یہ امید کرنا کہ وہ ہمارے جیسے رشتے کو سمجھیں گے، مشکل ہے۔‘

کیا لوگوں کو اس خاندان کو تسلیم کرنے میں کوئی ڈر ہے؟

ہرش کا خیال ہے کہ لوگوں میں ڈر ہے یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے لیکن یہ بات سچ ہے لوگ اس بارے میں حساس نہیں ہیں۔

حالانکہ وہ کہتے ہیں ’لوگوں کو اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ ان کے زمانے میں خاندان کو جو تصور یا ڈھانچہ تھا اب وہ بدل رہا ہے۔ اور جو تصور آج ہے وہ کل نہیں رہے گا۔‘

ان کا مزید کہنا ہے ’لوگ سمجھتے ہیں کہ ساری تبدیلی شہروں میں آ رہی ہے۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہے دیہات میں بھی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ فرق اتنا ہے کہ وہاں بہت کم لوگ کھل کر سامنے آ پاتے ہیں۔ یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ تبدیلی ایک ایسا عمل ہے جو مسلسل جاری ہے۔‘

ہرش کا خیال ہے کہ ان کے خاندان میں بھی اس طرح کے بعض مسائل ہیں لیکن ان کے لیے ان کا خود کا خاندان بہت معنی رکھتا ہے۔

انھیں امید ہے کہ جس خاندان میں وہ پیدا ہوئے اور پرورش حاصل کی ان کا وہ خاندان ان کے اس نئے خاندان کو آخرکار تسلیم کر لے گا۔