امریکہ کی غیرملکی طلبا کے لیے نئی پالیسی: امریکہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا نئی پالیسی سے کس حد تک متاثر ہو سکتے ہیں؟

    • مصنف, دانش حسین
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

امریکہ کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہزاروں غیر ملکی طلبا کو پیر کی شب اس وقت دھچکا لگا جب حکام نے ان طلبا کو کووِڈ 19 کی وجہ سے آن لائن کلاسیں لینے والی عارضی چھوٹ میں ترامیم کرتے ہوئے آئندہ سمسٹر کے لیے نئی پالیسی کا اعلان کیا۔

نئی پالیسی کے تحت ایسے غیر ملکی طلبا کو امریکہ سے اپنے اپنے ممالک واپس جانے کی ہدایت کی گئی ہے جن کے تعلیمی اداروں میں کلاسیں مکمل طور پر آن لائن طریقہ پڑھائی پر منتقل ہو چکی ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر امریکہ میں حکام نے چند ماہ قبل سپرنگ اور سمر سمیسٹرز میں آن لائن کورسز کے حوالے سے عارضی چھوٹ دی تھی۔ اس عارضی پالیسی کے تحت غیر ملکی طلبا کو کووِڈ 19 کی ہنگامی صورتحال کے دوران قوانین کے برعکس زیادہ آن لائن کورسز لینے کی اجازت دی گئی تھی۔

تاہم اب حکام نے اس عارضی سہولت میں ترامیم کرتے ہوئے نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کا اطلاق آئندہ آنے والے فال (خزاں) سمسٹر سے ہو گا۔

یاد رہے کہ امریکہ کے تدریسی ادارے مقامی طلبا کے مقابلے میں بین الاقوامی طلبا سے زیادہ فیس وصول کرتے ہیں جبکہ کئی غیر ملکی طالب علم سرکاری وظیفے حاصل کرنے کے بعد پڑھائی کی غرض سے امریکہ منتقل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

نئی پالیسی کے اعلان کے بعد اس وقت دنیا بھر کے طلبا میں اضطراب کی کیفیت پائی جا رہی ہے اور جہاں وہ اس نئی پالیسی پر تنقید کر رہے ہیں وہیں اس کے اطلاق کے حوالے سے کنفیوز نظر آتے ہیں۔ ایسے طالبعلم بھی خدشات کا شکار ہیں جو اگلے سال یا مستقبل قریب میں پڑھائی کے غرض سے امریکہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

نئی پالیسی ہے کیا، اس کا اطلاق کن کن طلبا پر ہوگا اور غیر ملکی طالبعلم اس نئی پالیسی کے تحت امریکہ بدر ہونے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا احاطہ اس رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

کس کیٹگری کے سٹوڈنٹ ویزہ ہولڈر متاثر ہوں گے؟

کسی بھی غیر ملک کا شہری اگر امریکہ میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے امریکی ویزہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔

ایسے غیر ملکی طالبعلم جو تعلیم کے حصول کے لیے کسی امریکی سکول، کالج، یونیورسٹی یا لینگویج ٹریننگ پروگرام میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں انھیں اس مقصد کے لیے ’ایف‘ کیٹگری کے ویزے کا اجرا کیا جاتا ہے۔

جبکہ وہ تمام طلبا جو غیر روایتی یا پیشہ وارانہ (وکیشنل) تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں انھیں ’ایم‘ کیٹگری کے تحت ویزے کا اجرا کیا جاتا ہے۔

امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2019 کے دوران 2095 پاکستانی طلبا کو ایف کیٹگری کے ویزے جبکہ صرف 26 کو ایم کیٹگری کے ویزوں کا اجرا کیا گیا تھا۔

یہی وہ دو کیٹگریز ہیں جن کے حامل طلبا اس نئی پالیسی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

’ایکسچینج پروگرام سٹوڈنٹ متاثر نہیں ہوں گے‘

ایجوکیشن یو ایس اے پاکستان کی سابقہ انچارج سندس علی کے مطابق اس پالیسی سے وہ طلبا متاثر ہوں گے جو سیلف فنانس بنیادوں پر امریکہ میں زیر تعلیم ہیں یا وہاں جانے کی تیاری کر رہے تھے اور ایسے طلبا کو ہی ایف اور ایم کیٹگری کے تحت ویزوں کا اجرا کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا نئی پالیسی میں ’جے ون‘ ویزا کا ذکر نہیں ہے۔ یہ وہ کیٹگری ہے جس کے تحت امریکی حکومت کی امداد کے ذریعے چلنے والے تمام تعلیمی پروگرامز کے تحت غیرملکی طلبا امریکہ جاتے ہیں۔ ’ایسے پاکستانی طلبا جو امریکی حکومت کی جانب سے جاری کردہ وظائف اور پروگرامز کے تحت امریکہ میں زیر تعلیم ہیں وہ نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں نجی یونیوسٹیوں کی جانب سے دیے گئے تعلیمی وظائف پر پڑھنے والے پاکستانی طالبعلموں کو بھی ایف کیٹگری کا سٹوڈنٹ ویزہ دیا جاتا ہے اس لیے نئی پابندیوں کا اطلاق ایسے طالبعلموں پر بھی ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان یا ایچ ای سی کی جانب سے دیے گئے وظائف کے تحت امریکہ جا کر پڑھنے والے سٹوڈنٹس کو ’جے ون‘ ویزہ دیا جاتا ہے اور نئی پالیسی کا اطلاق ایسے طلبا پر نہیں ہو گا۔

نئی پالیسی کیا ہے اور متاثرہ طلبا امریکہ بدری سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

امریکہ کے ادارے 'سٹونٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام' کی جانب سے جاری کردہ پالیسی کے مطابق مکمل طور پر آن لائن طریقہ ذریعہ تعلیم پر منتقل ہو جانے والے امریکی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ایسے غیر ملکی طلبا جن کے ویزے کی کیٹگری ایف ون اور ایم ون ہے انھیں فل ٹائم آن لائن کورس نہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ نئی پالیسی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ ایسے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والے طلبا کو ویزا جاری نہیں کرے گا جو موسم خزاں کے سمسٹر کے لیے مکمل طور پر آن لائن تعلیم حاصل کریں گے جبکہ امریکی کسٹم اور بارڈر پروٹیکشن کے حکام ایسے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبا کو امریکہ داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ایسے طلبا جو مکمل طور پر آن لائن پر منتقل ہو جانے والے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں انھیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 'لازمی طور پر اپنے اپنے ملک واپس چلے جائیں' یا دیگر ایسے اقدامات کریں جس کے تحت وہ امریکہ میں رہنا اور تعلیم جاری رکھنا ممکن بنا سکتے ہیں۔

اور وہ اقدام یہ ہو سکتا ہے کہ طلبا آن لائن پڑھائی کروانے والے تعلیمی اداروں سے ایسے تعلیمی اداروں میں منتقل ہو جائیں جہاں 'اِن پرسن کلاسز' یعنی کلاس میں طالبعلم کی حاضری یقینی بنائی جاتی ہے۔

نئی پالیسی میں کہا گیا ہے کہ اگر طلبا نے یہ اقدامات نہ کیے تو انھیں امیگریشن سے متعلقہ نتائج بھگتا پڑ سکتے ہیں۔

نئی پالیسی کی دوسری شق کے مطابق ایسے غیر ملکی طلبا جو ایف ویزہ پر ہیں اور پہلے ہی ایسے تعلیمی اداروں میں ہیں جہاں آن لائن کے بجائے 'اِن پرسن کلاسز' ہیں، وہ محفوظ ہیں مگر انھیں ہدایت کی گئی ہے وہ زیادہ سے زیادہ ایک کلاس (یا تین کریڈٹ آور) آن لائن لے سکتے ہیں۔

وہ طلبا جو ایسے تعلیمی اداروں میں ہیں جہاں ذریعہ تعلیم مخلوط ہے یعنی آن لائن کے ساتھ ساتھ ان پرسن کلاسز بھی ہوتی ہیں، ایسے تعلیمی اداروں کو امریکی حکام کو یہ سرٹیفیکیٹ دینا ہو گا کہ غیر ملکی طالبعلموں کو کم سے کم آن لائن کلاس اٹینڈ کرنے کا کہا جائے گا۔

کیا طلبا کے لیے ادارہ منتقل کرنا آسان ہو گا؟

وہ طلبا جنھیں اب امریکہ میں اپنا قیام یقینی بنانے کے لیے آن لائن تعلیمی اداروں سے ان پرسن تعلیمی اداروں میں منتقل ہونا ہو گا ان کے لیے ایسا کرنا بالکل بھی آسان نہیں ہو گا۔

سندس علی کہتی ہیں امریکی تعلیمی اداروں میں ستمبر سے نئے سمیسٹر کا آغاز ہو رہا ہے جس پر نئی پالیسی کا نفاذ ہو گا۔

’بہت سے تعلیمی ادارے ستمبر سیشن کے تحت ہونے والے طلبا داخلوں کا پراسیس مکمل کر کے نئے ایڈمیشن کا عمل بند کر چکے ہوں گے جبکہ دیگر اداروں میں یہ عمل مکمل ہونے کے قریب ہو گا۔ ایف کیٹگری کے تحت ویزہ مخصوص تعلیمی ادارے کی جانب سے جاری کردہ آئی 20 فارم کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، جب طلبا اپنا تعلیمی ادارہ بدلیں گے تو ان کو نئے تعلیمی ادارے سے آئی 20 فارم بھی چاہیے ہو گا، جو کہ ایک مشکل پراسیس ہے۔ اتنے کم وقت میں یہ سب مکمل کرنا طلبا کے لیے انتہائی مشکل ہو گا۔‘