کشمیری کھلاڑی کا امریکہ کا ویزا مسترد

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک کھلاڑی کی امریکی ویزے کی درخواست مسترد ہوگئی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایسا امریکہ کی حالیہ امیگریشن پالیسی کی وجہ سے ہوا ہے۔

26 سالہ تنویر حسین نے نیویارک میں واقع سیرینک جھیل پر منعقد ہونے والی 2017 ورلڈ ’سنو شُو‘ چیمپیئن شپ میں شرکت کرنی تھی۔

ان کے کوچ کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی اہلکار نے انھیں بتایا کہ وہ 'حالیہ پالیسی' کی بنیاد پر ان کی مدد نہیں کرسکتیں تاہم انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔

خیال رہے کہ انڈیا ان سات ممالک میں شامل نہیں ہے جن کے شہریوں کی امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے جمعے کو ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے بعد ایران، عراق، یمن، سوڈان، لیبیا اور صومالیہ کے شہریوں پر 90 روز تک جبکہ شام کے شہریوں پر تاحکم ثانی امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

جہاں یہ ٹورنامنٹ منعقد ہونا ہے اس کاؤنٹی کے میئر سلیڈ ربیڈو کا کہنا ہے کہ بدھ کو دو سینیٹرز نے مزید تفصیلات کے لیے دلی میں امریکی سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے۔

امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ وہ انفرادی طور پر کسی کے ویزا کی درخواست مسترد ہونے پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالیہ ایگزیکٹیو آرڈر سے انڈین شہری متاثر نہیں ہوں گے۔

تنویر حسین کے کوچ عابد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے تمام کاغذات مکمل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’دعوت نامہ، تصدیق شدہ کاغذات اور نیویارک ’سنو شُو‘ فیڈریشن کا خط بھی موجود ہے لیکن جیسے ہی دلی میں امریکی سفارتخانے کی خاتون ویزا افسر نے ہمارے نام پڑھے، وہ کیبن کے اندر گئیں، کچھ دیر بعد واپس آئیں اور معذرت کی کہ وہ حالیہ امریکی ویزا پالیسی کی وجہ سے ہماری مدد نہیں کر سکتیں۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ ان کے ایگزیکٹیو آرڈر کا مطلب 'مسلمانوں پر پابندی' ہے۔

تنویر حسین نے گذشتہ سال بھی امریکہ میں سنوشُو چیمپیئن شپ میں شرکت کی تھی۔