آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بجٹ برائے مالی سال 2020-21 قومی اسمبلی سے منظور: کورونا زدہ پاکستانی معیشت 25 فیصد اضافی ٹیکس کیسے حاصل کر پائے گی؟
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے پیر کو مالی سال 21-2020 کے بجٹ کو طویل مباحثے اور چند ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا ہے۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے مالی سال 21-2020 کے بجٹ میں ٹیکسوں کا ہدف 4963 ارب روپے رکھا ہے۔ نئے مالی سال میں ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف موجودہ مالی سال سے 25 فیصد زائد رکھا گیا ہے۔
رواں مالی سال کے اختتام تک 3900 ارب روپے تک ٹیکس جمع ہونے کی توقع ہے۔
آئندہ والے مالی سال میں 25 فیصد اضافی ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف ایسے وقت میں مقرر کیا گیا ہے جب ملکی معیشت کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی معاشی سست روی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہے۔
پاکستانی معیشت میں گراوٹ کا اندازہ موجودہ مالی سال کے لیے حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے اقتصادی سروے سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق مجموعی قومی آمدنی یعنی جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہے گی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے ستر برسوں کے بعد ملک کی جی ڈی پی کی شرح منفی ہوئی ہے جس کی بنیادی وجہ کورونا وائرس اور اس کے معیشت پر منفی اثرات بتائی گئی ہے۔
جی ڈی پی اور افراط زر کے اہداف کا ٹیکس وصولی سے تعلق
حکومت نے اگلے مالی سال میں معیشت کے 2.1 فیصد کے اضافے سے بڑھنے کا ہدف مقرر کیا ہے تاہم اس کے مقابلے میں ٹیکس جمع کرنے کا ہدف 25 فیصد زائد رکھا ہے جبکہ افراط زر کا ہدف 6.50 فیصد رکھا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق جی ڈی پی اور افراط زر کی شرح میں اضافے کے اہداف کو ملایا جائے تو یہ تقریباً نو فیصد بنتی ہے اور اس شرح سے ٹیکسوں کی اضافہ قابل فہم ہے جسے ’نامینل گروتھ‘ کہا جاتا ہے یعنی جس شرح سے مجموعی قومی آمدنی ہو تو اسی تناسب سے ٹیکس بھی وصول ہوگا۔
اسی طرح جس شرح سے افراط زر یعنی مہنگائی بڑھے گی تو اشیا کے استعمال سے آنے والا ٹیکس بھی اس حساب سے جمع ہوگا۔ تاہم حکومت نے ٹیکسوں میں اضافے کا ہدف پچیس فیصد زیادہ رکھا ہے ۔ اگر جی ڈی پی اور افراط زر کی مجموعی شرح تقریباً نو فیصد کو اس میں سے نکال دیا جائے تو باقی سولہ فیصد ٹیکس کیسے جمع ہوگا اس کے بارے میں حکومتی بجٹ دستاویز خاموش ہے۔
پاکستان میں ٹیکس امور کے ماہر اشفاق تولہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی موقف کو ہی مان لیا جائے تو جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 2.5 فیصد ہوگی، یعنی منفی 0.40 سے یہ 2.1 تک پہنچے گی تو اصل اضافہ 2.5 فیصد ہوگا۔ تاہم اس کے باوجود ایک ہزار ارب روپے اضافی رقم ٹیکسوں کی مد میں جمع کرنا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔
ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہتے ہیں کہ ٹیکسوں کے اکٹھا کرنے کا ہدف غیر حقیقی ہے ۔ ایک ایسی معیشت جس میں اضافے کی شرح کا ہدف 2.1 فیصد رکھا گیا ہے اس میں پچیس فیصد اضافی ٹیکس وصول کرنا کسی طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
بجٹ میں ٹیکس وصولی کا ہدف غیر حقیقی کیوں رکھا گیا؟
پاکستان میں صرف موجودہ حکومت نے ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف غیر حقیقی نہیں رکھا بلکہ ماضی میں بھی ایسے ہی اہداف رکھے گئے جو سال کے اختتام پر ادھورے رہے۔
ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق ہمارے ملک میں بجٹ سازی کا عمل ہی الٹا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ سر کے بل کھڑے ہو کر بنایا جاتا ہے۔ دنیا میں پہلے آمدن کا تخمینہ لگایا جاتا ہے اور اس کے بعد اخراجات کا تعین کیا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں اخراجات کا تخمینہ پہلے لگایا جاتا ہے اور ان اخراجات کو دیکھ کر آمدنی کا ایک ایک تخمینہ دے دیا جاتا ہے جو اکثر غیر حقیقی ثابت ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ مالی سال 20-2019 کے بجٹ کو پیش کرتے وقت حکومت نے 5500 ارب روپے ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف مقرر کیا تھا تاہم اس ہدف کو کچھ ماہ بعد 5200 تک گرا دیا گیا۔ موجودہ سال کے شروع میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے اس ہدف میں مزید کمی کا کہا اور اسے 4800 ارب کر دیا گیا جس کی بنیاد ی وجہ ملکی درآمدات میں کمی تھی جو ملکی خزانے میں کسٹم ڈیوٹی، ایکسائز ڈیوٹی اور دوسرے ٹیکسوں کی مد میں پیسہ جمع کرتی ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان رواں مالی سال میں 3900 ارب روپے ٹیکسوں کی مد میں اکٹھا کر پائے گا۔
ٹیکس ہدف کا حصول ممکن ہے، ایف بی آر
پاکستان میں ٹیکس وصولی کے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف غیر حقیقی ہے۔
ایف بی آر کے ترجمان حامد عتیق سرور نے بتایا کہ 4900 ارب کا بجٹ اس لیے غیر حقیقی نہیں کیونکہ پاکستان موجودہ مالی سال میں 4700 ارب کا ٹیکس ہدف وصول کر سکتا تھا اگر کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی صورتحال خراب نہ ہوتی۔
عتیق سرور کے مطابق اگر ملک میں ٹیکس وصولی کی اس استعداد کو دیکھا جائے تو یہ ہدف غیر حقیقی دکھائی نہیں دیتا تاہم ایف بی آر ترجمان نے بتایا کہ کورونا کے ملکی معیشت پر منفی اثرات اور اس کی وجہ ٹیکسوں کی وصولی کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ نئے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں چار سو ارب تک ٹیکسوں کی وصولی میں کمی کو مدنظر رکھ کر یہ ہدف دیا گیا ہے ۔ تاہم اگر کورونا کے اثرات پہلی سہ ماہی کے بعد بھی جاری رہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں معیشت کو نقصان پہنچتا ہے تو مستقبل کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
ٹیکس ہدف اور آئی ایم ایف
پاکستان میں آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ٹیکسوں کی وصولی میں اضافے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں حکومتیں عالمی ادارے سے کسی بحث کے بغیر ہی ان کے مطالبات مان لیتی ہیں۔ پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہے اور اس پروگرام کے تحت ادارہ معاشی اہداف کا تعین کرتا ہے تاہم ملک کے معاشی حقائق کو مدنظر رکھ کر ایسے اہداف رکھنے چاہییں جو حاصل کیے جا سکیں۔
اس سلسلے میں اشفاق تولہ کہتے ہیں آئی ایم ایف پاکستان کو بیلنس آف پیمنٹ کے سلسلے میں مدد کرتا ہے جس کے ساتھ کڑی شرائط بھی ہوتی ہیں جنھیں پورا کرنا ضروری ہے۔
تولہ کے مطابق آئی ایم ایف ترقیاتی بینک نہیں جو مالی مدد کے لیے کوئی شرط نہیں رکھتے۔ جب ملک آئی ایم ایف پروگرام میں جائے گا تو اس کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑے گا جس میں ایسے معاشی اہداف بھی ہوتے ہیں جنھیں پورا کرنے کی ملکی معیشت میں صلاحیت نہیں ہوتی۔
12 سالوں میں ٹیکس وصولی کا رجحان
پاکستان میں گذشتہ 12 سالوں میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے اپنے دور حکومت کے پانچ سالوں میں ٹیکسوں کی وصولی کو ساڑھے آٹھ سو ارب روپے سے ساڑھے انیس ارب روپے تک پہنچایا۔ پانچ سال میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت نے ٹیکسوں کی وصولی کو ساڑھے انیس سو ارب روپے سے ساڑھے ارب روپے تک پہنچایا۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے دو سالوں میں ٹیکس وصولی کو 3900 ارب تک پہنچا سکی ہے۔ تاہم اس اضافی ٹیکس میں ڈائریکٹ ٹیکسوں سے زیادہ ان ڈائریکٹ ذرائع سے حاصل کیے جانے والے ٹیکس ہیں جس کا سارا بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔
ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا تناسب
پاکستان میں ڈائریکٹ یعنی آمدنی پر ٹیکس اور ان ڈائریکٹ ٹیکس یعنی خرید و فروخت اور اشیاء کی درآمد پر ٹیکس کا تناسب دنیا کے برعکس ہے، جہاں ڈائریکٹ ٹیکس کا تناسب ان ڈائریکٹ کی مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔
نئے مالی سال کے بجٹ کے مطابق حکومت نے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کے ذریعے 2920 ارب روپے اکھٹا کرنے کا ہدف رکھا ہے جبکہ ڈائریکٹ ٹیکسوں کے ذریعے 2043 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ان ڈائریکٹ ٹیکس وصولیوں میں کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 640 ارب روپے بھی شامل ہیں۔ 1919 ارب روپے سیلز ٹیکس اور 361 ارب روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے حاصل ہوں گے، ڈائریکٹ ٹیکسوں سے 2043 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے جن میں 2036 ارب روپے انکم ٹیکس کے ذریعے اور تین ارب 20 کروڑ 70 لاکھ روپے کارکنوں کے ویلفئیر فنڈ اور تین ارب چار کروڑ دس لاکھ روپے کیپٹل ویلیو ٹیکس کی مد میں ملیں گے۔
اس کے علاوہ گیس انفرا سٹرکچر سیس کی مد میں 15 ارب اور گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کی مد میں دس ارب روپے حاصل ہوں گے۔ مزید یہ کہ پٹرولیم لیوی میں 123.88 فیصد اضافے کے ساتھ 450 ارب روپے حاصل ہوں گے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق نئے سال میں بھی حکومت ان ٹیکسوں سے زیادہ کمائے گی جن کا اطلاق کم آمدنی اور زیادہ آمدنی والوں پر یکساں ہوتا ہے تو دوسری جانب آمدنی پر ٹیکسوں کی وصولی کم سطح پر رہے گی۔
ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق ان ڈائریکٹ ٹیکس کھپت پر ہوتا ہے جو غریب و امیر یکساں ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں ڈائریکٹ ٹیکس زیادہ اکٹھے کیے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا تناسب مجموعی وصولی میں زیادہ ہے جس کا سارا بوجھ صارف اٹھاتا ہے۔
اشفاق تولہ نے کہا نئے مالی سال کے بجٹ میں بھی ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا تناسب زیادہ ہے جس کی بنیادی وجہ تقریباً 40 فیصد ایسے شعبوں سے ڈائریکٹ ٹیکسوں کی وصولی میں ناکامی ہے جن میں ٹیکس وصولی کی استعداد موجود ہے۔ ان کے مطابق ہول سیل اور ریٹیلرز اپنی استعداد سے بہت کم ڈائریکٹ ٹیکس ملکی خزانے میں جمع کراتے ہیں۔