آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ: ’عوام کی توقع تھی کہ اہم فیصلے کیے جائیں گے مگر یہ بجٹ میں موجود نہیں‘
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
یوں تو ہر سال ہی نئے بجٹ میں محصولاتی آمدنی میں اضافے، ادائیگیوں کے توازن میں بہتری اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کرنے پر توجہ مرکوز رہتی ہے، مگر اس بار کورونا وائرس ایک نئے ہیڈ کے طور پر بجٹ میں سامنے آیا۔ ماہرین کہتے ہیں اس بہانے ہی سہی مگر صحت کا بجٹ کچھ بڑھایا گیا ہے۔ مگر یہ اب بھی بہت کم ہے۔
آئندہ مالی سال کے لیے پیش کیے گئے بجٹ کا حجم گزشتہ مالی سال سے تقریبا گیارہ فیصد کم ہے۔ گزشتہ برس بیاسی کھرب اڑتیس ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا تھا تاہم آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کی رقم اس سے تقریبا دس کھرب روپے کم ہے۔
بجٹ میں حکومت نے نئے ٹیکسز تو نہیں لگائے مگر اسی دوران حکومت آئندہ مالی سال کے لیے 27 فیصد ایف بی آر ریونیو جمع کرنے کا ٹارگٹ بھی طے کر رہی ہے جو کہ ماہرین کے مطابق عملی طور پر ممکن نہیں نظر آتا۔
ماہرین کی رائے
جہاں ایک جانب حزب اختلاف نے بجٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے تو دوسری جانب کئی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ حکومت سے معیشت میں بہتری کے لیے مثبت اقدامات اور ایک ریلیف بجٹ کی جو توقع کی جا رہی تھی، اس ضمن میں کوئی بڑا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق بلاواسطہ ٹیکسز میں کمی کرتے تو عوام کو کچھ ریلیف مل سکتا تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہو تجزیہ کار اور معاشی امور کے ماہر محمد سہیل نے کہا کہ کئی بڑے اقدامات کی توقع کی جا رہی تھی، مگر وہ سامنے نہیں آئے۔
'کورونا وائرس کے باعث جو معیشت پر اثر پڑا اور ہر قسم کے کاروبار متاثر ہوئے، اس وجہ سے شاید عوام کی توقع تھی کہ اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ مگر یہ بجٹ میں موجود نہیں ہیں۔'
محمد سہیل کہتے ہیں کہ 'ٹیکس جمع کرنے کا ہدف غیرحقیقی حد تک بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ معاشی صورتحال میں یہ ممکن نہیں ہو گا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو چھ ماہ بعد ایک منی بجٹ لانے کی ضرورت پڑے گی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم وہ سرکاری اہلکاروں کی تنخواہوں اور پنشنز میں اضافہ نہ کرنے کو حکومتی اخراجات قابو میں رکھنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔
وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ہیلتھ سروسز کے بجٹ میں کل اضافہ تقریباً 130 فیصد کیا گیا ہے مگر کورونا وائرس کے لیے صرف ستر ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کو ماہرین آئندہ چند ماہ میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہایت کم قرار دے رہے ہیں۔'
ماہرین کے مطابق حکومت نے مالی مشکلات کے شکار گھرانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے احساس پروگرام کے لیے بجٹ میں اضافہ کر کے اسے 208 ارب روپے تو کیا ہے 'لیکن 187 ارب روپے سے بڑھا کر 208 ارب کر دینا بڑا اضافہ نہیں ہے۔'
ماہرین کے خیال میں حکومت کی توجہ تعمیرات اور سیاحت پر رہی ہے۔ نئے ٹیکس کا اعلان تو نہیں کیا مگر بعض شعبوں میں ٹیکس بڑھایا گیا ہے۔
حزب اختلاف کا ردعمل
دوسری جانب حزب اختلاف کے رہنماؤں نے بجٹ پر شدید احتجاج کیا ہے۔
جس وقت حماد اظہر قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کر رہے تھے، اسمبلی کا حال پوری تقریر کے دوران حکومت مخالف نعروں سے گونجتا رہا۔
اپوزیشن ممبران نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر 'آٹا چور اور چینی چور' جیسے نعرے درج تھے۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اراکین اسمبلی کو خاموش رہنے کی تلقین متعدد بار کی مگر حزب اختلاف کے ممبران ڈٹے رہے اور ہال ان کے نعروں اور شور سے گونجتا رہا۔
اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ آصف نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ایک پائی کا ریلیف نہیں دیا گیا۔
'اس سے قبل تو پچھلے بجٹ میں حکومت مسلم لیگ ن پر الزام لگاتی رہی خسارے اور معاشی صورتحال کا، اور اس بجٹ گزشتہ دس سال کی حکومتوں کو رگڑ دیا ہے۔ یہ صرف اپنی کمزوریوں کو چھپا رہے ہیں۔'
کچھ ایسا ہی بیان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی جانب سے بھی سامنے آیا، اور انھوں نے کہا کہ 'موجود حکومت کورونا وائرس کے پیچھے اپنی نااہلی چھپا رہی ہے۔'
مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے بجٹ کو 'کامیڈی' قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کریڈیبیلیٹی ختم ہو گئی ہے۔
وہ کہتے ہیں حکومت نے اس سے پہلے دو بار منی بجٹ دیا۔ آج یہ تمام معاشی خسارے کی ذمہ داری کورونا وائرس پر ڈال رہی ہے مگر مارچ تک تو کورونا وائرس کے اثرات پاکستانی معیشت پر نہیں پڑے تھے۔
'حماد اظہر نے ٹیکس ریونیو میں 900 ارب کے شارٹ فال کی وجہ کورونا وائرس کو قرار دیا ہے جو کہ ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ مارچ تک تو یہ تین ٹریلین روپے اکٹھے کر چکے تھے۔ اس لحاظ سے تو انھیں 4.2 پر کلوز کرنا تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت کی کریڈیبلٹی اور ان کے اعداد و شمار پر اب کوئی اعتبار نہیں رہا، نہ ہی منصوبہ بندی کے اعداد وشمار پر اور نہ ہی ان کی کارکردگی کی حوالے سے۔'
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی ایسا ہی ردعمل سامنے آیا ہے۔
شیری رحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیا اور کہا کہ محض اعداد و شمار کا ردوبدل کیا گیا ہے۔
'موجودہ صورتحال میں کورونا کے علاوہ ٹڈل دل کا سامنا ہے۔ نہ فنانس کمیٹی کو آن بورڈ لیا گیا اور نہ ہی بجٹ پرکوئی بحث ہوئی، یہ کوئی بجٹ نہیں بلکہ اکاؤنٹنگ ایکسرسائز ہے۔ موجودہ حکومت نے 18 ماہ میں جتنے قرض لیے، اتنے کسی حکومت نے نہیں لیے تھے، حکومت اس وقت لوگوں کو روزگار دینے کے بجائے بیروزگار کررہی ہے۔'
'تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوگا'
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ ملک میں پہلے سے جاری معاشی بحران اور کورونا کے باعث معیشت کی مزید بگڑتی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔
معاشی ماہرین اس اقدام کو حکومتی اخراجات کم کرنے کے لیے ایک اہم قدم سمجھ رہے ہیں لیکن حزب اختلاف نے اسے حکومت کی نااہلی قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس کے بجٹ میں گریڈ 1 سے 16 کے سرکاری ملازمین کے لیے 10 فیصد اور گریڈ 17 سے 20 کے ملازمین کے لیے پانچ فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا تھا جبکہ گریڈ 21 اور 22 کے ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ ملک کی مسلح افواج کے گریڈ 16 سے اوپر کے افسران نے تنخواہ میں اضافے سے رضاکارانہ طور دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔
رواں برس گذشتہ سالوں کے برعکس تنخواہوں میں ایڈہاک ریلیف بھی فراہم نہیں کیا گیا اور فی الحال تنخواہیں گذشتہ سال کے اضافے پر منجمد کی گئی ہیں۔
وفاقی سرکاری ملازمین کی جانب سے روپے کی قدر میں کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
یہاں تک کہ گذشتہ ماہ وزارت دفاع کا لکھا گیا وہ خط بھی منظرِ عام پر آیا تھا جو وزارت نے مسلح افواج کے اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے وزارت خزانہ کو لکها تھا۔
اس خط میں کہا گیا تھا کہ مسلح افواج کے اہلکاروں کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے۔
لیکن دیگر وفاقی سرکاری ملازمین کی طرح مسلح افواج کے اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا اور مسلح افواج میں گریڈ 16 سے 22 تک کے افسران وہی تنخواہ حاصل کر رہے ہیں جو دو سال قبل بجٹ میں طے کی گئی تھی۔
دفاعی بجٹ
دفاعی بجٹ بارہ کھرب ۸۹ ارب روپے رکھا گیا ہے جو گذشتہ برس پیش کیے گئے بجٹ سے 11.8 فیصد جبکہ ریوائزڈ بجٹ سے پانچ فیصد زیادہ ہے۔
پاکستان میں بجٹ سے متعلق ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اس کا ایک بڑا حصہ دفاع کو دیا جاتا ہے۔
تاہم گذشتہ چند برسوں کے بجٹ دستاویزات کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 13-2012 میں کل بجٹ کا 17.19 فیصد دفاع کے لیے مختص کیا گیا، 14-2013 میں 15.74 فیصد، جبکہ 16-2015 میں کل بجٹ کا 16.27 فیصد دفاع کے لیے مختص کیا گیا۔ 18-2017 میں اس میں سات فیصد اضافہ ہوا جبکہ مالی سال 19-2018 میں مسلم لیگ ن نے اس میں 18 فیصد اضافے کی تجویز دی تھی۔
خیال رہے کہ دفاعی بجٹ میں سے بڑا حصہ مسلح افواج کے اہلکاروں کی تنخواہوں اور دیگر الاونسسز کے لیے مختص ہے تاہم ریٹائر ہونے والے اہلکاروں کی پنشن اس کا حصہ نہیں ہوتی۔
اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ راشن، علاج معالجے اور تربیتی امورکے ساتھ ساتھ اسلحہ، بارود و دیگر ایمونیشن کے لیے رقم مختص کی جاتی ہے۔ اس میں انفراسٹرکچر کی مرمت اور نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے بھی رقم شامل ہے۔
وزارت دفاع کی جانب سے خط میں تجویز دی گئی کہ 2016 سے 2019 کے دوران فوجی اہلکاروں اور افسران کی تنخواہ میں عارضی اضافے یعنی ایڈہاک الاؤنس کو مستقل طور پر بنیادی تنخواہ کا حصہ بنا دیا جائے اور اس کے بعد تنخواہ میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے۔
پاکستان کی مسلح افواج کو 2016، 2017 اور 2018 کے مالیاتی بجٹ میں دس، دس فیصد کا ایڈہاک ریلیف دیا گیاتھا اور 2019-20 کے مالیاتی سال میں یہ ریلیف پانچ فیصد تھا۔
اس کے علاوہ 2018 میں المیزان ریلیف فنڈ بھی دس فیصد دیا گیا۔ اس سے قبل 2015 میں بھی مسلح افواج کے گذشتہ چند برسوں کی ایڈہاک فنڈ کو تنخواہ کا حصہ بنا کر مجموعی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا تھا۔
2015 کے بعد بنیادی تنخواہ میں کسی بھی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ ایڈہاک ریلیف دیا جاتا رہا ہے۔ لیکن آئندہ مالی سال کے لیے یہ ریلیف نہیں دیا گیا ہے۔