پی ٹی آئی کے پنجاب کے ناراض اراکین: ' ہمیں نہیں معلوم ہماری جماعت ہمیں اپنا سمجھتی ہے یا نہیں '

اسمبلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عمردراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکینِ اسمبلی شکوہ کرتے سامنے آئے ہیں کہ ان کے حلقے کے مسائل جوں کے توں ہیں، ووٹر ان سے ناراض ہے اور ان کی اپنی حکومت میں ان کی شنوائی نہیں ہے۔

ان ممبران کو حالیہ طرزِ حکومت پر اعتراضات ہیں۔ وفاقی وزرا ان کی بات نہ سنتے ہیں اور نہ مانتے ہیں اور وزیرِاعظم عمران خان تک ان کی رسائی نہیں۔ حال ہی میں چند اراکینِ قومی اسمبلی نے سامنے آ کر برملا ایسی شکایات کا اظہار کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈیرہ غازی خان سے پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی خواجہ شیراز کا کہنا تھا کہ 'ہم پنجاب کے اراکین کے پاس کوئی پلیٹ فارم نہیں جہاں ہم اپنے مسائل لے کر جا سکیں۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہماری جماعت ہمیں اپنا سمجھتی ہے کہ نہیں۔'

اراکین کی طرف سے یہ تنقید اور شکایات اس وقت سامنے آ رہی ہیں جب حال ہی میں ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کابینہ کے اراکین کے درمیان مبینہ اختلافات کے حوالے سے بات کی تھی۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

قومی اسمبلی میں جاری بجٹ اجلاس میں بحث کے دوران بھی جنوبی پنجاب، وسطی پنجاب اور خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والے کئی اراکین نے اپنی ہی حکومت کی کئی پالیسیوں اور موجودہ معاشی صورتحال پر کھل کر تنقید کی۔

ایوان میں زیادہ تر اراکین نے اپنے حلقے کے مسائل پر بات کی۔ یہ باتیں کچھ ترقیاتی کاموں تو کچھ پٹرول کی عدم دستیابی اور گندم کی قیمت کے گرد گھومتی تھیں۔ ایوان سے باہر انھوں نے زیادہ کھل کر باتیں کیں۔

راجن پور سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رہنما ریاض محمود خان مزاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے علاقے میں لاقانونیت اور جرائم میں بڑھتا ہوا اضافہ ایک بہت بڑا مسئلہ رہا ہے اور وہ اس کے خاتمے ہی کے ایجنڈے پر ووٹ لے کر اسمبلی تک پہنچے تھے۔

تاہم حکومت میں آنے کے بعد سے اب تک کسی نے ان کی بات نہیں سنی اور اس مسئلے کے حل کے لیے توجہ نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے ان کے کئی ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔ بجٹ اجلاس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے اس کی طرف حکومتی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی تھی۔

پاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جماعت کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں وہ یہ مسائل کیوں نہیں اٹھاتے؟

ریاض محمود خان مزاری یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اس مسئلے سمیت ان کے حلقے کے دیگر مسائل اتنے بڑے یا مشکل نہیں تھے کہ ان کے لیے ایوان میں بات کرنے کی ضرورت پڑے۔ ایسی باتیں جماعت کی پارلیمانی کمیٹی کے دوران ہو جانی چاہیں۔

'لیکن پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہو تو تب بات ہو۔ اگر ہوتا بھی ہے تو اتنا مختصر کہ وہاں ہمیں بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔' ان کا کہنا تھا کہ اس میں بھی وزیرِاعظم عمران خان کم ہی شریک ہوتے ہیں۔

ایم این اے خواجہ شیراز کے مطابق بجٹ کا اجلاس ایک ایسا موقع ہوتا ہے جہاں پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں وزیرِ اعظم تک اراکین کی رسائی آسان ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی یہ روایت رہی ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ناراض اراکین کو منایا جاتا ہے، ان کی بات سنی جاتی ہے۔

'اس مرتبہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت (وزیرِ خارجہ) شاہ محمود قریشی صاحب نے کی۔ اب قریشی صاحب کے پاس تو کسی قسم کا اختیار نہیں ہے کہ وہ ہمیں ناراض یا راضی کریں۔'

کیا ایسے مسائل کا حل صرف وزیرِاعظم کے پاس ہے؟

ریاض محمود خان مزاری کا کہنا تھا کہ ان کی 'آج تک وزیرِاعظم عمران خان سے دو بدو صرف ایک ملاقات ہو پائی ہے اور اس کا دورانیہ پانچ منٹ سے بھی کم ہو گا۔'

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان کے یا اراکینِ اسمبلی کے اس نوعیت کے مسائل کا حل صرف وزیرِاعظم کی مداخلت ہی سے ہو سکتا ہے؟

اس سوال پر ریاض محمود خان مزاری کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ وہ کس کے پاس جائیں، کس متعلقہ وفاقی وزیر سے بات کریں۔

'کابینہ میں آدھے سے زیادہ تو غیر منتخب افراد بیٹھے ہیں۔ وہ نہ تو ہمیں اہمیت دیتے ہیں اور نہ ہی ہمارے مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ انھیں تو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ دوبارہ ووٹ مانگنے انھیں تو عوام کے پاس نہیں جانا، ہمیں جانا ہے۔'

ڈیرہ غازی خان سے خواجہ شیراز بھی ان کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اراکینِ اسمبلی کی جماعت کے اندر کوئی شنوائی نہیں ہے۔

'پہلے بتانا پڑتا ہے کہ میں ایم این اے ہوں'

پاکستان

،تصویر کا ذریعہFacebook/Khawajasharazpti

،تصویر کا کیپشنخواجہ شیراز عمران خان کے ہمراہ

خواجہ شیراز کے مطابق 'ہم اگر کسی غیر منتخب وزیر کے پاس جاتے ہیں تو پہلے تو ہمیں انھیں یہ بتانا پڑتا ہے کہ میں ایم این اے ہوں۔ لیکن اس کو کیا لگے، میں لاکھ بار ایم این اے ہوں۔ وہ کوئی اسمبلی نمائندہ تھوڑی ہے۔ وہ وہاں مجھے کوئی جواب دہ تھوڑی ہے۔'

ان کا کہنا تھا اس کی جگہ اگر ان کا کوئی منتخب ساتھی اور اسمبلی کا نمائندہ بیٹھا ہو گا تو اس کے ساتھ بات اور طرح سے ہو پائے گی۔

پی ٹی آئی کے فیصل آباد سے رکنِ قومی اسمبلی راجہ ریاض نے حال ہی میں ایک مقامی نجی ٹی وی چینل کے پرگرام پر بات کرتے ہوئے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیرِ اعظم کے گرد ایک خاص گروہ ہے۔ اور اگر وزیرِاعظم ہماری بات سنتے بھی ہیں تو اس پر ان کی اپنی ایک سوچ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اراکینِ اسمبلی شاید اپنے ذاتی مفادات کی بات کرتے ہیں جبکہ ہم تو جماعت کی بہتری کی بات کرتے ہیں۔'

'ہمیں لوگوں کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے'

ایم این اے ریاض مزاری کا کہنا تھا کہ لوگوں نے انھیں اور ان کے ذریعے پی ٹی آئی کو اس اعتماد کے ساتھ ووٹ دیا ہے کہ ان کے حالات بدلیں گے، ان کے مسائل کا حل ہو گا۔

'مثال کے طور پر جب بے ضابطگیوں کی وجہ سے علاقے میں بے جا بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو اور آپ اس کے حل کے لیے کچھ نہ کر سکیں تو لوگوں کے سامنے ہمیں شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ان کی پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا اور وہ اسمبلی کے ایوان سے آواز اٹھاتے ہیں لیکن وہاں سے بھی ان کی بات پر توجہ نہیں دی جاتی۔ ریاض محمود مزاری کے مطابق ان کی اسمبلی میں حالیہ تقریر کے بعد بھی جماعت میں سے کسی نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔

'لیڈران کو غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ سارا ووٹ ان کا ہے'

پاکستان

،تصویر کا ذریعہNational Assembly

،تصویر کا کیپشنریاض محمد خان مزاری

ریاض محمود خان مزاری کا کہنا تھا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو اس میں اگر رکن اسمبلی اور ووٹر دونوں کو عزت ملے تو کون جماعت کو چھوڑنا چاہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر سیاسی جماعت کا اپنا ایک ووٹ بینک ہوتا ہے لیکن کہیں وہ ایک یا دو فیصد ہو گا کہیں دس یا چالیس فیصد بھی ہو گا اور ایسا زیادہ تر شہری علاقوں میں ہوتا ہے۔

'دیہاتی علاقوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں ہر شخصیت کا اپنا ووٹ ہوتا لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں کوئی بھی جماعت ہو یا کوئی بھی لیڈران ہوں وہ جب اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں تو انھیں یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ سارا ان کا ووٹ بینک ہے۔'

ڈیرہ غازی خان سے قومی اسمبلی کے رکن خواجہ شیراز کا کہنا تھا کہ وہ تمام تر شکوے شکایات کے باوجود یہ توقع کرتے ہیں کہ ان کی بات پر توجہ دی جائے گی اور امید کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں معاملات کو بہتر بنایا جائے گا۔