ضمنی انتخابات: قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی جبکہ پنجاب اسمبلی میں نواز لیگ کی برتری

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu

،تصویر کا کیپشنسابق وزیر اعظم نواز شریف لاہور میں ووٹ ڈالنے گئے لیکن وہ نہیں ڈال سکے کیونکہ ان کے پاس ان کا شماختی کارڈ نہیں تھا

پاکستان کے الیکشن کمیشن کے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 14 اکتوبر کو قومی اسمبلی کی 11 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ن نے چار، چار نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ق کے حصے میں دو نشستیں آئی ہیں جبکہ متحدہ مجلس عمل نے ایک نشست جیتی ہے۔

ان انتخابات میں پہلی مرتبہ دوسرے ممالک میں مقیم پاکستانی بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

پاکستان میں جولائی میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی خالی ہونے والی نشستوں پر اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں پولنگ ہوئی۔

ان ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی 11 نشستوں کے علاوہ صوبائی اسمبلیوں کی 24 نشستیں بھی شامل تھیں۔

پاکستان تحریک انصاف اپنے سربراہ اور ملک کے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے خالی کی گئی چار نشستوں میں سے دو ہی جیتنے میں کامیاب ہو سکی۔

این اے 53 اسلام آباد سے علی نواز اعوان جبکہ کراچی کے حلقے این اے 243 سے عالمگیر خان نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی ہے۔

تحریک انصاف کو بقیہ دو نشستیں راولپنڈی سے ملیں جہاں این اے 60 سے وزیر ریلویز شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق اور این اے 63 سے منصور حیات خان قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

تحریک انصاف لاہور اور بنوں سے خالی کی گئی نشستیں جیتنے میں ناکام رہی۔

لاہور این اے 131 سے مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر سعد رفیق نے پاکستان تحریک انصاف کے ہمایوں اختر کو 10 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے شکست دی جبکہ بنوں میں اکرم خان درانی کے بیٹے اور متحدہ مجلس عمل کے امیدوار نسیم اکرم درانی نے تحریک انصاف کے امیدوار کو شکست دی۔

مسلم لیگ نون نے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی جیتی ہوئی ایک اور نشست اٹک سے ضمنی انتخاب میں اپنے نام کی۔ یہاں ملک سہیل خان نے پی ٹی آئی ملک خرم خان کو شکست دی۔

لاہور میں این اے 124 سے حمزہ شہباز کی خالی کردہ نشست پر سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے رہنما شاہد خاقان عباسی جیت گئے۔ نون لیگ کو چوتھی نشست فیصل آباد سے این اے 103 سے ملی۔ اس حلقے میں امیدوار کے انتقال کی وجہ سے جولائی میں ہونے والے انتخابات ملتوی کر دیے گئے تھے۔

ضمنی انتخابات

،تصویر کا ذریعہAFP

ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ق کے چوہدری برادران کی اگلی نسل بھی قومی اسمبلی میں پہنچ گئی۔ این اے 69 میں سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کے بیٹے مونس الہی جبکہ این اے 65 سے چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے چوہدری سالک حسین نے کامیابی حاصل کی۔

صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات

خیبر پختونخوا میں ضمنی انتخاب میں نو نشستوں پر ووٹنگ ہوئی جن میں سے چھ پاکستان تحریک انصاف جبکہ دو نشستیں عوامی نیشنل پارٹی جیتنے میں کامیاب رہی اور ایک نشست پاکستان مسلم لیگ نواز کے حصے میں آئی۔

پشاور سے عوامی نیشنل پارٹی کی ثمر ہارون بلور ڈیڑھ دہائی میں صوبے میں کسی بھی عام نشست سے کامیاب ہونے والی پہلی خاتون بن گئیں۔ اس حلقے میں ان کے شوہر ہارون کی شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاکت کی وجہ سے 25 جولائی کو انتخابات نہیں ہوئے تھے۔

پنجاب میں 13 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں سے چھ نشستیں مسلم لیگ نواز، پانچ پاکستان تحریک انصاف جبکہ دو آزاد امیدواروں نے جیتی ہیں۔

سندھ اسمبلی کے دونوں حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں میں سے ایک کے نتیجے کا اعلان کیا گیا ہے جس پر آزاد امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے۔