بجٹ 2020-21: بلوچستان حکومت نے تاریخی خسارے کا بجٹ پیش کر دیا، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان حکومت نے مالی سال 2020-21 کے لیے 87 ارب 61 کروڑ روپے سے زائد کے تاریخی خسارے کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔
مالی مشکلات کے باعث وفاقی حکومت کی طرح بلوچستان کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔
بجٹ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے پیش کیا جس کے دوران حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے بطور احتجاج واک آﺅٹ کیا۔
بجٹ کا مجموعی حجم 465 ارب 52کروڑ روپے ہے۔بجٹ میں وفاقی اور صوبائی محاصل سے آمدن کا تخمینہ 377 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 309 ارب جبکہ ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 118 ارب روپے ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئندہ مالی سال کے دوران بلوچستان حکومت کو 87 ارب 61 کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا جو کہ بلوچستان کی تاریخ میں کسی بھی بجٹ کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔
بجٹ میں تعلیم کی مد میں 71 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جو کہ رواں سال کے مقابلے میں نو ارب روپے زیادہ ہیں تاہم شعبہ تعلیم کے بجٹ میں سب سے بڑا حصہ محکمہ تعلیم کے ملازمین کی تنخواہوں کا ہے۔
تعلیم کے بعد امن و امان وہ شعبہ ہے جس کے لیے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔ امان و امان کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 44 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
کورونا کے باعث صحت کے بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اس شعبے کے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 31 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKhair Muhammad
وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صحت کے آئندہ مالی سال کے غیر ترقیاتی اخراجات میں 32 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ اس شعبے کے ترقیاتی اخراجات کے لیے سات ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
پہلی مرتبہ بلوچستان میں ایمرجنسی ایئر ایمبولینس شروع کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایئر ایمبولینس کی خریداری کے لیے مالی سال 2020-2021 میں 2.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں سماجی تحفظ کے شعبوں اور ان کی ترقی کے لیے 11 ارب روپے، ضلعی ترقیاتی پروگرام کے لیے پانچ ارب روپے، کھیل، ثقافت اور مذہبی امور کے لیے تین ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بلوچستان میں بے روزگاری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، بجٹ میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئی سرکاری آسامیاں رکھی گئی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں بلکہ صرف 6840 ہے۔
مالی مشکلات کے باعث ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ نہیں کیا گیا تاہم کورونا کی صورتحال کے باعث طبی عملے کے لیے فوری طور پر دو بنیادی تنخواہوں کے مساوی ہیلتھ رسک الاﺅنس دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مختلف کیٹیگریز کے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے لیے ہیلتھ پروفیشنل الاﺅنس کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔










