اسلام آباد پولیس نے انڈین ہائی کمیشن کے گرفتار دو اہلکار رہا کردیے

انڈین

،تصویر کا ذریعہHandout

اسلام آباد پولیس نے پیر کے روز تیز رفتاری سے گاڑی چلانے اور جعلی کرنسی رکھنے کے الزام میں گرفتار انڈین ہائی کمیشن میں تعینات عملے کے دو ارکان کو رہا کر دیا۔

تھانہ سیکریٹیریٹ کے ایس ایچ او نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو رہائی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ کی طرف سے پولیس کو بتایا گیا کہ حراست میں لیے گئے ان عملے کے اہلکاروں کو سفارتی استثنی اس وجہ سے حاصل ہے کیونکہ جب انھیں گرفتار کیا گیا تو وہ ڈیوٹی پر تھے۔

پولیس کے مطابق ان دو انڈین اہلکار جن کی شناخت ڈرائیور سلوادیس پال اور سکیورٹی افسر داوامو براہامو کے ناموں سے کی گئی ہے کو دفتر خارجہ کے حکام کی موجودگی میں تھانے سے رہا کیا گیا۔

ایف آئی آر میں پولیس نے حراست میں لیے گئے افراد کے خلاف تیز رفتاری سے گاڑی چلانے اور جعلی کرنسی رکھنے کا مقدمہ درج کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس کے مطابق ڈرائیونگ میں لاپرواہی کی وجہ سے انڈین اہلکاروں کی تیز رفتار گاڑی نے سڑک کراس کرنے والے ایک شخص کو ٹکر دے ماری، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ایک انڈین اہلکار کی پتلون کی جیب سے دس ہزار جعلی پاکستانی کرنسی بھی برآمد ہوئی۔

اس سے قبل پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع انڈین ہائی کمیشن کا کہنا تھا کہ ان کے دو ساتھی پیر کی صبح آٹھ بجے سے لاپتہ ہیں۔

بی بی سی نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے ایک اہلکار نے اپنے دو ساتھیوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی لیکن اس بارے میں مزید کوئی تفصیلات نہیں دی تھیں۔

انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی اور پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انڈین وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں دلی میں پاکستانی سفارت خانے کے اہلکاروں کو طلب کر کے اپنے اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی شکایت درج کرائی ہے۔

انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے اس بارے میں ابھی تک باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

خیال رہے کہ انڈین ذرائع ابلاغ میں پیر کی صبح سے اسلام آباد میں انڈین سفارتخانے کے دو اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی خبریں شائع اور نشر ہوئی تھیں۔

انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق اسی تناظر میں نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور کو پیر کو وزارتِ خارجہ طلب بھی کیا گیا۔

اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ کے انچارج کے مطابق مبینہ حادثے کے بعد انڈین ہائی کمیشن کے دونوں اہلکاروں نے جائے حادثہ سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن انھیں موقع پر موجود شہریوں نے پکڑ لیا۔

پاکستان کے مقامی میڈیا پر بھی اس مبینہ حادثے کی خبریں نشر کی جاتی رہیں مگر دن بھر ایسے کسی بھی افراد کی گرفتاری کے بارے میں اسلام آباد پولیس یا دفتر خارجہ کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ انڈیا نے چند ہفتے قبل ہی پاکستانی سفارتخانے کے دو اہلکاروں پر جاسوسی کا الزام عائد کرنے کے بعد انھیں ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

اس اقدام پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ سفارتی عملے کے دو اراکین کو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر 31 مئی کو حراست میں لیا گیا تھا اور نئی دلی میں پاکستانی سفارتخانے کی مداخلت کے بعد انھیں رہا کیا گیا۔

پاکستان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ انڈیا کی جانب سے یہ اقدام میڈیا کے ذریعے چلائی گئی سوچی سمجھے مہم کے بعد کیا گیا ہے جو پاکستان مخالف پروپیگنڈا کا حصہ ہے۔