آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شہباز تتلہ اور مفخر عدیل کیس: ’واقعاتی ثبوتوں پر کھڑے مقدمے کی ایک بھی کڑی کمزور پڑی تو سارا مقدمہ بکھر جائے گا‘
- مصنف, شاہد اسلم
- عہدہ, صحافی، لاہور
فوجداری مقدمات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس نے اپنے سینیئر افسر، ایس ایس پی مفخر عدیل کے خلاف مقدمۂ قتل کا جو چالان عدالت میں پیش کیا ہے اس میں پائی جانے والی کمزوریوں کی وجہ سے ملزم کو سخت ترین سزا دلوانا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
مفخر عدیل پر اپنے دوست وکیل شہباز تتلہ کو قتل کرنے کا الزام ہے اور اس قتل کا اعتراف وہ پولیس کے سامنے اقبالی بیان میں کر چکے ہیں۔
لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان عدالت کے سامنے لے کر نہ جانا، واقعاتی شہادتوں پر حد سے زیادہ انحصار اور سب سے بڑھ کر اس قتل کی اصل محرک، جو بقول ملزم قتل کی وجہ بنیں، یعنی مفخر عدیل کی سابقہ بیوی اسما عنایت کو تتفتیش کا حصہ نہ بنانا اس مقدمے کو کمزور بنا رہے ہیں۔
مفخر عدیل نے اپنے دوست کو قتل کرنے کی جو بنیادی وجہ پولیس کو بتائی وہ تھی شہباز تتلہ کے ہاتھوں ان کی سابق اہلیہ اسما کا ریپ تھا تاہم اسما نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس ساری کہانی کی تردید کر دی ہے۔
ایسے میں وجہ عناد اگر عدالت میں ثابت ہی نہ ہو سکی تو اس کیس میں کتنی جان رہ جائے گی، قانونی ماہرین اس سوال کا جواب بھی پولیس کی پراسیکیوشن برانچ سے پوچھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’مفخر نے مجھ پہ جو کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی وہ بالکل جھوٹ ہے‘
بی بی سی نے جب اس مقدمے کے اہم کرداروں میں سے ایک یعنی مفخر عدیل کی پہلی اہلیہ اسما سے بات کی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے سابق شوہر نے ان کے کردار کے متعلق جو پولیس کو بتایا ہے کہ شہباز تتلہ نے ماضی میں ان سے زیادتی یا زبردستی کی تھی وہ بالکل غلط اور بےبنیاد ہے کیونکہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اپنے بیان میں مفخر نے مجھ پر جو کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی وہ بالکل جھوٹ ہے اور اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔‘
مفخر سے طلاق کی وجہ پر بات کرتے ہوئے اسما کا کہنا تھا کہ ان کے اور مفخر کے درمیان طلاق کسی تیسرے شخص کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی بلکہ ان کے اپنے سابقہ شوہر سے ذاتی سطح پر سخت قسم کے اختلاف تھے جن کا اختتام 2018 میں ان کے خلع لینے کی صورت میں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مفخر کے متعلق جس طرح کے معاملات منظر عام پر آ رہے ہیں تو کوئی بھی عقلمند انسان ایسے شخص کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرے گا‘۔
مفخر عدیل اور اسما کی شادی سنہ 2002 میں ہوئی تھی اور ان کے قریبی خاندانی ذرائع کے مطابق ان کے درمیان چپقلش اور رنجش کافی سالوں سے جاری تھی۔
ذرائع کے مطابق 2017 میں اسما نے اپنے ایک قریبی عزیز کو بتایا تھا کہ وہ مفخر سے اس قدر تنگ ہیں کہ طلاق لینا چاہتی ہیں۔
اس عزیز کے سمجھانے پر معاملہ کچھ عرصہ کے لیے ٹل گیا تھا لیکن جب 2018 میں مفخر نے دوسری شادری کی تو اسما نے بالآخر ان سے طلاق لے لی اور اپنے تینوں بچوں کو اپنے سابق شوہر کے پاس چھوڑ کر والدین کے گھر چلی گئی تھیں۔
شہباز تتلہ کے قتل کے حوالے سے اسما نے کہا کہ ’اگر مفخر نے کچھ غلط کیا ہے تو اسے ضرور سزا ملنی چاہیے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر عدالت انھیں اس کیس میں بلائے گی تو وہ اپنے وکیل سے مشاورت کے بعد ہی اس کے متعلق کوئی فیصلہ کریں گی۔
شہباز تتلہ سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اسما کا کہنا تھا کہ ’ان کی شہرت بھی پچھلے چند برسوں سے کوئی خاص اچھی نہیں تھی۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ مقتول کے کردار کے حوالے سے بذات خود تو انھوں نے کچھ نہیں دیکھا لیکن سنا ضرور تھا۔
بی بی سی نے ملزم مفخر کی دوسری بیوی عزا سے بھی ان کا مؤقف جاننے کے لیے جب رابطہ کیا تو انھوں نے یہ کہہ کر بات کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ اس معاملے پر کسی بھی طرح کے سوالات کا جواب دینا نہیں چاہتیں۔
خیال رہے کہ ملزم مفخر کے مطابق انھیں اپنی سابقہ بیوی اسما کے چند برس قبل شہباز تتلہ کے ہاتھوں ریپ کیے جانے کا علم کچھ ماہ قبل اپنی دوسری بیوی عزا سے ہوا تھا۔
’وجۂ عناد کا کھوج نہیں لگ سکا ہے‘
مفخر عدیل نے تو قتل کی وجہ شہباز تتلہ کی ان کی اہلیہ کا ریپ قرار دیا گیاہے لیکن اس مقدمے کی تحقیقات سے براہِ راست منسلک رہنے والے ایک سینیئر پولیس افسر کے مطابق وہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ ملزم نے غیرت کے نام پر اس طریقے سے اپنے دوست کا قتل کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس طرح چند سال پہلے کے افیئر کا دعویٰ کرنا، اس دوران میاں بیوی میں علیحدگی کو بھی تقریباً دو سال کا وقت گزر جانا اور اب جا کر اس افیئر والی بات پر ایسے بھیانک طریقے سے دوست کا قتل کر دینا سمجھ سے بالاتر ہے‘۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ساری تحقیقات میں قتل کے مقصد(وجہ عناد) کا کھوج بھی نہیں لگا پائے کہ اگر غیرت کے نام پر نہیں تو پھر کس وجہ سے ملزم نے اپنے گہرے دوست کا بیدردی سے قتل کر کے اس کی لاش کے نشانات تک مٹا دیے‘۔
اس مقدمے میں پولیس نے جو چالان تیار کر کے استغاثہ کے حوالے کیا اس سے بھی یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس نے اس پراسرار قتل کے پیچھے چھپی وجہ عناد (قتل کے مقصد) کی صداقت جاننے کے لیے ملزم کی سابقہ بیوی اسما اور نہ ہی موجودہ بیوی عزا کو شامل تفتیش کیا ہے۔
بی بی سی کو موصول کیس چالان کے مطابق 50 دن تک کی گئی تحقیقات کے نتیجے میں پراسیکیوشن میں جمع کروائے گئے چالان میں کل 28 گواہان کی فہرست پیش کی گئی ہے جن میں 12 عام گواہ اور 16 پولیس اہلکار شامل ہیں۔
12 عام گواہوں میں گھر کا مالک، گھر کرائے پر دلوانے والا پراپرٹی ڈیلر اور تیزاب خرید کر لانے والا ملازم اور بیچنے والا دکاندار بھی شامل ہیں لیکن ملزم کی دونوں بیویوں کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔
قتل کے دو چشم دید گواہ؟
شہباز تتلہ قتل کیس میں پولیس کی تحقیقات کے دوران دو چشم دید گواہوں کا بھی انکشاف ہوا ہے جنھوں نے سات فروری کی شام مقتول کو ملزمان مفخر عدیل اور اسد بھٹی کے ساتھ کلمہ چوک کے پاس مفخر کی سرکاری گاڑی میں بیٹھتے دیکھا تھا۔
اس کیس کی سب سے اہم کڑی یہی دو گواہان ہیں جو مقتول کے غائب ہونے اور ملزم کے ساتھ جانے کے تعلق کو جوڑتے ہیں۔ کیس کی بظاہر یہ سب سے اہم کڑی پولیس کے ہاتھ 11 فروری کو لگی جس کے بعد سیف سٹی اتھارٹی کی روٹ فوٹیج نکلوائی گئی جس سے مفخرعدیل کی سرکاری گاڑی کے سات فروری کی شام بر کت مارکیٹ، فیصل ٹاؤن گول چکر سے ہوتے ہوئے ایم بلاک ماڈل ٹاؤن ایکسٹینشن کی طرف جانے کا سراغ ملا۔
یہی وہ محلہ ہے جہاں مبینہ طور پر ایک مکان میں ملزمان نے شہباز تتلہ کو قتل کر کے اس کی لاش کو تیزاب میں ڈال کر محلول بنا دیا تھا۔ اہل محلہ سے جب مکان کی نشاندہی ہوئی تو اس کے دروازے پر تالا لگا تھا۔
پولیس پھر اس مکان کے مالک کور ڈیفنس کے رہائشی آفتاب اصغر تک پہنچی جنھوں نے 13 فروری کو مکان کا تالا کھولااور اس طرح پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی۔ پولیس کی اطلاع پر پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے اہلکاروں کو بلایا گیا اور وہاں سے مختلف طرح کے نمونے اکھٹے کیے گئے۔
دورانِ تفتیش مالک مکان نے بتایا کہ انھوں نے 90 ہزار روپے کے عوض 15 دن کے لیے وہ مکان ایک پراپرٹی ڈیلر فرحان کے ذریعے کرائے پر دیا تھا۔ پولیس نے جب فرحان کا کھوج لگایا تو معلوم ہوا کہ مذکورہ گھر اس نے مفخر کے لیے اسد بھٹی کے کہنے پر لے کے دیا تھا جبکہ بغیر تحریری معاہدے کے گھر دلوانے کے لیے اس نے 15 ہزار روپے بطور کمیشن بھی وصول کیے تھے۔
اسی اثنا میں پولیس کو اہل محلہ سے یہ بھی پتا چل چکا تھا کہ مذکورہ گھر کو نو فروری بروز اتوار واٹر بوئزر منگوا کر دھلوایا گیا تھا جس کے سارے شواہد بھی پولیس نے اکھٹے کر لیے۔
پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے لیے گئے نمونوں میں سے ایک گلاس پر مفخر کے بائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کے نشان ملے ہیں جبکہ پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس مکان میں گٹر کے پائپوں سے گندھک کے تیزاب کی موجودگی کا بھی سراغ ملا ہے لیکن فورینزک کو جائے وقوعہ سے ملنے والے نمونوں کا ڈی این اے مقتول کی والدہ کے ڈی این اے سے ملنے کے شواہد نہیں مل سکے۔
پولیس حکام کو ملزم کے زیر استعمال گاڑی کی، جو مبینہ طور پر قتل کی واردات کے لیے بھی استعمال کی گئی، فرانزک رپورٹ کا بھی انتظار ہے جس سے مقتول کے مفخر کی گاڑی میں موجود ہونے یا نہ ہونے کے متعلق کوئی اہم شواہد مل سکتے ہیں۔
’ملزم مقتول کے منہ پر تکیہ رکھ کر اس پر بیٹھ گیا‘
چالان کے مطابق دوران تفتیش مبینہ قتل کی ساری کہانی ابتدائی طور پر اسد بھٹی کی زبانی پولیس کے سامنے آئی جس کی تصدیق پھر ملزم مفخر عدیل نے پولیس کے سامنے اقبالی بیان میں کی ہے۔
اسد بھٹی کے مطابق سات فروری کی رات شہباز کو مکان پر لانے کے بعد جوس میں نشے کی گولی ملا کر دی گئی جس کے بعد مفخر نے اس سے اپنی سابقہ بیوی کے ساتھ افیئر کے متعلق پوچھا۔ چالان میں دی گئی معلومات کے مطابق شہباز کچھ دیر تو انکار کرتا رہا اور پھر معافی مانگنے لگا کہ اس سے غلطی ہو گئی تھی۔
نشے کی گولی کی وجہ سے کچھ دیر بعد وہ لڑکھڑاتا ہوا فرش پر گر گیا جس کے بعد اسد کے بقول اس نے مقتول کی ٹانگوں کو پکڑ لیا جبکہ مفخر اس کے ہاتھوں اور ہونٹوں پر ٹیپ لپیٹنے کے بعد اس کے منھ پہ تکیہ رکھ کر بیٹھ گیا اور سانس رکنے سے شہباز کی موت واقع ہو گئی۔
چالان کے مطابق اسد بھٹی نے لاش کو تیزاب میں تحلیل کرنے اور جائے وقوعہ کو دھونے کی تفصیل بھی بتائی جس سے مفخر عدیل کے بیان کی تصدیق ہوتی ہے۔
پولیس چالان کے مطابق اسد کے علاوہ شریک ملزم عرفان علی نے بھی دوران حراست تسلیم کیا ہے کہ مفخر کے کہنے پر اس نے چار فروری کو کہہ کر 40 لیٹر تیزاب منگوایا کہ کسی ڈرامے کی شوٹنگ کرنی ہے۔ تحقیقات کے دوران ایک پارٹی گرل بھی سامنے آئی جس نے پولیس کی پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ سات فروری کی رات مفخر نے اسے فون کر کے وہاں بلایا تھا اور وہ کچھ گھنٹے اس گھر میں رکی تھی۔ اس لڑکی کے بقول گھر سے اس رات کچھ جلنے کی بدبو تو ضرور آ رہی تھی لیکن باورچی خانے میں پڑے ہونے کی وجہ سے وہ ڈرم دیکھ نہیں پائی۔
’ایک کڑی کمزور پڑی تو سارا مقدمہ بکھر جائے گا‘
سینیئر قانون دان اور سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شمیم ملک نے اس مقدمے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہباز تتلہ قتل کیس میں ملزمان کے خلاف قتل ثابت کرنے کے لیے پولیس کے پاس موجود براہ راست شواہد بظاہر کمزوردکھائی دیتے ہیں۔
’یہ ایک واقعاتی ثبوتوں (Circumstantiale vidence) پر مبنی مقدمہ ہے اور استغاثہ کے پاس واردات کی مختلف کڑیاں تو ہیں لیکن ان میں سے اگر ایک بھی کمزور پڑ گئی تو سارے کا سارا کیس خود بخود ہی بکھر جائے گا‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے وجہ عناد پر تحقیقات ہی نہیں کیں اور نہ ملزم کی سابقہ اورموجودہ بیویوں کو چالان کا حصہ بنایا ہے جس سے اس کیس پر اثر پڑ سکتا ہے۔
’اگر پولیس وجہ عناد کو ڈھونڈنے پر توانائی لگاتی تو ہو سکتا ہے اس کیس کے حوالے سے کئی اور شواہد مل جاتے۔ ملزمان کے پولیس حراست میں دے گئے بیان کے علاوہ پولیس کے پاس براہ راست کوئی شواہد نہیں کہ یہ قتل کیسے اور کیوں ہوا‘۔
قانون شہادت آرڈر 1984 کے سیکشن37 اور 38 کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملزم کے پولیس کے سامنے دئے گئے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اگر ملزمان اپنے اعترافی بیان سے مکر گئے تو استغاثہ کو مقدمہ ثابت کرنے میں کافی مشکل پیش آ سکتی ہے۔
چشم دید گواہوں کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں پراسیکیوشن اور ڈیفنس دونوں کے لیے بہت اہم ہیں کیونکہ جہاں یہ سات فروری کو مقتول کے ملزم کے ساتھ جانے کے تعلق کو جوڑتے ہیں وہیں چار دن یعنی 11 فروری تک ان کا خاموش رہنا ملزمان کو بھی فائدہ دے سکتا ہے۔
شمیم ملک کے مطابق پولیس نے اگر 11 فروری کو گواہان کی نشاندہی کے بعد سیف سٹی سے ملزم کی گاڑی کو ٹریک کر لیا تھا تو وہ دو دن بعد جائے وقوعہ پر کیوں پہنچے کیونکہ پولیس ریکارڈ کے مطابق وہ جائے وقوعہ میں 13 فروری کو داخل ہوئے تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پولیس نے چالان میں جو ضبطگیوں (ریکوری) کی فہرست میں مقتول کا شناختی کارڈ اور اے ٹی ایم کارڈ مفخر کی گرفتاری والے دن اس کی پتلون کی جیب سے برآمد کرنا شامل کیا ہے وہ بھی مضخکہ خیز لگتا ہے کیونکہ جس ملزم پہ یہ الزام ہے کہ اس نے قتل کرنے کے بعد لاش تک کے نشانات مٹا دیے وہ کیوں مقتول کے شناختی کارڈ جیب میں رکھ کر ایک ماہ تک گھومے گا‘۔
ان کے نزدیک پولیس کی طرف سے ملزم مفخر کے موبائل اور لیپ ٹاپ کا قبضے میں نہ لے کر ان کا فورینزک تجزیہ نہ کروانا بھی غیر معمولی لگتا ہے کیونکہ ان سے اہم شواہد مل سکتے تھے۔
شمیم ملک نے مزید کہا کہ اب دیکھنا ہوگا کہ ایک ایسے کیس میں جس میں لاش بھی نہیں، آلۂ قتل بھی نہیں اور تفتیش میں بھی کئی کمزور پہلو موجود ہیں، پولیس اور استغاثہ کس طرح سے ملزمان جن میں ایک سینیئر پولیس افسر بھی شامل ہے، سزا دلوانے میں کامیاب رہتے ہیں۔
’گلاس پر انگلیوں کے نشانات مفخر کو قتل سے جوڑتے ہیں‘
ان خدشات پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید کا کہنا تھا کہ دستیاب ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے تفتیش کو مکمل کیا گیا ہے اور انھیں قوی یقین ہے کہ اکھٹے کیے گئے شواہد کی روشنی میں وہ ملزمان کو سزا دلوانے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔
’ہمارے پاس چار طرح کے شواہد ہیں جن میں فورینزک، موقع کے گواہان، سیف سٹی اتھارٹی کی فوٹیج اور واقعاتی شہادتیں شامل ہیں جو کہ اس کیس کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تمام ملزمان کے بیانات صرف سی آر پی سی کے سیکشن 161 کے تحت ہی لیے گئے ہیں جبکہ سیکشن 164کے تحت کسی ملزم کا بیان ریکارڈ نہیں کروایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شواہد بھی اکھٹے کئے گئے ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ شہباز تتلہ کا قتل اسی مکان میں ہی ہوا ہے اور قتل کے بعد لاش کو تیزاب میں ڈال کر ضائع کیا گیا ہے۔
ذوالفقار حمید کا مزید کہنا تھا کہ ’مفخر عدیل کے جائے وقوعہ سے ملنے والے گلاس پر انگلیوں کے نشانات یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ موقع پر موجود تھا اور سارے کیس میں یہ ایک اہم پیشرفت ہے۔ ہم نے تفتیش میں اپنی طرف سے جو ہو سکتا تھا وہ کیا ہے۔‘
وجہ عناد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ملزم یہی کہتا ہے کہ اس نے اپنی سابقہ بیوی سے تعلقات کے شبے میں ہی شہباز کو قتل کیا ہے۔
استغاثہ کے وکیل فرہاد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے جس میں واقعاتی ثبوتوں، شہادتوں اور سیف سٹی اتھارٹی کی فوٹیج سے حاصل ثبوتوں کی روشنی میں ملزمان کو سزا دلوائیں گے‘۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیف سٹی اتھارٹی ایکٹ 2016 کے سیکشن 14 کے مطابق عدالت سیف سٹی کے کیمروں سے لی گئی فوٹیج بطور ایکسپرٹ شہادت تصور کرتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کیس میں سب کڑیاں آپس میں ملتی ہیں کہ کیسے ملزمان نے شہباز کو اغوا کیا، پھر اس گھر میں لا کر قتل کر کے لاش تیزاب میں ڈالی‘۔
وکیلِ استغاثہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم مفخر کا پولیس کے سامنے اعتراف جرم بہت اہم نقطہ ہے ’کیونکہ وہ کیسے عدالت میں کہے گا کہ اس پر ایک ڈی ایس پی نے تشدد کر کے یہ بیان زبردستی لیا ہے کیونکہ وہ تین بار علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوا ہے لیکن ایک بار بھی نہ ہی ملزم اور نہ ہی اس کے وکیل کی طرف سے تشدد یا زبردستی بیان لینے کے متعلق کوئی بات کی گئی اور نہ ہی کوئی درخواست دی گئی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون شہادت آرڈر کے سیکشن 37 اور 38 کے تحت جب ملزمان کے پولیس کے سامنے دیے گئے بیان میں موجود حقائق اگر بعد کی تحقیقات کے نتیجے میں اسی طرح سے ثابت ہو جائیں تو پھر قانون شہادت کی شق 40 لگتی ہے جس کے مطابق ان کے بیانات قابل ادخال شہادت تصور ہوں گے۔
چشم دید گواہان کے وقوعہ کے چار دن بعد منظرِ عام پر آنے کے متعلق ان کا کہنا تھا انھیں کچھ علم ہی نہیں تھا کیونکہ پہلے تو خاندان والے خود ہی ڈھونڈتے رہے لیکن جب مقتول کے اغوا کا پرچہ درج ہونے کی خبر میڈیا پہ چلی تو انھوں نے فوراً آگاہ کیا۔
پولیس کے جائے وقوعہ پر تاخیر سے پہنچنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے 12 فروری کو جائے وقوعہ کا پتا چلایا اور اسی روز گھر کے مالک کا کھوج بھی لگایا گیا۔ چونکہ گھر پر تالا لگا ہوا تھا اس لیے اگلے روز جب مالک مکان کو بلانے پر گھر کا تالا کھلا تو پولیس اندر داخل ہوئی تھی‘۔
اس کیس میں لاش نہ ہونے کے متعلق فرہاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کہ ’جس کیس میں مقتول کی لاش نہ مل سکے تو کیا عدالت چارج فریم نہیں کرتی اور اس کو پراسیکیوٹ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے بقول بم دھماکوں میں بہت سے لوگوں کے اعضا بھی نہیں ملتے لیکن کیا ان کے کیس کا ٹرائل نہیں ہوتا‘۔
مفخر کی سابقہ بیویوں کو شامل تفتیش نہ کرنے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو ان کے بیان کی کوئی ضرورت نہیں تھی جبکہ ملزم کے قبضے سے مقتول کے شناختی کارڈ ملنے کے بارے میں سوال پر وکیل ِ استغاثہ کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے ملزم نے مقتول کا کارڈ اس لیے اپنے پاس رکھا ہو تاکہ وہ اسے کسی اور مقصد جیسے کہ کوئی پاور آف اٹارنی بنانے کے لیے استعمال کرنے کا سوچ رہا ہو‘۔
لاش نہ آلۂ قتل، کیا پولیس قتل ثابت کر پائے گی؟
ریمانڈ کے دوران ملزم مفخر کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل سینیئر ایڈووکیٹ آفتاب باجوہ کا کہنا ہے کہ ان کا موکل بےقصور ہے کیونکہ اس نے کوئی قتل نہیں کیا۔
’پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ مفخر نے شہباز تتلہ کا قتل کیا ہے اور ہم یہ بات عدالت میں ثابت بھی کریں گے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مفخر نے تتلہ کو قتل کرنے کا اعتراف بالکل نہیں کیا۔ یہ بیان پولیس نے خود سے ہی لکھا ہے جسے ہم چیلنج کریں گے‘۔
آفتاب باجوہ کا کہنا تھا کہ ’پہلے تو پولیس یہ ثابت کرے کہ تتلہ کا قتل ہوا ہے کیونکہ ابھی تک کوئی لاش نہیں مل سکی۔ ہو سکتا ہے وہ زندہ ہوں اور کہیں روپوش ہوں اور کسی دن خود ہی منظرِ عام پر آ جائیں‘۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ گھر جہاں بقول پولیس قتل کا وقوعہ پیش آیا وہ تو ملزم کے نام پر ہی نہیں لیا گیا تھا جبکہ لاسٹ سین گواہ بھی پولیس نے بعد میں بنائے ہیں۔