آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’کورونا وائرس: پاکستان کے علاوہ اور کس ملک میں اس وبا کے دوران ڈاکٹروں پر لاٹھی چارج کیا گیا؟‘
دنیا بھر کی طرح آج پاکستان میں بھی مزدوروں اور محنت کشوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔
اس سال یہ دن خاص طور پر صحت کے عملے کو خراج تحسین پہنچانے کے لیے منایا جا رہا ہے جو محدود وسائل کے باوجود کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے میں دن رات کوشاں ہیں۔
صحت کے عملے کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اور ان کے مطالبات حکومت تک پہنچانے کے لیے صحافی، سماجی اور سیاسی کارکن ویڈیوبنا کر #westandwithhealthworkers کے ساتھ سوشل میڈیا پر شئیر کر رہے ہیں۔
اسی حوالے سے یہ بھی پڑھیے
صحافی منیزے جہانگیر نے اپنی ویڈیو میں ملک بھر کے ڈاکٹروں نرسوں اور صفائی کے عملے کو خراج تحسین پہنچاتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا اور ساتھ ہی حکومت کی توجہ لاہور میں قائم ڈاکٹروں کے بھوک ہڑتالی کیمپ کی طرف بھی دلوائی جس کا مقصدحفاظتی سامان کا مطالبہ ہے۔
منیزے جہانگیر کا کہنا تھا کہ 'اس وبا سے لڑنے کے لیے حکومت کو ڈاکٹروں کی مدد لینی چاہیے تھی نہ کہ علما کی خشنودی حاصل کرنی چاہیے تھی۔ '
انھوں نے لکھا: 'ڈاکٹر ہمارے ہیرو ہیں جو ہماری اور اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں '
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تعلیم کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر عمار جان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے علاوہ دنیا کہ شاید ہی ایسا ملک ہوجہاں اس وبا کے دوران ڈاکٹروں پر لاٹھی چارج کیا گیا ہو اور ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی ہو۔
'حکومت کو اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر لاہور میں احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کرنے چاہیے۔'
جبکہ عروج اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 'ہمارے صحت کے عملے کو سلیوٹ اور گارڈ آف آنر تو دیا جاتا ہے لیکن جب وہ حفاظتی سامان کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے۔ '
کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والے صحت کے عملے کو سپاہی کہنے والوں سے واجد احمد نے سوال پوچھا: 'کیا آپ نے کبھی کسی فوج کو بغیر ہتھیاروں کے جنگ لڑتے دیکھا ؟ نہیں ۔ تو پھر آپ ڈاکٹروں سے کیسے یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ بغیر حفاظتی سامان کےکووڈ 19 کے خلاف جنگ لڑیں گے۔ '
ڈاکٹروں کو حفاظتی سامان کی فراہمی کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر علی حیدر کا کہنا تھا ان کی ڈگری انھیں (ڈاکٹروں کو) کورونا کے خلاف تحفظ نہیں دیتی لہٰذا انھیں ذاتی حفاظت کا سامان مہیا کیا جائے۔
تاہم وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ آج کا دن پاکستان کے محنت کش دھاڑی دار اور تنخواہ دار طبقے کے نام ہے جنہیں کوروناوائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ اور انھیں یقین دلایا کہ حکومت اس مشکل لی گھڑیمیں ان کے ساتھ ہے۔