کورونا وائرس: لاہور میں مساجد میں ایس او پیز کی نگرانی کے لیے ٹیمیں تیار، اساتذہ بھی شامل

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں ماہِ رمضان کے دوران مساجد اور امام بارگاہوں میں حکومت کی جانب سے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 20 نکاتی ضابطہ کار پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے پولیس، میونسپل کارپوریشن اور یونین کونسل کے حکام کے ساتھ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو بھی مامور کر دیا گیا۔
ضلعی ایجوکیشن آفیسر کی جانب سے لاہور کے لڑکوں کے ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں کو ایک خط کے ذریعے مطلع کیا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کے احکامات کے مطابق شہر کی مساجد اور امام بارگاہوں میں حکومتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اساتذہ پولیس اور انتظامیہ کی ٹیموں کے ہمراہ ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔
ضلع لاہور کے 548 اساتذہ کو یہ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جن کی فہرست متعلقہ سکولوں کو بھجوا دی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اساتذہ روزانہ کی کارکردگی رپورٹ متعلقہ علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر کے پاس جمع کروائیں گے۔
'احکامات پر عمل نہ کرنے یا رپورٹ جمع نہ کروانے کی صورت میں متعلقہ استاد یا سکول کے سربراہ کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مساجد کے علاوہ یہ ٹیمیں بازاروں میں بھی حکومت کی طرف سے مروجہ ایس او پیز پرعملدرآمد کو یقینی بنائیں گی اور اس بات کا جائزہ لیں گی کہ کیا کھلنے والی دکانیں اور کاروبار ان پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔
یاد رہے کہ تین ہفتے قبل حکومت نے چند صنعتوں اور سروسز کو کاروبار کھولنے کی مشروط اجازت دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہPunjab Teachers Union
معائنہ ٹیمیں کس بات کا جائزہ لیں گی؟
حکومت نے ان کے لیے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس سے بچاؤ کی خاطر چند قواعد و ضوابط ترتیب دیے تھے اور ان کے لیے ضروری تھا کہ وہ ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔
مساجد اور امام بارگاہوں میں حکومتی احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے معائنہ کرنے والی ٹیموں کو 11 نکات پر مبنی ایک فارم دیا گیا ہے جس میں وہ اندراج کریں گے۔
اس فارم میں ایس او پیز کے حوالے سے سوالات شامل ہیں۔
فارم کے مطابق جن ایس او پیز کا جائزہ لیا جائے گا ان میں چند درج ذیل ہیں:
- کیا مساجد میں قالین یا دریاں بچھائی گئی ہیں؟
- نماز سے قبل یا نماز کے بعد مسجد کے احاطے میں مجمع لگایا گیا؟
- نزلہ زکام اور کھانسی وغیرہ کے مریض نماز ادا کرنے آئے؟
- نمازیوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھا گیا یا نہیں؟
- مسجد میں سحر یا افطار کا بندوبست تو نہیں کیا گیا؟
- نمازیوں نے ماسک پہن رکھے تھے؟
- کیا نماز سڑک یا فٹ پاتھ پر تو ادا نہیں کی گئی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان ٹیموں میں کون کون شامل؟
لاہور پولیس کی جانب سے متعلقہ افسران کو ان ٹیموں کی تشکیل اور کام کرنے کے قواعد و ضوابط کے حوالے سے ایک مراسلہ بھیجا گیا ہے۔ اس مراسلے کے مطابق مختلف یونین کونسلوں میں معائنے کی لیے جانے والی ہر ٹیم میں کم از کم تین اساتذہ شامل ہوں گے۔
ٹیم کے دیگر ممبران میں پولیس اہلکار، پٹواری اور میونسپل کارپوریشن کے اہلکار شامل کیے گئے ہیں۔
اس مراسلے کے مطابق معائنہ ٹیمیں مساجد اور امام بارگاہوں میں حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کریں گی۔
وہ ایک دوسرے کے ساتھ مشاورت میں کام کریں گی اور 'ہر بڑے واقعہ کی اطلاع اعلٰی حکام کو دی جائے گی۔' اس کے علاوہ یہ ٹیمیں عوام میں کورونا کی بیماری اور اس سے بچاؤ کے لیے کی گئی حکومتی تدابیر کے حوالے سے آگاہی پیدا کریں گی۔
پولیس کے اس مراسلے کے مطابق ٹیموں کے 'ممبران کی ذاتی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماسک اور دستانے پہنیں گے، ایک دوسرے سے مناسب فاصلہ رکھیں گے اور ڈیوٹی کے دوران پی پی ایز کا استعمال کریں گے یعنی ذاتی حفاظت کا لباس پہنیں گے۔'
ان ٹیموں کے کام کی نگرانی ایس ایس پی آپریشنز لاہور کریں گے جبکہ سی سی پی او لاہور کے دفتر سے ان کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اساتذہ یونین کا کیا ردعمل ہے؟
اساتذہ کے ان ٹیموں میں شامل کیے جانے کے حوالے سے لاہور میں ٹیچرز یونین کے حکام نے اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل مرکزیہ پنجاب ٹیچرز یونین کاشف شہزاد چودھری کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی پر مامور کیے جانے والے اساتذہ کو حفاظتی سامان مہیا نہیں کیا گیا۔
'بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے مساجد کے ایس او پیز چیک کرنے کے لیے اساتذہ کی ڈیوٹی لگانا ظلم ہے۔ اساتذہ کو کسی قسم کے ماسک یا حفاظتی کِٹس نہیں دی گئیں۔' ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'یہ کام اساتذہ کا نہیں ہے۔ متعلقہ محکمے اپنا کام خود کیوں نہیں کرتے۔'
ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اساتذہ کی 'غیر ضروری' ڈیوٹیاں ختم کی جائیں۔ کاشف شہزاد چوہدری کے مطابق ڈیوٹی کرنے والے اساتذہ کو اضافی کام کا معاوضہ بھی نہیں دیا جا رہا تھا۔













