انڈیا کے زیر انتظام کشمیر: خاتون صحافی، فوٹوگرافر مسرت زہرا کے خلاف اشتعال پھیلانے کا مقدمہ

مسرت ظہرہ
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

کورونا وائرس کے خلاف لاک ڈاون کے بیچ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی نوجوان صحافی مسرت زہرا کے خلاف پولیس نے غیرقانونی سرگرمیوں کے انسداد کے قانون (UAPA) کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔

مسرت زہرا گذشتہ کئی سال سے فری لانس صحافی کے طور پر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم ہیں اور کئی انڈین اور بین الاقوامی خبررساں اداروں کے لئے کام کر چکی ہیں۔

تاہم پولیس کے بیان میں مسرت زہرا کو ایک فیس بُک صارف کے طور متعارف کر کے اُن پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے کئی اشتعال انگیز پوسٹس کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو ہند مخالف مسلح بغاوت کے لئے اُکسایا ہے۔

پولیس کے بیان کے مطابق مسرت نے فیس بک پر ملک دشمن متن پوسٹ کیا ہے اور ایک پوسٹ میں مذہبی شخصیت کو عسکریت پسندوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کئی حلقوں کی طرف سے یہ شکایات ملی ہیں کہ مسرت ایسا مواد پوسٹ کرتی ہیں جس سے نوجوان مشتعل ہوکر عسکریت پسندی کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم رابطہ کرنے پر مسرت زہرا نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھوں نے خواتین میں نفسیاتی تناؤ سے متعلق ایک خبر کے لیے گاندربل ضلع کی ایک خاتون کا انٹرویو کیا تھا جنھوں نے بتایا کہ 20 سال قبل اُن کے خاوند کو ایک ’جعلی مقابلے‘ میں ہلاک کیا گیا تھا۔ مسرت کے مطابق انھوں نے اس خبر سے متعلق تصاویر بھی پوسٹ کی تھیں۔

مسرت کو سرینگر میں قائم سائبر پولیس سٹیشن طلب کیا گیا تھا جس کے بعد مقامی صحافیوں نے محکمہ اطلاعات کی ناظمہ سحرِش اصغر سے رابطہ کیا۔

مسرت ظہرہ

،تصویر کا ذریعہFacebook/Masrat Zahra

مسرت کہتی ہیں: ’سحرِش جی نے مجھے بتایا کہ یہ معاملہ حل ہو چکا ہے، اب وہاں جانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن مجھے اب کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی صاحب نے طلب کیا ہے اس لیے مجھے منگل کو وہاں جانا ہوگا۔‘

پولیس نے مسرت کے خلاف مقدمہ کی تصدیق کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا جس میں عوام کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ’ملک دشمن‘ مواد پوسٹ کرنے سے اجتناب کریں اور ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب انڈیا کے روزنامہ ’دی ہندو‘ کے نامہ نگار عاشق پیرزادہ کو بھی اتوار کی شب سرینگر سے ساٹھ کلومیٹر دُور اننت پولیس تھانے میں طلب کیا گیا۔

عاشق کہتے ہیں کہ انھوں نے ضلع شوپیان سے ایک ایسے جوڑے کی کہانی رپورٹ کی تھی جن کا بیٹا ایک جھڑپ میں مارا گیا تھا۔

عاشق کے خلاف کوئی مقدمہ تو درج نہیں تاہم اننت ناگ طلبی کو وہ ایک ’سزا‘ ہی قرار دیتے ہیں۔

’اعتراض یہ تھا کہ میں نے حکام کی رائے شامل کیوں نہیں کی، لیکن میں نے کئی مرتبہ ڈپٹی کمشنر کو فون کیا اور ٹیکسٹ بھی کیا، لیکن وہ مصروف تھے۔ یہ سن کر پولیس والے مطمئن ہوگئے اور میں رات گئے گھر واپس لوٹ آیا۔‘

گزشتہ برس بھی عاشق پیرزادہ کو اپنی ایک خبر کی وجہ سے تھانے طلب کیا گیا تھا۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں صحافیوں کی تھانوں میں طلبی ایک دیرینہ عمل ہے جو گذشتہ کئی برس سے جاری ہے تاہم یو اے پی اے قانون کے تحت مسرت ظہرہ کے خلاف کارروائی اپنی نویت کا پہلا واقعہ ہے۔ یہ قانون گذشتہ برس پارلیمان سے منظور ہوا تھا اور اسی قانون کے تحت وادی میں انسانی حقوق کے کئی کارکنوں کو قید کیا گیا ہے۔

کشمیر پریس کلب کے نائب صدر معظم محمد کہتے ہیں : ’کشمیر میں ویسے بھی کام کرنا خطرناک ہے اور ایسے وقت پر جب صحافی انٹرنیٹ پر پابندی اور کورونا وائرس کے خوف کے بیچ کام کر رہے ہیں تو اُن پر طرح طرح کی بندشیں عائد کرکے یہاں کی صحافت کو محدود کیا جا رہا ہے۔‘