آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سندھ میں گندم کی فصل تیار مگر کٹائی کے لیے لوگ نہیں
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
گندم کی فصل تیار ہے لیکن کٹائی کے لیے لوگ دستیاب نہیں۔ اوپر سے آسمان بھی بادلوں سے چھپا ہوا ہے اور اس صورتحال نے کاشت کاروں کے خدشات اور بھی بڑھا دیے ہیں۔
اکرم راجپوت کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلعے نوشہرو فیروز ے قصبے مٹھیانی سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کٹائی کے لیے مزدور دستیاب نہیں کیونکہ پولیس اور رینجرز نے لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا ہے۔
’ہماری فصلیں تیار کھڑی ہیں لیکن لیبر آنے کے لیے تیار نہیں۔ حکومت کی جانب سے کوئی پالیسی نہیں ہے کہ کب سے کٹائی شروع کی جائے۔‘
ایک اور کاشت کار احسن راجپوت کا کہنا ہے کہ ’ایک تو مزدور دستیاب نہیں، دوسرا بارش کا بھی امکان ہے جس کی وجہ سے جو لاکھوں روپے مالیت کی گندم تیار ہے اور پورے سال کی محنت داؤ پر لگی ہوئی ہے‘۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے سندھ بھر میں لاک ڈؤان کی وجہ سے جیسے شہروں پر اثرات پڑے ہیں ایسے ہی دیہی علاقوں میں بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیے
صوبائی وزیر زراعت اسماعیل راہو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح دیگر تمام معمولات زندگی میں مشکلات ہیں اسی طرح تقریباً ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام ہو اور تمام کاروبار معطل ہو تو یہ صورتحال مشکل ضرور ہے لیکن حکومت سندھ کی پوری کوشش ہے کہ جو ہدف ہے اس کو پورا کریں اور گندم کی خریداری کر کے گوداموں تک پہنچائیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت سندھ نے 15 مارچ سے گندم کی خریداری کا فیصلہ کیا تھا تاہم لاک ڈاؤن اور بار دانے (گندم کی بوریاں جو حکومت فراہم کرتی ہے) کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو گئی۔
صوبے سندھ کے 23 اضلاع میں گندم کی خریداری کے 525 مراکز قائم کیے گئے ہیں اور رعایتی قیمت 1400 روپے فی من مقرر ہے۔
صوبائی وزیر زراعت اسماعیل راہو نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ سال حکومت سندھ نے گندم کی خریداری نہیں کی تھی تاہم اس سے گذشتہ سال 14 لاکھ ٹن گندم خریدی گئی رواں سال بھی یہ ہی ٹارگٹ رکھا گیا ہے۔
’سندھ میں سوا گیارہ لاکھ ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کی گئی ہے، اس میں سے متوقع فصل 38 لاکھ ٹن ہے جس میں سے حکومت 14 لاکھ ٹن کی خریداری کرے گی۔‘
لاک ڈاؤن میں دیگر اشیا ضرورت کی طرح زرعی ادویات، بیج اور کھاد کی دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔
صوبائی وزیر اسماعیل راہو کے مطابق خریف کا سیزن شروع ہونے کو ہے کہ اور اگر سپلائی چین روکی گئی تو کپاس اور چاول کی فصل میں تاخیر ہو گی اور اس کے علاوہ سبزیوں کی رسد بھی معطل ہو جائے گی لہٰذا زرعی خریداری کے مراکز کھولنا ضروری ہیں۔
علی حسن عمرکوٹ کے کاشت کار ہیں انہوں نے گندم کی کٹائی شروع کرا دی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے محکمہ خوراک نے ابھی تک گندم کی خریداری شروع نہیں کی اور نتیجے میں کاشت کار مجبوری میں مڈل مین کو گندم فروخت کرے گا۔
’اگر گندم کی کٹائی نہیں ہوگی تو کپاس، مرچ یا دیگر فصل لگانے میں تاخیر ہوگی، کیونکہ گندم کی کٹائی کے بعد زمین کی صفائی وغیرہ کے لیے وقت درکار ہے اسی طرح زرعی پانی کا وقت بھی مقرر ہے اس لیے ہر کاشت کار کی کوشش ہوتی ہے کہ فصل جلد سے جلد کٹ جائے ورنہ اس کو نقصان ہوگا۔‘
بقول ان کے حکومت نے فلور ملرز کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ دو ماہ کے لیے خریداری کریں اور اسٹاک رکھیں۔
’کراچی اور حیدرآباد میں یہ بحران ہوا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ پاسکو سے خریداری کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باعث رسد میں رکاوٹ آگئی تھی وزیر اعظم نے تحیقیقات کے لیے کمیٹی اور کمیشن بنائے تھے لیکن رپورٹ تاحال پبلک نہیں کی گئی۔