کورونا وائرس: پاکستان کے غریب طبقے کو امدادی رقم کب اور کیسے ملے گی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ کورونا متاثرین امدادی پیکج کا آغاز یکم اپریل سے کر دیا جائے گا۔ جس کے تحت پنجاب کے 25 لاکھ ضرورت مند خاندانوں کو چار ہزار روپے ماہانہ کی مالی امداد دی جائے گی۔
ذرائع ابلاغ کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے نتایا کہ اس امداد کے لیے کورونا کے خصوصی بجٹ سے دس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان کے بیشتر حلقوں کی جانب سے یہ مخالفت سامنے آئی کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے ابھی تک وفاق کی جانب سے ملک بھر میں مکمل لاک ڈاون کیوں نہیں کیا گیا ہے۔ جس پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سےبار بار یہی وضاحت دی جارہی ہے کہ ’مجھے ڈر ہے کہ پاکستان کا غریب اور دہاڑی دار طبقہ کورونا وائرس سے نہیں بلکہ بھوک سے مر جائے گا۔‘
پاکستان میں تقریباً تیس فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ جبکہ ماہرین کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث پاکستان کی معیشت اور عوام بری طر ح متاثر ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
موجودہ حالات کے پیش نظر وزیر اعظم پاکستان سمیت صوبوں کے وزرا اعلیٰ کی طرف سے صوبائی سطح پر غریب طبقے کے لیے بھی امدادی پیکچز کا اعلان کیا گیا ہے۔
آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے، صوبہ پنجاب میں بھی یہ امداد ایک مخصوص طریقہ کار کے ذریعے ضرورت مند خاندانوں تک پہنچائی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہIMRAN
صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہم ایسا نہیں کر سکتے ہیں کہ پہلے ایک سکیم کا سوچیں اور پھر اس کو متعارف کروائیں اور نہ ہی اس میں ابھی آپ کو پتا ہے کہ کن لوگوں کو کن کن علاقوں میں اس امداد کی ضرورت ہے۔ آج کل کی صورتحال میں لوگوں کو فوری طور پر ریلیف کی ضرورت ہے۔ اس لیے ہم نے پنجاب کے لوگوں کو سوشل پروٹیکشن کے تحت یہ امدادی رقم دے دی تاکہ لاک ڈاون کے دوران وہ فی الحال اپنا راشن لے سکیں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ حکومت پنجاب کی طرف سے ڈھائی لاکھ فیملز جس میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد جو زکوة کے مستحق ہیں ان کا ڈیٹا ہمارے پاس پہلے ہی موجود ہے ان سب کو اگلے ہفتے تک یہ رقم دی جائے گی۔ جس کے بعد اگلے مرحلوں میں مزید فیملز کو امدادی رقم دی جائے گی۔
امدادی رقم کے لیے اہلیت کا میعار
حکومت پنجاب کی جانب سے امدادی پیکج لینے والوں کے لیے اہلیت کا معیار طے شدہ طریقے کے مطابق لازمی دیکھا جائے گا۔ وہ شخص یا خاندان جو دیگر امدادی پروگراموں، جیسا کہ بینظر انکم سپورٹ پروگرام یا کسی اور پیکچ سے پہلے سے ہی مستفید ہو رہے ہوں گے یا جن کا ماہانہ یوٹیلیٹی خرچہ دس ہزار روپے زیادہ ہوگا وہ اس امدادی پیکج کے لیے اہل تصور نہیں کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازم اور پنشنرز کو بھی یہ امداد نہیں دی جائے گی۔
اس بارے میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس امدادی پیکچ کی رقم اصل حقدار تک ہی پہنچے اور اس میں کسی قسم کی کوئی کرپشن نہ ہو۔

،تصویر کا ذریعہPUNJAB GOVERNMENT
اس سے قبل حکومت کی جانب سے جاری کردہ اہلیت فارم کے مطابق بے روزگار افراد سے مختلف کوائف مانگے گئے تھے جن میں افراد خانہ ، گھرانے کی آمدن، کمانے والوں کی تعداد، ذرائع آمدن، اثاثہ جات اور دوسرے امدادی کوائف کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔
اس کے علاوہ بے روز گار افراد امداد کے اہلیت کا اندازہ پچھلے تین ماہ کے بجلی کے بل سے بھی اندازہ لگایا جائے گا۔ امدادی رقم دینے کے لیے سابقہ روزگار کیا تھا، دیہاڑی دار، اڈا یا دکاندار کے علاوہ گھر ذاتی ہے یا کرایہ کا گھر اور کتنے مرلے کا گھر جیسی شقیں شامل کی گئی ہیں۔
امدادی رقم کے لیے خاندان کی رجسٹریشن
پنجاب حکومت نے امدادی رقم کی رجسٹریشن کے لیے کرنے کے لیے تین اقسام کے طریقہ کار متعارف کروئے گئے ہیں۔ جو درجہ ذیل ہیں:
1 ۔ بذریعہ ایس ایم ایس
2۔ بذریعہ انصاف امداد ایپلیکیشن
3۔ بذریعہ فارم
صوبائی وزیر اطلات فیاض الحسن چوہان نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جو فارم پہلے جاری کیا گیا تھا وہ بیوروکریسی کی طرف سے تجویز کردہ فارم تھا جو ایک عام آدمی کے لیے خاصا مشکل تھا۔ اس لیے ہم نے عام شخص کے لیے یہ طریقہ مزید آسان کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کے تحت کوئی بھی شخص اپنا نام اور شناختی کارڈ نمبر 8070 پر میسج کرے گا یا پھر انصاف امداد اپلیکیشن کے ذریعے بھی رجسٹر کر سکتا ہے۔ جبکہ اگر کسی کے پاس موبائل فون کی سہولت موجود نہیں ہے وہ اپنے علاقے کی ضلعی انتظامیہ کے دفتر میں جا کر وہاں سے فارم لے کر اسے جمع کروا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت کہتے ہیں کہ ہم نہیں چاہتے کہ لوگ اس طریقے کو زیادہ استعمال کریں کیونکہ اس سے سوشل ڈسٹنسنگ نہیں ہو گی۔ اس لیے موبائل کے ذریعے میسج کرنا سب سے آسان ہے۔
اس کے علاوہ اگر کسی کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں ہے تو وہ اپنے خاندان کے کسی بھی فرد کا قومی شناختی کارڈ نہیں ہے تو ان کے لیے ہم کوشش کریں گے کہ پرائیویٹ امدادی ادارہ اسے لوگوں کی مدد کرنے میں ہمارا ساتھ دے۔
ضرورت مند شخص کی تصدیق اور رقم کی ادائیگی
صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت کے مطابق جو شخص امداد کے لیے میسج کرے گا، ہم اس شخص کے ڈیٹا کو حکومتی ڈیٹا بیس اور نادرا میں ڈالیں گے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ یہ مخصوص شخص غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔
فارم جمع کروانے کے بعد پی بی آئی ٹی کے ذریعے پورے پنجاب سے جمع کردہ اعدادو شمار کی اہلیت کی تصدیق اور جانچ پڑتال کی جائے گی۔ امدادی رقم کے حصول سے پہلے مقامی انتظامیہ پر مشتمل کمیٹیاں، جیسا کہ ڈپٹی کمشنرز و دیگر سے کو ان کے علاقے کے لوگوں کی تصدیق کے لیے ڈیٹا بھیجا جائے گا۔ تصدیق ہونے کے بعد متعلقہ شخص کو امدادی رقم ایزی پیسہ کے ذریعے بھجوائی جائے گی جسے وہ وصول کر سکے گا۔
اس کے علاہ حکومت پنجاب کی جانب سے پانچ ارب کے نام سے فنڈ قائم کیا گیا ہے جس میں ہمارے مخیر حضرات اور پرائیوٹ سیکٹر کے لوگوں سے درخواست کی جا رہی کہ وہ بھی اس امدادی فنڈ میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ ضرورت مند خاندانوں کی مدد کی جا سکے۔













