#Quetta: کوئٹہ میں ضلع کچہری کے سامنے ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ 21 زخمی ہوئے

حملے میں زخمی ہونے والا ایک نوجوان

،تصویر کا ذریعہBANARAS KHAN

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکہ ضلع کچہری کے بالمقابل بلدیہ ہوٹل کے مین گیٹ کے پاس اس وقت ہوا جب کچھ فاصلے پر اہلسنت والجماعت کے زیر اہتمام ایک جلسہ اختتام پزیر ہورہا تھا۔

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب حضرت ابو بکر صدیق کی یومِ وفات کے حوالے سے ایک ریلی پریس کلب کے باہر آئی تھی جس کے لیے سکیورٹی تعینات کی گئی تھی۔

دھماکے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایک نوجوان لڑکے کو سکیورٹی کے پہلے حصار پر روکا گیا، لیکن جب وہ رکے بغیر آگے بڑھنے لگا تو پولیس نے اسے گرا لیا۔ گرتے ہی اس نوجوان نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پولیس کے دو جبکہ لیویز کا اہلکار شامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ سپیشل برانچ اور ایف سی کے اہلکاروں کی جانب سے جائے وقوعہ سے ثبوت حاصل کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

’یہ ہماری کامیابی ہے کہ ہم نے اس خود کش بمبار کی شناخت کی اور اسے روکا۔‘

کوئٹہ

دھماکے کے ہدف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فی الحال اس حوالے سے کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی لیکن ’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کیونکہ آگے ریلی ہی تھی تو اور کوئی ٹارگٹ آگے بنتا نہیں ہے‘۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب اس علاقے میں اہل سنت والجماعت کے زیر اہتمام ایک مذہبی تقریب منعقد ہو رہی تھی۔

اس دھماکے کے نتیجے میں ہونے والے تمام زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ لے جایا گیا ہے۔ ہسپتال کے ترجمان وسیم بیگ کے مطابق دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

جائے وقوعہ کی تصاویر سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

یہ کوئٹہ میں رواں سال تیسرا دھماکہ ہے۔

اس سے قبل سیٹلائیٹ ٹاﺅن کے علاقے اسحٰق آباد میں مسجد کے اندر جبکہ لیڈی ڈفرن ہسپتال کے قریب میکانگی روڈ پر دھماکہ ہوا تھا۔

ان دھماکوں میں اب تک 24 سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔