کابلی پلاؤ سے شادی کی رسومات تک: افغان پناہ گزین اور پاکستانی ثقافت پر ان کے انمٹ نقوش

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
40 سال پہلے افغانستان پر روسی افواج کے حملے کے بعد لاکھوں افغان شہریوں نے نقل مکانی کی اور بڑی تعداد میں لوگ پاکستان آئے۔
یہ لوگ اپنی ثقافت، روایات، طرزِ زندگی، رہن سہن اور دیگر معاملات بھی ساتھ لائے تھے جو اب اس معاشرے کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔
نقل مکانی کرنے والے بیشتر افغان تو کیمپوں میں رہائش پذیر ہوئے لیکن ایک بڑی تعداد میں افغان شہری علاقوں میں بھی آباد ہو گئے۔
اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق 30 لاکھ افراد نے پاکستان اور تقریباً 20 لاکھ نے ایران کی جانب نقل مکانی کی تھی۔ افغانستان میں صورتحال کی بہتری کے بعد واپس جانے والوں کے علاوہ بھی اس وقت تقریباً 12 سے 15 لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان میں آباد ہیں۔
ان افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آباد ہوئی اور پھر شہروں میں ایسے علاقے آباد ہوئے جو افغان شہریوں کی شناخت سے پہچانے جانے لگے ہیں۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغان پناہ گزینوں کی آمد پر جہاں کلاشنکوف اور منشیات کے کلچر کی باتیں ہوئیں، وہیں ایسے رسم و رواج اور روایات بھی دیکھنے کو ملیں جو شاید پہلے یہاں نہیں پائی جاتی تھیں۔
ادب، شاعری اورثقافت جیسے موضوعات پر لکھنے والے نقاد شیر عالم شنواری نے بی بی سی کو بتایا جہاں تک کلاشنکوف اسلحے اور منشیات کی بات ہے، اسے افغان پناہ گزینوں کی آمد سے جوڑنا درست نہیں کیونکہ یہ سب کچھ اس وقت کے جنگی حالات کی وجہ سے یہاں آئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ افغان ایک جنگ زدہ ماحول سے یہاں آئے اس لیے انھیں اس کا قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
شیر عالم شنواری کے مطابق اگرچہ دونوں جانب پشتون آباد تھے لیکن دونوں جانب کچھ مخلتف رواج اور ہنرمند تھے اور سب نے اس سے استفادہ حاصل کیا ہے۔
پشاور میں حیات آباد کے کچھ علاقے، بورڈ کا علاقہ جسے چھوٹا کابل بھی کہا جاتا ہے اور شہر کے اندر فقیر آباد سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔
افغانستان میں چونکہ پشتون کمیونٹی کے علاوہ شمالی علاقوں میں آباد فارسی اور دری زبان بولنے والے بھی پاکستان آئے اس لیے جن علاقوں میں یہ افغان آباد ہوئے وہاں ان کے رہن سہن، طرزِ زندگی سمیت دیگر سرگرمیاں بھی عام ہونے لگیں۔
افغان پکوان
افغان پناہ گزینوں نے یوں تو مختلف کاروبار کیے لیکن افغان پکوان اور خاص طور پر کابلی پلاؤ کو ہر جگہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ کابلی پلاؤ میں کوئی مصالحے نہیں ڈالے جاتے بلکہ گوشت کی یخنی میں چاول بنائے جاتے ہیں اور اس کے اوپر پتلی پتلی گاجریں چینی کے شیرے میں پکا کر کشمش کے ساتھ ڈالی جاتی ہیں۔ نمکین چاول اور میٹھی گاجروں کا یہ امتزاج لوگوں کو خوب بھایا۔
افغان پکوان ایک مکمل ڈش کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں جس میں کابلی پلاؤ کے ساتھ چربی کے ساتھ بنے ہوئے کابلی تکے ، شوربہ اور سبزی پیش کی جاتی ہے۔ یہ مکمل خوراک زیادہ مہنگی نہیں ہوتی اور اس نے لوگوں میں انتہائی مقبولیت حاصل کر لی۔
افغانی پکوان میں منتو کو اب زیادہ مقبولیت حاصل ہو رہی ہے ۔ منتو بنیادی طور پر دال اور قیمے کے ایسے سموسے ہوتے ہیں جو سٹیم یا بھاپ پر پکائے جاتے ہیں پھر اس کے اوپر دہی، ترش چٹنی اور آلو کے چپس ڈالے جاتے ہیں۔
یہ خوراک مخصوص دکانوں اور ان علاقوں میں جہاں افغان زیادہ آباد ہیں وہاں دہی بھلوں کی طرح ریڑھیوں پر بھی فروخت کی جاتی ہے۔ افغانی برگر بھی یہاں بہت پسند کیا جاتا ہے۔
افغان جو پکوان گھروں میں بناتے ہیں اس میں بڑی بڑی لمبی روٹیاں، سبزی اور گوشت کے ساتھ کھائی جاتی ہیں۔ ان پکی ہوئی روٹیوں کا وزن لگ بھگ 250 گرام سے 350 گرام تک ہوتا ہے۔ بازاروں میں فروخت ہونے والی روٹی کا وزن ان دنوں 120 گرام تک ہوتا ہے۔ افغان شہریوں کے گھروں میں یہ روٹیاں بڑی تعداد میں کھائی جاتی ہیں۔
افغان نوجوان عبدالرحمان نے بتایا کہ ان کے ہاں کھانا زیادہ کھایا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اور دیگر صوبوں سے آئے ان کے ساتھی ہماری خوراک دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ وہ جسمانی مشقت کا کام زیادہ کرتے ہیں اور اس کے علاوہ معمول میں ورزش کرتے ہیں جس وجہ سے وہ زیادہ روٹیاں کھاتے ہیں۔
افغانی پھیکے قہوے کے ساتھ گڑ یا ٹافی علیحدہ کھاتے ہیں۔ افغان شہریوں کے گھروں میں عموماً قہوہ زیادہ پیا جاتا ہے۔

شادی کی رسومات
پاکستان میں عام طور پر شادی کی رسومات تین دن تک جاری رہتی ہیں جن میں مہندی، رخصتی اور ولیمے کی دن متعین ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ اس سے زیادہ دنوں تک بھی جاری رہتی ہے۔
دوسری جانب افغان لوگوں کی شادی ایک دن میں ہی مکمل ہو جاتی ہے۔ اس میں سب لوگ صبح کے وقت ایک جگہ آتے ہیں سارا دن رسومات ادا کی جاتی ہیں اور عام طور پر شام سے پہلے رخصتی ہو جاتی ہے۔
بورڈ بازار میں شادی ملبوسات کی دکان پر چند نوجوان موجود تھے، ان میں نورالامین نے بتایا کہ افغان شادی میں اب بہت حد تک تبدیلیاں آئی ہیں۔ انھوں نے کہا جیسے پاکستان میں لوگوں نے کچھ افغان رسومات اور روایات کو اپنایا ہے اسی طرح افغانوں نے بھی بہت کچھ پاکستان سے اپنایا ہے۔
افغان خواتین شادی سے پہلے مہندی کا بڑا دیگچہ لے کر لوگوں کے گھروں میں جاتی تھیں اور یہ مہندی ان لوگوں کو دی جاتی تھی تاکہ وہ ان کی شادی میں یہ مہندی لگا کر آئیں لیکن اب یہ روایت ختم ہو چکی ہے۔
اب بھی لوگ شادی ایک دن میں ہی مکمل کر لیتے ہیں اور شادی مکمل ہوتے ہی سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح رشتہ طے کرنے کے لیے جو روایات تھیں وہ اب بھی لوگ اپنائِے ہوئے ہیں۔ دولہے کے گھر والے رومال بچھا کر دلہن کا ہاتھ مانگتے ہیں۔

افغان ملبوسات
افغان اپنے ساتھ اپنے منفرد لباس بھی لائے۔ ان میں شمالی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے جدید لباس بھی تھے جبکہ پشتون علاقوں کی خواتین کے روایتی لباس بھی پسند کیے گئے۔ ماڈرن افغان خواتین کے پردے کے لیے استعمال ہونے والے عبایا اور روایتی برقعے بھی یہاں مقبول ہوئے ہیں۔
پشتون خواتین کے خاص طور پر تیار کیے گئے گھگھرے اور ان پر چمک اور موتیوں کا کام یہاں پسند کیا گیا۔
شادی بیاہ کے لیے افغان دلہنیں زیادہ تر سفید لباس زیب تن کرتی تھیں جو یورپی خواتین کی دلہنوں کی طرز پر تیار کیا جاتا تھا لیکن بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کی وجہ سے یہ لباس اب زیادہ مقبول نہیں رہا۔
افغان خواتین دلہن کے لیے پہلے گھروں میں بھاری گھگھرے کے طرز پر لباس تیار کرتے تھے لیکن اس کے بعد بنے بنائے لباس پسند کیے جانے لگے اور اب افغان خواتین بھی پاکستانی خواتین کی طرح دلہنوں کے لیے پاکستانی لہنگے اور دیگر لباس پسند کرتی ہیں۔
افغان خواتین کے لباس کی دکان پر موجود محمد خان نے بتایا کہ اب ایک نیا لباس افغان خواتین کے لیے آیا ہے جو افغان اور یورپی طرز پر چین میں بنایا جاتا ہے اور وہ قیمتی لباس ہوتا ہے۔

مردوں کے لیے پہلے سینے کے قریب جیب والے لباس ہوتے تھے لیکن اب وہ روایتی لباس یہاں نہیں پہنے جاتے لیکن سائڈ پر گلے اور کشیدے والے لباس اب بھی فروخت کیے جاتے ہیں اور مختلف تہواروں پر افغان مرد وہی لباس پسند کرتے اور پہنتے ہیں۔
ادب، شاعری اور موسیقی
افغانستان کی موسیقی کے اثرات پاکستان کی پشتو موسیقی پر بھی تھے لیکن 40 سال پہلے جب بڑی تعداد میں لوگ پاکستان آئے تو ان میں گلوکار، موسیقار اور اداکار بھی شامل تھے۔
ان گلوکاروں اور موسیقاروں کو یہاں پذیرائی حاصل ہوئی اور ان کی موسیقی کے اثرات پاکستان میں پشتو موسیقی پر مزید گہرے ہوتے گئے۔
افغانستان کی پشتو موسیقی میں کسی حد تک فارسی دھنوں کی آمیزش سے ایک نئی موسیقی نے بھی جنم لیا جسے بڑی حد تک پسند کیا گیا اور اسی طرح پھر پرانے پشتو کے لوک گانوں کو جدید سازوں سے مزین کر کے بھی پیش کیا گیا۔
پاکستان میں پشتو موسیقی کے معروف موسیقار ماسٹر نذیر گل کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر پشتو موسیقی کے سازینے تو دونوں ممالک میں ایک جیسے ہی ہیں جیسے وہاں بھی رباب طبلہ ہارمونیم استعمال ہوتے ہیں ویسے یہاں بھی وہی استعمال ہوتے ہیں لیکن افغان موسیقی میں تمام سازینے ایک ساتھ استعمال کیے جاتے ہیں جس سے سُر اور میلوڈی زیادہ ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغان موسیقی میں ان کی شاعری کا بھی بڑا اثر ہے۔ افغان اپنی شاعری میں اپنی روایات اور اپنے ادب اور لہجے سے مطابقت رکھنے والے الفاظ استعمال کرتے ہیں جس سے موسیقی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔
ماسٹر نذیر گل نے بتایا کہ بیشتر موسیقار، سازندے اور گلوکار واپس چلے گئے ہیں لیکن اب بھی بڑی تعداد میں افغان ہنر مند یہاں موجود ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ افغان جنگ کے سائے اور اثرات پاکستان تک پہنچے اور اس دوران افغان اور پاکستان میں ادب اور شاعری نے بھی کروٹیں لی ہیں۔
کلچر اور ادب کے موضوعات پر لکھنے والے نقاد شیر عالم شنواری نے بتایا کہ افغانستان کی پشتو زبان کے الفاظ اب یہاں معمول میں استعمال ہو رہے ہیں مثلاً مینہ وال جسے اردو میں پرستار کہتے ہیں اس طرح پوھنتون مطلب یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ، عملیات مطلب کارروائی، اور اس طرح کے متعدد ایسے الفاظ ہیں جو پہلے پاکستان کی پشتو زبان میں نہیں استعمال ہوتے تھے لیکن اب افغان پشتو کے اثر سے یہاں عام طور پر استعمال ہونے لگے ہیں۔
شیر عالم شنواری نے بتایا کہ ابتدا میں افغان پناہ گزین آئے تو جہادی ادب حاوی ہونے لگا لیکن اس وقت افغانستان اور پاکستان کے شعرا اور ادبا نے اس مقابلے میں انقلابی ادب اور شاعری کو فروغ دیا جسے دونوں ممالک میں مقبولیت حاصل ہوئی۔
انھوں نے بتایا کہ افغان پشتو میں عربی اور فارسی کے الفاظ تو استعمال ہوتے تھے لیکن اس میں انگریزی کی آمیزش نہیں تھی لیکن یہاں رہنے والے افغان نے اس کا اثر لیا ہے اور اب یہاں پاکستان میں آباد افغان اپنی زبان میں انگریزی کے الفاظ استعمال کرنے لگے ہیں ۔

تجارت و کاروبار
افغان تجارت میں قالین بافی کا کاروبار سر فہرست رہا ہے۔ افغانستان کے شمالی علاقوں سے ازبک اور تاجک نسل کے جو لوگ آئے وہ اپنے ساتھ قالین بافی کا فن اور کاروبار ساتھ لائے اور یہ کاروبار دنیا بھر میں مقبول ہوا ہے اور بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔
شیر عالم کہتے ہیں کہ اس قالین بافی کا پاکستان کی تجارت پر بہتر اثر ہوا اور ان کے بقول ایران نے پشاور میں قالین بافی کے کاروبار سے منسلک افراد کو ایران مدعو کیا کہ وہ کاروبار ایران میں آ کر کریں۔
انھوں نے کہا افغان تاجروں نے انکار کر دیا تھا کہ ان کا کاروبار سے پشاور سے دنیا بھر کے ساتھ ہو رہا ہے اور افغانستان میں حالات اب تک اتنے سازگار نہیں ہیں کہ وہ وہاں جا کر رکیں اس لیے اب دنیا بھر میں یہ افغان قالین پشاوری قالین کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں کیونکہ یہ یہاں پشاور سے دنیا بھر میں جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہfacebook/Afghan Carpet
شیر عالم شینواری کے مطابق پشاور میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے کچھ عرصہ پہلے زیادہ تر قالین بافی سے منسلک تاجر اور کاروباری دیگر علاقوں کو چلے گئے ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصے قبل جب آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور انھیں وطن واپس بھیجا جا رہا تھا تو اس وقت پاکستان اور خاص طور پرخیبر پختونخوا کی معیشت پر بھی برے اثرات پڑے تھے اور متعدد کاروبار اس سے متاثر ہو گئے تھے۔
پاکستان میں آباد افغان پناہ گزینوں کے رشتہ دار بڑی تعداد میں یورپی اور خلیجی ممالک میں آباد ہیں جو وہاں سے زر مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں اور ان کے پاکستان سے جانے سے کرنسی پاکستان آنا بند ہو گئی تھی۔
اس ساری صورتحال کے پیش نظر حکام نے ان کے خلاف کارروائی روک دی تھی۔ حکومت کی اس کارروائی کا اثر ان علاقوں پر دیکھا گیا تھا جہاں افغان زیادہ تعداد میں آباد ہیں ان میں حیات آباد کا علاقہ شامل ہے جہاں بڑی تعداد میں افغان کاروبار کرتے ہیں یا مقامی افراد کا انحصار افغان شہریوں کی خریداری پر ہوتا ہے۔













