آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: ’میں نے شنگھائی میں ایسا ہو کا عالم اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا‘
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام آسلام آباد
جمعرات کی صبح چین کے شہر شنگھائی سے پاکستان پہنچنے والے ایک نوجوان نے بی بی سی کو کورونا وائرس کے حوالے سے وہاں کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ ان کی درخواست پر ان کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا۔
’میں شنگھائی کی ایک نجی کمپنی سے منسلک ہوں اور آج ہی ملک واپس پہنچا ہوں۔ گزرے تمام دنوں میں میں مسلسل اسی تشویش میں رہا کہ مجھے وائرس تو نہیں ہو گیا۔‘
’شنگھائی میں میرے ایک سینیئر نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ آپ پاکستان کا ٹکٹ کٹوائیں اور چلے جائیں، ’کہیں آنے والے دنوں میں یہاں بھی ووہان کی طرح لاک ڈاؤن نہ ہو جائے۔ ‘
یہ بھی پڑھیے
’اسی پریشانی میں میں شنگھائی کے ہوائی اڈے سے ایک غیر ملکی پرواز کے ذریعے پاکستان کے لیے روانہ ہوا۔ مجھ پر خوف طاری تھا کہ ہوائی اڈے پر سکریننگ ہو گی اور کہیں مجھے روک نہ لیا جائے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر چینی حکام نے اپنے ہوائی اڈے پر ہمارے سکرینگ ہی نہیں کی بس ایک فارم پر دستخط کروائے جس پہ درج تھا کہ مجھے خود میں کورونا وائرس کی کوئی بھی علامات محسوس نہیں ہو رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’حکومت کی جانب سے پہلے دو گھنٹوں کے اندر سرکاری چھٹیاں دو فروری سے نو فروری تک بڑھانے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے۔
’ووہان میں لاک ڈاؤن کے بعد شنگھائی میں بھی ماسک کی قلت ہو گئی تھی۔
’میں یہاں کچھ ماہ پہلے ہی نوکری کے سلسلے میں آیا تھا۔ میں نے شنگھائی میں ایسا ہو کا عالم اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘
’یہ ممکن نہیں کہ آپ گھر میں محصور ہو کر رہ جائیں۔ دفتر والوں نے ماسک دیے لیکن کھانے کے لیے چیزوں کی ضرورت کی وجہ سے باہر جانا ناگزیر تھا۔‘
’ان دنوں میں خوراک کی تلاش میں ہی گھر سے باہر نکلا۔ سب ویز بالکل خالی پڑی ہیں۔ سپر مارکیٹ کے باہر گیا وہاں سب کچھ بند پڑا تھا۔ ہاں ایک مارٹ کھلا تھا۔‘
’آپ چینیوں سے بات کریں تو بظاہر کسی افراتفری اور خوف کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی ان کی گفتگو میں ایسا محسوس ہوا کہ وہ پریشان ہیں۔ وہ ابھی تک اسے ایک عام فلو سمجھ رہے ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ ان کا نیشنلسٹ ہونا بھی ہو سکتی ہے۔‘
’لیکن وہ گھروں میں خوراک اور دیگر اشیا کا سٹاک اکھٹا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے باہر مارکیٹس میں اشیا کم پڑ رہی ہیں۔‘
’پودانگ کے بین الاقوامی ائیر پورٹ پر معمول کے مطابق فلائٹس دکھائی نہیں دیں۔ مخصوص گیٹ ہی کھلے ہوئے تھے۔ مسافروں میں زیادہ تر جنوبی ایشیا کے باشندے تھے اور روسی اور مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے مسافر بھی دکھائی دیے لیکن کوئی بھی چینی باشندہ نہیں دکھائی دیا۔‘
’میں خوف کا شکار ضرور تھا لیکن گھر واپسی پر مجھے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہم میں سے جن کے پاس ٹکٹ کے پیسے نہیں تھے دفتر والوں نے وہ بھی دیے، ہاں ایک افسوس ضرور ہے اور وہ اپنے سفارتخانے کے رویے پر ہے جس کا شکوہ ووہان میں پھنسے پاکستانی کر رہے ہیں۔ اور ان کا سوال ہے کہ جب کوریا اپنا چارٹر طیارہ بھجوا سکتا تھا تو پاکستان نے اپنے لوگوں کو نکالنے کے لیے کیوں نہیں سوچا؟‘
’یا شاید انھیں معلوم ہی نہیں کہ خدا ناخواستہ اگر کسی میں وائرس نکل آیا تو کرنا کیا ہے؟‘