#coronavirus: نئے چینی سال کے موقعے پر کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ

چینی حکام نے ملک کے ہوبائی صوبے میں سفر پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ہوبائی صوبہ کرونا وائرس کا مرکز ہے۔ اب تک ہلاکتوں کی تعداد 26 ہو چکی ہے۔

اِن سفری پابندیوں کی وجہ سے 10 شہروں میں کم از کم دو کروڑ افراد متاثر ہوں گے۔ اِن شہروں میں صوبے کا دارالحکومت ووہان بھی شامل ہے جہاں سے یہ وبا شروع ہوئی۔

ایک مزید ہلاکت کی تصدیق شمال مشرقی صوبے ہیلونجیانگ میں ہوئی جس کی سرحد روس سے ملتی ہے اور جو ووہان صوبے سے 1200 میل کے فاصلے پر ہے۔

انتظامیہ خطرناک وائرس کورونا کی وبا کو پھیلاؤ سے روکنے کے لیے شدید جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ سب ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب لاکھوں افراد نئے چینی سال کی تقریبات کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

اسے بارے میں مزید پڑھیے

بیجنگ اور ہانگ کانگ میں حکومت نے نئے سال کی بڑی تقریبات کو وائرس سے پھحلنے والے خطرے کے پیش نظر منسوخ کر دیا ہے تاکہ عوام آپس میں گھل مل نہ سکیں جس سے وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔

ووہان شہر اور ہوبائی صوبہ جہاں سب سے زیادہ مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے وہاں انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھائے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

جمعے کو چینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اب تک 25 افراد وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 830 افراد میں مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔

ان مریضوں میں سے 177 کی حلات تشویشناک ہے جوکہ 34 علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیے گئے ہیں۔

چین کے قومی کمیشن برائے صحت کے مطابق تصدیق شدہ کیسز کے علاوہ ایک ہزار سے زائد ایسے مریض ہیں جن کے بارے میں شک ہے کہ انھیں بھی کورونا وائرس نے متاثر کیا ہے۔

ہوبائی صوبے میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں مگر چین کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں اب تک صرف 13 تصدیق شدہ کیسز ملے ہیں۔

اس کم تعداد کی وجہ سے عالمی ادارہ صحت نے ابھی تک وائرس کو بین الاقوامی ایمرجنسی قرار نہیں دیا ہے۔

نئے چینی سال کے موقعے پر حکام کو کیا ڈر ہے؟

نئے چینی سال کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگ سفر کرتے ہیں مگر وائرس کی وجہ سے حکام نے ووہان شہر کو 'لاک ڈاؤن' کر دیا ہے جہاں سب سے پہلے وائرس دریافت ہوا تھا۔

چینی حکومت نے یہی اقدامات پانچ اور شہروں میں اٹھائے ہیں جس پر عالمی ادارہ صحت نے ان کی تعریف کی ہے۔

بیجنگ میں بھی نئے سال کی بڑی عوامی تقریبات پر پابندی لگا دی گئی۔

وائرس سے مقابلے کے لیے چین کی جانب سے لیے گئے فیصلوں سے دو کروڑ افراد ہوبائی صوبے میں 'قرنطینہ' یعنی علیحدہ کر دیا ہے اور ووہان شہر سے آنے اور جانے کے لیے کوئی پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں ہے۔

اس کے علاوہ شہریوں پر چہرے کے ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

ہانگ کانگ میں ماسک کو مفت میں فراہم کرنے کا لیے مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ مکاؤ میں دو کروڑ ماسک کی طلب ہے جنھیں کم قیمت میں فروخت کیا جائے گا۔

دونوں مقامات میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کی شناخت ہوئی ہے۔

کورونا وائرس کے بارے میں تازہ ترین معلومات کیا ہیں؟

اب تک ملنے والے شواہد کے مطابق، انسانوں میں اس وائرس کے پھیلنے کی چند بڑی وجوہات میں کسی بیمار جانور کے نزدیک جانا، ایسے جانور کا گوشت کھانا یا پہلے سے اس وائرس میں مبتلا انسان سے دوسرے میں منتقل ہونا شامل ہے۔ ان شواہد کی تصدیق چینی حکام نے کی ہے۔

چین نے اس وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی تصدیق کی ہے اور یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ ملک اس وائرس کی روک تھام اور کنٹرول کے 'انتہائی نازک مرحلے' پر ہے۔

اس وائرس کے آغاز کے بعد پہلی بار عوامی بریفنگ دیتے ہوئے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے نائب وزیر لی بن نے کہا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ یہ بیماری 'بنیادی طور پر سانس کی نالی کے ذریعے پھیلی۔'

لیکن چین ابھی تک اس وائرس کی اصل وجہ کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

لی بن نے کہا 'اگرچہ ابھی تک اس وائرس کے ٹرانسمیشن روٹ کو پوری طرح سے سمجھا جانا باقی ہے لیکن اس وائرس میں تغیر کی صلاحیت موجود ہونے کا امکان اور اس وائرس کے مزید پھیلنے کا خطرہ ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 2197 افراد ایسے تھے جن کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ متاثرہ مریضوں کے ساتھ رابطے میں آئے۔

ایک ایسے مریض کے بارے میں بھی پتہ چلا ہے جس نے 10 سے زائد افراد میں یہ وائرس منتقل کیا۔

ووہان میونسپل ہیلتھ کمیشن کے مطابق ووہان میں کم از کم 15 طبی کارکن، جو اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کے ساتھ رابطے میں آئے وہ بھی اس کا شکار ہیں۔

یہ وائرس کیا ہے؟

اس وائرس کے نمونوں کو ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری میں بھجوایا گیا جہاں ان پر تحقیق کی گئی۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ کورونا وائرس ہے۔ اس وائرس کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ان میں سے چھ اور اس حالیہ وائرس کو ملا کر سات ایسی قسمیں ہیں جو انسانوں کو متاثر کرتی ہیں۔

ان کی وجہ سے بخار ہوتا ہے سانس کی نالی میں شدید مسئلہ ہوتا ہے۔ سنہ 2002 میں چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے 774 افراد ہلاک ہوئے اور مجموعی طور پر اس سے 8098 افراد متاثر ہوئے تھے۔

اس نئے وائرس کے جنیاتی کوڈ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ رسپائریٹری سنڈروم (سارس) سے ملتا جلتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق انسانوں کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر کیے بغیر جانوروں کے نزدیک نہ جائیں اور گوشت اور انڈے پکانے میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ٹھیک سے تیار کیے گئے اور اس کے علاوہ ان افراد سے دور رہیں جنھیں نزلہ یا اس جیسی علامات ہوں۔