آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شاہد آفریدی نے وزیرِ اعظم عمران خان کی توجہ اویغور مسلمانوں کی جانب دلوانے کے لیے ٹویٹ کیے، پھر ڈیلیٹ کر دیے
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے وزیرِ اعظم عمران خان کی توجہ چین میں بسنے والے اویغور مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی جانب دلوانے کے لیے ٹوئٹر کا سہارا لیا۔ تاہم کچھ ہی دیر میں انھوں نے یہ ٹویٹس ڈیلیٹ کر دیں۔
22 دسمبر کو کی گئی ان ٹویٹس میں شاہد آفریدی نے لکھا کہ ’چین میں اویغور مسلمانوں کی حالت زار کے بارے جان کر رہا نہیں جا رہا، وزیرِ اعظم عمران خان سے التجا ہے کہ آپ امہ کو متحد کرنے کی بات کرتے ہیں تو اس بارے میں بھی تھوڑا سوچیں اور چینی حکومت سے التجا ہے کہ خدارا اپنے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روکیں۔‘
اس حوالے سے جب بی بی سی نے شاہد آفریدی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملہ پر بات نہیں کرنا چاہتے۔
مزید پڑھیے
شاہد آفریدی نے اپنی ٹویٹ میں پاکستان میں چینی سفارت خانے کو بھی ٹیگ کیا جس کے ردِ عمل میں پاکستان میں چین کی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار لیجن چاؤ نے ٹویٹ کیا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ آپ کو چین کے خلاف مغربی پراپوگینڈہ نے گمراہ کر دیا ہے۔‘
چینی وزارت خارجہ کے محکمہ اطلاعات کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل نے مزید لکھا کہ: ’اگر آپ خود سنکیاگ صوبے کا دورہ کرنا چاہیں تو ہم آپ کو خوش آمدید کہیں گے۔ مغرب چین کو بدنام کر رہا ہے اور مسلمانوں کے جذبات مجروح کر رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شاہد آفریدی اس سے قبل بھی ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر رائے دے چکے ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے وزیرِ اعظم کی توجہ سندھ اور پنجاب کے حالات کی جانب دلوائی تھی۔
شاہد آفریدی نے اس سے قبل انڈیا کے زیر انتظام کشمیر اور میانمار کے مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھی بیانات دیے ہیں۔ شاہد آفریدی آج کل بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں ڈھاکہ پلاٹوں کی نمائندگی کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ اپنی سماجی تنظیم ’ہوپ ناٹ آؤٹ‘ کے حوالے سے بھی سرگرم نظر آتے ہیں۔
شاہد آفریدی نے سنہ 2015 میں ون ڈے کرکٹ جبکہ سنہ 2017 میں انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا تھا۔
اویغور کون ہیں؟
چین کے صوبے سنکیانگ میں اویغور کمیونٹی آباد ہے جس کا کا شمارملک کی مسلمان اقلیتوں میں ہوتا ہے۔ صوبے میں اُن کی آبادی 45 فیصد ہے۔ سرکاری طور پر سنکیانگ کا شمار تبت کی طرح خودمختار علاقے کے طور پر ہوتا ہے۔
گذشتہ چند مہینوں سے یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ سنکیانگ میں مسلمان اویغور کیمونٹی کو حراست میں رکھا جا رہا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ اور ایمنٹسی انٹرنیشل سمیت انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں نے اقوام متحدہ میں ایک رپورٹ جمع کروائی ہے جس کے مطابق حراست میں قید افراد سے زبردستی چین کے صدر شی جن پنگ سے وفاداری کا حلف لیا جا رہا ہے۔