آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیر پر شاہد آفریدی کا بیان ’انڈیا کی جیت کیسے ہوئی‘
سابق پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی کے کشمیر کے مسئلے پر بیان پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
شاہد آفریدی نے کشمیر کو انڈیا یا پاکستان کا حصہ بنانے کی بجائے انھوں نے تجویز دی کہ کشمیر کو علیحدہ ملک بنا دینا چاہیے۔
گذشتہ روز برطانوی دارالعوام میں طلبا سے گفتگو کے دوران شاہد آفریدی نے کہا: ’میں کہتا ہوں کہ کشمیر پاکستان کو نہیں چاہیے اور نہ ہی انڈیا کو دیں، بلکہ کشمیر کو علیحدہ ملک بنا دیں، کم از کم انسانیت تو زندہ رہے، نہیں چاہیے پاکستان کو، پاکستان سے چار صوبے نہیں سنبھل رہے۔‘
’لوگ وہاں مر رہے ہیں، سخت وقت سے گزر رہے ہیں۔ جہاں بھی انسان مارے جاتے ہیں، چاہے کسی بھی مذہب کے ہوں، اس سے تکلیف ہوتی ہے۔‘
ان کے اس بیان کی ویڈیو فوراً ہی سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے لگی۔ انڈین میڈیا کے بعض حصوں میں ان کے اس بیان کو اس طرح پیش کیا گیا کہ شاہد آفریدی یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ پاکستان کو کشمیر پر حق جتانا چھوڑ دینا چاہیے۔
شاہد آفریدی کی وضاحت
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے اپنے اس بیان کے بعد ایک ٹویٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ انڈین میڈیا نے ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’میرا ویڈیو کلپ نامکمل ہے اور سیاق و سباق سے الگ ہے کیونکہ اس پہلے جو کچھ میں نے کہا وہ اس میں نہیں ہے۔ کشمیر ایک غیر تصفیہ شدہ تنازع اور ظالمانہ انڈین قبضے میں ہے۔ اسے اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت حل کرنا چاہیے۔ میں اور ہر پاکستانی کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرتا ہے۔ کشمیر پاکستان کا ہے۔‘
اس کے بعد انھوں نے ایک اور ٹویٹ کی اور کہا کہ ’میرے بیان کو انڈین میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ میں اپنے ملک سے بہت پیار کرتا ہوں اور کشمیریوں کی جدوجہد کی بہت قدر کرتا ہوں۔ انسانیت باقی رہنی چاہیے اور انھیں ان کا حق ملنا چاہیے۔‘
سوشل میڈیا ردعمل
اس سب سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ملے جلے ردعمل آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
سہیل چیمہ نامی ایک صارف نے ٹوئٹر پر لکھا: ’شاہد آفرید کسی طرح انڈین مارکیٹ میں جگہ حاصل کرنے کے لیے بیتاب ہیں، وہ انڈینز کو اپنی ذاتی وجوہات کے لیے خوش کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے اپنا پورا کریئر صرف اپنے لیے کھیلا، اب جب کرکٹ کریئر ختم ہو گیا ہے تو وہ انڈینز کو خوش کرنے کے لیے ملک کی ساکھ کو داؤ پر لگانے کی ڈرٹی گیم کھیل رہے۔‘
اسلام آباد سے عزیر علی سید نے لکھا: ’شاہد آفریدی آپ اپنی گفتگو میں نہ تو پراعتماد تھے نہ ہی فلسفیانہ تھے بلکہ ضرورت سے زیادہ خود اعتماد تھے جس کی وجہ سے آپ نے پاکستان کی بے عزتی کرائی اور ہم سب کو پورے انڈیا کے سامنے مذاق بنا دیا۔‘
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ شاہد آفریدی نے ایسا کچھ نہیں کہا جس سے انڈیا کو خوشی ہو۔
انھوں نے لکھا: ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ انڈین میڈیا کو شاہد آفریدی کے بیان کے کس حصے سے خوشی ہوئی ہے، پاکستان کے چار صوبوں کے بارے میں جو انھوں نے کہا اسے بھول جائیں، جو حصہ میں نے واضح طور پر دیکھا، وہ کشمیر کی آزادی کی حمایت کر رہے تھے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تنقید کر رہے تھے تو یہ انڈیا کی جیت کیسے ہوئی؟‘
پاکستان سے ایک ٹوئٹر صارف فائقہ نے لکھا: ’مجھے شاہد آفریدی کے بیان میں کچھ غلط نہیں لگا۔ ہم واقعی میں اپنے چاروں صوبوں کو نہیں سنبھال پا رہے ہیں، بیڈ گورننس، کرپشن، غربت۔ کون سے جنت کے باغ ہم نے سجائے ہوئے ہیں ان کے لیے؟ ہاں کشمیر کو آزاد ہونے دیں۔‘
خیال رہے کہ شاہد آفریدی نے اس سے قبل بھی کشمیر کے مسلے پر بات کی تھی۔ جب 2016 میں انڈین شہر موہالی میں ایک کرکٹ میچ کے بعد انھوں نے کہا تھا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو کشمیر میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔
ان کے اس بیان پر بھی انھیں انڈین میڈیا کے بعض حصوں نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔