پرویز مشرف کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ: سوشل میڈیا پر ’غدار‘ اور ’ابو بچاؤ‘ کی بازگشت

سابق فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری اور آئین شکنی کے جرم میں سزائے موت کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر ’غدار‘ کی بحث جو شروع ہوئی تو بات اب ’ابو بچاؤ‘ کی جانب جا رہی ہے۔

جی ہاں اگر آپ کو یاد ہو کہ ’ابو بچاؤ‘ کی اصطلاح سب سے پہلے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے استعمال کی تھی اور اسے پی ٹی آئی کی حکومت کے اکثر وزرا بھی وقتاً فوقتاً اس کا استعمال کر چکے ہیں۔

مگر اب سے کچھ دیر قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں پوچھا جانے والا یہ سوال وزیراعظم عمران خان سے ہی کر ڈالا۔

بلاول بھٹو نے عمران خان کو ٹیگ کر کے پوچھا ’ابو بچاؤ مہم کون چلا رہا ہے؟‘

یہ بھی پڑھیے

گذشتہ روز سے پاکستان میں سوشل میڈیا اور مختلف ٹاک شوز پر عمران خان کی اس دور کا ایک آڈیو بیپر شیئر کیا جا رہا ہے جس میں ڈاکٹر شاہد مسعود سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ ’مشرف نے سنگین غداری کا ارتکاب کیا ہے، پہلے تو انھوں نے ہنگامی حالت نافذ کی، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا، اس کے بعد انھوں نے سپریم کورٹ کے ججز کو فوج بھجوا کر باہر نکال دیا، اور اس کے اوپر تو سیدھا سیدھا آرٹیکل چھ لگتا ہے جس کی پھانسی کی سزا ہے۔‘

ایک اور ویڈیو میں عمران خان کو یہ کہتے ہوئے سنا اور دیکھا جا سکتا ہے کہ ’میں مشرف کو نہیں مانتا۔ مشرف ملک کا سب سے بڑا غدار ہے۔‘

مگر ابو تک بات پہنچنے سے پہلے بات ہوتی رہی ’غداری‘ کی اور ’سرٹیفائڈ غداری‘ کی اور عدالت کے جانب سے ’جرمِ غداری کے ثابت ہونے کی‘ اور کسی ’فرد کو غدار‘ قرار دینے کی۔

بڑی تعداد میں سوشل میڈیا صارفین اس سزا کے خلاف اپنے رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

صحافی کامران خان نے ٹویٹ کی ’مرے کو مارنا کون سی بہادری ہے جب وہ طاقتور تھا، زور آور تھا تو اس کے بوٹ چاٹے اسکے منھ سے نکلے الفاظ کو قانون کا درجہ دیا کس کو نہیں پتا کہ آج اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا مزا تو جب آتا جب آپ اپنے ان بھائی بندوں کو بھی چڑھاتے جو اس زور آور کا آلہ بنے وقتِ امتحان پتلی گلی سے نکل گئے۔‘

مہوش اعجاز نے ٹویٹ کی ’سچ یہ ہے کہ وہی لوگ جو لوگوں کو غدار قرار دینے کے بیانیے کے خلاف ہیں وہ مشرف کو غدار قرار دیے جانے پر جشن منا رہے ہیں؟ ایسا کیسے؟‘

مگر آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے بعد تو غدار کی بحث کا رخ ہی بدل گیا۔

صحافی فرزانہ نے لکھا ’لفظ غدار کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ آج پتا تو چل گیا ہو گا۔‘

عاطف توقیر نے ٹویٹ کی ’ہم نے مہم دیکھی فاطمہ جناح غدار ہیں۔ پھر مہم دیکھی باچا خان غدار ہیں۔ پھر سنا مجیب الرحمان اور جی ایم سید غدار ہیں، پھر سنا کہ ذوالفقار علی بھٹو، اکبر بگٹی، بے نظیر اور نواز شریف غدار ہیں۔ پھر سنائی دیا منظور پشتین غدار ہے۔ قوم کو یہ جاننے میں بہتر برس لگے کہ اصل غدار کون ہے۔‘

جہاں اس ساری صورتحال پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں وہیں اس پر حکومتی ردِ عمل میں پہل وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کی جو اس سے قبل جنرل مشرف کی جماعت اور پاکستان پیپلز پارٹی میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

فخر درانی نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی ’آج پی ٹی آئی کے دوست تو غصے میں ایسے بپھرے ہوئے ہیں کہ جیسے خصوصی عدالت نے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے خلاف نہیں بلکہ عمران خان کے خلاف فیصلہ دے دیا ہو۔ بھائیو! عدالت نے اس آمر کے خلاف فیصلہ دیا ہے جس کو پھانسی کی سزا کا مطالبہ خود عمران خان کئی سالوں تک کرتا رہا ہے۔ غصہ کس بات کا؟‘

صحافی سلیم صافی نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا ’وفاقی وزیروں کو اعتراض ہے کہ صرف جنرل پرویز مشرف کو سزا کیوں دی گئی۔ اس تفریق اور تقسیم کے خاتمے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت، جنرل پرویز مشرف کے تمام سہولت کار سیاستدانوں اور ججز کے خلاف بھی آرٹیکل چھ کا مقدمہ بنا دیں۔ یوں تفریق اور تقسیم ختم ہو گی۔‘

انھوں نے یہ سوال بھی پوچھا ’کیا مشرف نے کشمیر آزاد کروانے کے لیے ایمرجنسی لگائی تھی؟ اس نے تو ایمرجنسی شوکت عزیز، شجاعت، فواد چوہدری، فرودوس عاشق اعوان جیسے لوگوں کو بچانے کے لیے لگائی تھی۔ پرویز مشرف اسی طرح پاکستان کا صدر اور چیف ایگزیکٹو تھا جس طرح یہاں کے دوسرے چیف ایگزیکٹو اورصدر غدار قرار دیے جاتے ہیں۔‘

وزیراعظم کے ترجمان ندیم افضل چن نے آج نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا ’پرویز مشرف کے فیصلے کے خلاف سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالتیں خلاف فیصلہ کریں اور کوئی ڈنڈا لے کر کھڑا ہو جائے، ایسا نہیں چلتا۔ یہ ایک فرد کا معاملہ ہے آپ اداروں کو بیچ میں مت لائیں۔‘

بہت سے افراد سوشل میڈیا پر عاطف توقیر کی نظم ’سچ غدار ہے‘ شیئر کر رہے ہیں۔

رومی نامی صارف نے بھی یہی نظم شیئر کرتے ہوئے ٹویٹ کر کے پوچھا ’آج عاطف توقیر کے اس کلام کو سامنے رکھ کر بتائیں کہ حقیقت میں کون غدار ہے وہ جو دوسروں پر غداری کی تہمتیں لگاتے رہے اور خود غدار ثابت ہوئے یا وہ کہ جن کی کردار کشی کے لیے ان کے خلاف غداری کا جھوٹا پراپیگنڈا کیا گیا؟‘