آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پرویز مشرف: پاکستان کے وہ سابق فوجی سربراہ جو غداری کے مجرم قرار پائے
پاکستان کے اب تک کے آخری فوجی آمر پرویز مشرف کی قسمت گذشتہ دو دہائیوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔
سنہ 1999 میں ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ متعدد قاتلانہ حملوں میں بچ نکلے اور مغربی دنیا اور اسلامی عسکریت پسندوں کے درمیان لڑائی میں وہ صف اول میں کھڑے تھے۔
لیکن سنہ 2008 کے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی اور ان پر غیرقانونی طور پر آئین کو معطل کرنے اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
اسی بارے میں
اور ان کے اقتدار کے عروج کے 20 برس بعد ان کی غیر موجودگی میں عدالت نے انہیں آئین سے بغاوت کے جرم میں سزائے موت سنا دی۔
پرویز مشرف 11 اگست سنہ 1943 کو دِلی کے اردو بولنے والے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1947 کی تقسیمِ ہند کے بعد ان کے والدین ہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوج میں ایک لمبی ملازمت کے بعد وہ سنہ 1998 میں اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کے چیف آف سٹاف مقرر ہوئے اور اگلے ہی سال انھوں نے ملک میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
ان کا انتخاب نواز شریف کے لیے جوا ثابت ہوا کیونکہ انھوں نے پرویز مشرف کو نسبتاً سینیئر جنرلز پر فوقیت دیتے ہوئے فوج کی کمان سونپی تھی۔
نواز شریف کی مقبولیت بھی اس وقت زوال پذیر ہو رہی تھی جس کی وجہ ملک میں معاشی بحران، متنازع اصلاحات، کشمیر کا بحران، پاکستان اسی برس کشمیر میں کچھ علاقے پر قبضے کی ایک ناکام کوشش پر شرمندہ تھا، اور فوج سارا الزام اپنے سر لینا نہیں چاہتی تھی۔
جو نواز شریف نے جنرل مشرف کو تبدیل کرنا چاہا تو اس وقت کے فوجی سربراہ نے انتہائی ہوشیاری سے اپنی فوجی طاقت کے بل پر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
لیکن امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں ان کا ساتھ دینے کا مطلب تھا ان تمام جنگجوؤں سے تصادم جو القاعدہ اور طالبان کے حامی تھے جن سے تعلق کا الزام پاکستانی فوج پر طویل عرصے سے لگ رہا تھا۔
پاکستانی صدر کی حالت کو رسی پر چلنے سے تشبیہ دی جاتی تھی کیونکہ وہ پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف حملوں کے لیے امریکی دباؤ اور ملک میں امریکہ مخالف اسلامی آوازوں میں توازن بنانے کی کوشش میں لگے رہتے۔
افغانستان کا معاملہ بھی اپنی جگہ موجود تھا۔
پرویز مشرف پر نیٹو اور افغان حکومت کی جانب سے مسلسل الزام عائد کیا جاتا رہا کہ وہ القاعدہ اور طالبان کے ہمدرد جنگجوؤں کی فاٹا کے راستے افغانستان میں نقل و حمل کو روکنے کی کافی کوشش نہیں کر رہے۔
ان کے ریکارڈ کے بارے میں کئی سوالات پھر سر اٹھانے لگے جب سنہ 2011 میں اسامہ بن لادن پاکستان میں پائے گئے جہاں وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے قریبی علاقے میں برسوں سے رہائش پذیر تھے اور مشرف برسوں سے انکار کرتے رہے تھے کہ انہیں اس کے بارے میں علم تھا۔
اقتدار کا زوال
جنرل مشرف کا دور اقتدار عدلیہ کے ساتھ ان کی کھینچا تانی سے بھی بھرپور رہا جس میں ان کے فوجی سربراہ رہتے ہوئے صدر کے عہدے پر قائم رہنے کی خواہش کا تنازع بھی شامل تھا۔
سنہ 2007 میں انھوں نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کردیا جس کی وجہ سے ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔
چند مہنیوں بعد انھوں نے اسلام آباد میں لال مسجد اور اس سے ملحق مدرسے کے خونی محاصرے کا حکم دے ڈالا جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد مارے گئے۔ لال مسجد کے علما اور طبا پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سخت شرعی قوانین لاگو کرنے کے لیے جارحانہ مہم چلانے کا الزام تھا۔
اس واقعے کے ردِ عمل میں پاکستانی طالبان کی تخلیق ہوئی اور مسلحہ اور بم حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جس میں ہزاروں افراد مارے گئے۔
جب سنہ 2007 میں نواز شریف جلا وطنی کاٹ کر لوٹے تو یہ مشرف دور کے خاتمہ کا آغاز تھا۔
سابق فوجی جنرل نے اپنا دور اقتدار بڑھانے کے لیے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی لیکن فروری 2008 میں ان کی جماعت پارلیمانی انتخابات ہار گئی۔ چھ ماہ بعد انھوں نے مواخذے سے بچنے کے لیے استعفی دے دیا اور ملک چھوڑ کر چلے گئے۔
خیال ہے کہ اپنے لندن اور دبئی میں قیام کے دوران دنیا بھر میں دیے گئے لیکچرز کے بدلے سابق صدر نے لاکھوں ڈالر کمائے۔ لیکن انھوں نے یہ بات کبھی راز میں نہیں رکھی کہ ان کا ارادہ وطن واپس جا کر اقتدار حاصل کرنا ہے۔
مارچ سنہ 2013 میں وہ ڈرامائی انداز میں پاکستان لوٹے تاکہ انتخابات میں حصہ لیں لیکن ان کی واپسی گرفتاری پر منتج ہوئی۔
انھیں انتخاب لڑنے سے روک دیا گیا اور ان کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ توقع کے مطابق انتخابات میں پِٹ گائی۔
جلد ہی وہ عدالتی مقدمات میں الجھ گئے جن میں بینظیر بھٹو کو ناکافی سکیورٹی فراہم کرانا بھی تھا جس کے نتیجے میں وہ سنہ 2007 میں طالبان کے ہاتھوں قتل ہوگیئں جس نے دنیا اور پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ سنہ 2010 میں اقوامِ متحدہ کی ایک انکوائری میں جنرل مشرف پر الزام عائد کیا گیا ہے انھوں نے سابق وزیرِ اعظم کی سیکورٹی میں ’جان بوجھ کر کوتاہی‘ برتی۔
اسی برس ان پر سنہ 2007 میں آئین معطل کرنے کے فیصلے پر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا۔
لیکن ایسا ملک جہاں ایک طویل عرصے تک فوج کی حکومت رہی ہوں وہاں یہ مقدمہ چلنا آسان نہیں تھا۔ اس لیے حکومت نے سابق حکمران کا مقدمہ سننے کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کی۔
اس مقدمے کو پانچ برس لگے اور بالآخر تین رکنی عدالت کے ججوں نے ایک حیران کن فیصلہ سنایا کہ مشرف غداری کے مجرم ہیں۔
انہیں سزائے موت سنا دی گئی۔
اس سزا کا درحقیقت مطلب کیا ہے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ سنہ 2016 میں طبی بنیادوں پر سفری پابندیاں ہٹنے کے بعد پرویز مشرف ملک سے باہر چلے گئے اور تب سے وہ دبئی میں مقیم ہیں۔