آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سی این ٹریولر کے مطابق 2020 کا بہترین سیاحتی مقام پاکستان، کیا سیاحوں کے سیلاب کے لیے تیار ہے؟
- مصنف, عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سی این ٹریولر نامی ایک غیر ملکی جریدے نے پاکستان کو سنہ 2020 کا بہترین سیاحتی مقام قرار دیا ہے۔ اس پر رد عمل دیتے ہوئے لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا پاکستان آئندہ سال ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے ممکنہ ہجوم کو خوش آمدید کہنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
پاکستان میں سیاحوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر ماہرین کہتے ہیں کہ عموماً غیر ملکی سیاح یہاں سکیورٹی اور رہائش سے متعلق شکایات کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کچھ پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہترین سیاحتی مقامات ہیں لیکن یہاں سہولیات کی کمی ہے۔
تاہم حکومت کا موقف ہے کہ انتظامیہ نے حال ہی میں سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے نئے منصوبے بنائے ہیں اور سیاحوں کے لیے ویزے کی پابندیوں میں نرمی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی این ٹریولر کی رپورٹ میں کیا لکھا ہے؟
سی این ٹریولر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سر سبز میدانوں کے دامن میں پہاڑی سلسلے ہیں اور سیاحوں کو یہاں کا رخ ضرور کرنا چاہیے۔
’ماضی میں شدت پسندی اور طالبان کے دور کے بعد اب پاکستان میں گذشتہ دو دہائیوں سے سیاحت کی صنعت آگے بڑھ رہی ہے۔‘
رپورٹ میں پاکستان کے حالیہ اقدامات کو سراہا گیا ہے اور یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ 2020 میں پاکستان میں سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔
’قدیم وادیاں، ویزے کی پابندیوں میں نرمی اور شاہی دورے سے اس ملک کو وہ توجہ مل رہی ہے جس کا یہ مستحق ہے۔‘
سیاحت کے فروغ کے لیے کیا ضروری ہے؟
اس حوالے سے بی بی سی نے آصف خان سے بات کی ہے جو ایک نجی ٹوور آپریٹر ہیں اور 13 سال سے پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کو گلگت بلتستان، سوات، کالام، ناران، کاغان، کشمیر اور چترال سمیت دیگر مقامات کی سیر کروا رہے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں سیاحت کی صنعت کو سکیورٹی، رہائش، کھانے پینے، صفائی، معلومات کی عدم فراہمی اور ایمرجنسی سہولیات نہ ہونے کے مسائل در پیش ہیں جنھیں حکومتی کوششوں کے باوجود اب تک مکمل طور پر حل نہیں کیا جا سکا۔
آصف کہتے ہیں ’سب سے بڑا مسئلہ سکیورٹی کا ہے۔ سیاحوں کے ساتھ سکیورٹی تو ہوتی ہے لیکن اگر ایک غیر ملکی شخض اسلام آباد سے گلگت جاتا ہے تو درجنوں مقامات پر ان کی چیکنگ کی جاتی ہے جس سے وہ مزید گھبرا جاتا ہے۔‘
ان کے مطابق ہوٹلوں میں رہائش، صفائی اور کھانے پینے کے مسائل ہوتے ہیں کیونکہ سیاح رات کو تو کیمپنگ کر کے سو جاتے ہیں لیکن بعد میں ان چیزوں سے متعلق شکایات کرتے ہیں۔
’ہر پوائنٹ پر سیاحوں کے لیے معلومات، جیسے نقشوں کی فراہمی، کے مراکز نہیں ہیں۔۔۔ ملکی و غیر ملکی لوگوں کے لیے اہم مقامات پر ایمرجنسی کی سہولیات نہیں ہیں تا کہ وہ ایمبولنس یا ادویات حاصل کر سکیں۔‘
سڑکوں اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے آصف نے بتایا کہ کئی راستے زیر تعمیر ہونے کی وجہ سے آنے جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وقتی طور پر تو یہ سہولیات دے دی جاتی ہیں لیکن ان مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ سیاحوں کی آمد بڑھ سکے۔
فیلکن ایڈونچر کلب کے ڈائریکٹر علی عثمان بھی سیاحوں کے لیے سکیورٹی کے مسئلے پر آصف خان سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے سیاحوں کو شمالی علاقوں میں جانے کی اجازت میں نرمی کے اقدام کیے جاتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔
ان کے مطابق جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پر توجہ نہیں دیں گے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ’آدھی رات کو غیر ملکوں سیاحوں کو کہا جاتا ہے کہ آپ اس ہوٹل سے نکلیں اور کسی دوسرے ہوٹل میں جا کر رہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ’نئے اور پیسے والے‘ سیاحوں کی آمد کے لیے رہائش کی بہتر سہولیات درکار ہوں گی کیونکہ ’فی الحال اکثر سیاح ایسے ہیں جنھیں پاکستان میں سہولیات کے معیار کے بارے میں کچھ حد تک اندازہ ہے۔‘
’شمال میں کوئی صحیح معنوں میں فائیو سٹار ہوٹل نہیں ہے۔ انھیں اچھے ہوٹلوں میں کمرے نہیں ملتے۔‘
’سڑکوں کو مسلسل برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ (سیاحت کے لیے) پاکستان کی زیادہ تر سڑکیں گذشتہ چند برسوں میں تعمیر کی گئیں ہیں۔ زیادہ تر سڑکیں ابھی بھی خراب، کچی یا زیرِ تعمیر ہیں۔‘
علی عثمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال بھی اس حوالے سے اہم ہے کیونکہ بعض اوقات سیاح شہروں میں احتجاج یا دھرنے کی وجہ سے ڈر جاتے ہیں اور پاکستان آنے سے گریز کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ان مسائل کے باوجود غیر ملکی شہری یہاں کے ثقافتی رنگوں سے متاثر ہوتے ہیں۔
’ریٹ زیادہ سہولتیں کم‘
پاکستان میں اکثر سوشل میڈیا صارفین نے اس رپورٹ پر خوشی کا اظہار کیا ہے لیکن بعض لوگوں نے سی این ٹریولر کی رپورٹ پر سوال اٹھائے ہیں۔
اسی سلسلے میں سوشل میڈیا صارفین نے اپنی رائے ظاہر کی ہے۔
نوید افتخار لکھتے ہیں: ’ہم نے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے کتنے نئے ہوٹل بنائے ہیں؟ پاکستان میں ہوٹل اتنے مہنگے کیوں ہیں؟ سیاح ہمارے شہروں میں باہر نہیں پھر سکتے۔‘
’ملک کے اندر ہوائی جہاز کا سفر اتنا مہنگا کیوں ہے؟ ہم اُس وقت تک سیاحت کا بہترین مقام نہیں بن سکتے جب تک ان مسائل کا حل تلاش نہیں کرتے۔‘
فیض اللہ لکھتے ہیں کہ پاکستان میں سیاحت کی صنعت اس کے لیے تیار نہیں ہے۔
’کمروں کی حالت کے مقابلے میں ہوٹل کے ریٹ زیادہ ہیں۔‘
بعض سوشل میڈیا صارفین نے یہ بھی کہا کہ مری اور نتھیا گلی جیسے ترقی یافتہ مقامات بھی عید یا دوسرے مصروف دنوں میں بھر جاتے ہیں اور ان کا معیار کم ہو جاتا ہے۔
تحسین احمد کہتی ہیں کہ پاکستان کے شمالی علاقے بہت مہنگے ہیں۔ ’مری یا نتھیا گلی میں اچھے ہوٹل کا ریٹ 11 ہزار فی رات ہے اور ان میں ہیٹر جیسی سہولیات بھی نہیں ہوتیں۔‘
رپورٹ کے مطابق 20 ممالک میں پاکستان کا پہلا نمبر ہے۔
تاہم یہی رپورٹ کچھ صارفین نے رواں سال نومبر میں شیئر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان سنہ 2020 میں سیاحتی مقامات میں پانچویں نمبر پر ہے۔
بی بی سی نے سی این ٹریولر کا موقف جاننے کی کوشش کی ہے تاہم ابھی تک ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔
’انفراسٹرکچر، ویزا کے مسائل حکومت کی اولین ترجیح‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں سیاحت کے لیے اہم صوبے خیبرپختوخوا کے سنیئرصوبائی وزیر عاطف خان نے بتایا کہ حکومت کی اولین ترجیحات میں ’لا اینڈ آرڈر، سکیورٹی اور ویزے کے مسائل حل کرنا اور بنیادی انفراسٹرکچر کا قیام ہیں۔‘
’سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور (سیاحوں کو) ملک میں آمد پر ویزے کی سہولت دی جا رہی ہے۔ غیر ملکی شہریوں کو صرف حساس سرحدی علاقوں میں جانے کے لیے این او سی (اجازت نامے) درکار ہوتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں حکومت نے حال ہی میں 14 نئے سیاحتی مقامات کے قیام کی منظوری دی ہے جو آئندہ سال مکمل ہوجائیں گے جبکہ ’چار نئے سیاحتی زونز بنائے جا رہے ہیں۔‘
انھوں نے نجی سرمایہ کاروں کو دعوت دی ہے کہ وہ رہائش اور کھانے پینے کی سہولیات میں سرمایہ کاری کریں تا کہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بہتر انتظامات کیے جا سکیں۔