پاکستان میں ٹریفک قوانین کی وہ 7 خلاف ورزیاں جو بہت عام ہیں اور ان پر چالان کی رقم

    • مصنف, عماد خالق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے بڑے شہروں سے چھوٹے قصبوں تک بڑھتی ٹریفک نے سب کو پریشان کر رکھا ہے۔ جہاں یہ ماحولیاتی، صوتی آلودگی کا سبب بنتی ہے وہیں سڑکوں پر بے ہنگم انداز سے دوڑتی ٹریفک منٹوں کے سفر کو گھنٹوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔

کراچی، لاہور اسلام آباد جیسے ملک کے بڑے شہروں میں تو یہ مسئلہ عام ہے۔ ملک کی ٹریفک پولیس سڑکوں پر دوڑتی گاڑیوں کے نظام کو بحال رکھنے کے لیے اپنے قوانین کے تحت چالان اور جرمانے تو کرتی ہے لیکن عوام میں ٹریفک قوانین کے بارے میں آگاہی میں کمی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

دوسرا مسئلہ ہمارے معاشرے میں ڈرایئونگ لائسنس کے حصول کے وقت ٹریفک قوانین اور سڑک پر گاڑی، موٹر سائیکل چلانے کی مناسب سمجھ اور سڑک پر چلتے دوسرے افراد کے حقوق کے متعلق کم علمی بھی ہے۔

ہماری شاہراؤں پر غلط پارکنگ، بنا ہیلمٹ کے موٹر سائیکل اور بنا سیٹ بیلٹ پہنے کار چلانا، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال عام بات ہے اور ان کی خلاف ورزی پر ہم آئے دن سڑکوں، چوراہوں پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کو لوگوں کے چالان کاٹتے اور الجھتے دیکھتے ہیں۔

پاکستان میں ہر شہری جہاں خود کو ایک منجھا ہوا سیاستدان اور ایک اچھا کرکٹر سمجھتا ہے وہیں اسے یہ گمان بھی ہے کہ اس کو ٹریفک قوانین پر بھی دسترس حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن کیا آپ جاتنے ہیں کہ چند ٹریفک قوانین ایسے بھی ہیں جن کی خلاف ورزی ہماری سڑکوں پر معمول ہے اور ان پر بھی چالان اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔

آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں ایسے ہی چند قوانین جن کی خلاف ورزی پر آپ کا چالان اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔

1: مناسب وقت پر گاڑی کی بتیاں نہ جلانا

پاکستان ٹریفک پولیس کے قوانین کے مطابق اگر آپ اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کی مناسب اوقات میں بتیاں نہیں جلاتے تو آپ کا چالان کیا جا سکتا ہے۔ اس جرمانے کی رقم 1000 روپے مقرر ہے۔

قوانین کے مطابق اگر آپ غروب آفتاب کے وقت اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کی بتیاں نہیں جلاتے تو آپ اس خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن اگر دن کے اوقات میں تیز بارش یا دھند میں اگر آپ بتیاں نہیں جلاتے تو بھی آپ نے خلاف ورزی کی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر ایک روشن دن میں آپ اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کی بتی ’ہائی بیم‘ پر جلاتے ہیں تو یہ سامنے سے آنے والے دیگر ڈرائیوروں کی توجہ ہٹا سکتا ہے اور اس پر بھی آپ کو اس قانون کے تحت جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اب نئی کاروں میں دن میں بھی خودکار طریقہ سے بتیاں جل جاتیں ہیں، بس ذرا خیال رکھیے کہیں وہ ’ہائی بیم‘ پر نہ ہوں، ورنہ 1000 کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔

2: ایمرجنسی سروسز کی گاڑیوں کے راستے میں خلل ڈالنا

اکثر ہمارے شہروں کی شاہراؤں پر ہوٹر بجاتی ایمرجنسی سروسز فراہم کرنے والی گاڑیاں خصوصاً ایمبولینس، آگ بجھانے والے عملے کی گاڑیاں اور پولیس پیٹرولنگ کی گاڑیاں شدید ٹریفک میں راستہ تلاش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

اکثر اوقات تو لوگ ان کے آگے یا پیچھے اپنی گاڑیاں چلانا شروع کر دیتے ہیں تاکہ ان کو بھی ٹریفک کے سمندر کو عبور کرنے میں آسانی ہو۔

لیکن کسی بھی ایمرجنسی سروسز فراہم کرنے والی گاڑی کے راستے میں خلل ڈالنے سے بھی آپ کا چالان ہو سکتا ہے۔ اس کا جرمانہ 5000 روپے ہے۔ تو آئندہ خیال کیجیے گا، کہیں کوئی ہوٹر بجاتی گاڑی آپ کی جیب پر بھاری نہ پڑ جائے۔

3: پانچ سال سے کم عمر بچے کو اگلی نشت پر بٹھانا

پاکستان میں کم سن ڈرائیورز تو معمول ہیں لیکن ہم نے تو چند سال کی عمر کے بچوں کو سٹیرنگ ویل کے پیچھے بیٹھے بھی دیکھا ہے۔

ٹریفک قوانین کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچے کو گاڑی کی اگلی نشت پر بٹھانا جرم ہے اور اس کی خلاف ورزی پر آپ کو 3000 روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اس کا اصل مقصد چھوٹے بچوں کو دوران سفر کسی بھی حادثے یا اچانک بریک لگانے سے لگنے والے ممکنہ چوٹ سے محفوظ رکھنا ہے۔

4: خطرناک انداز میں کار کے دروازے کھولنا

سڑک کنارے کار کھڑی کر کے آس پاس سے گزرتی ٹریفک کو بنا دیکھے خطرناک انداز سے دروازے کھولتے اور ان کے ساتھ دیگر کاروں اور خصوصاً موٹر سائیکل سواروں کو ٹکراتے تو آپ نے اکثر دیکھا ہو گا۔

تو جناب یہ عمل بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے جس پر آپ کو 1000 روپے کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

اس سے نہ صرف آپ کو اور آپ کی کار کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ دوسرے ڈرائیورز کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

5: فٹ پاتھ پر پارکنگ کرنا

ہمارے شہروں میں سڑک کنارے فٹ پاتھ ڈھونڈنے سے نہیں ملتے کہیں ان پر پتھارے اور ٹھیلے والوں نے قبضہ کر رکھا ہے تو کہیں وہ کسی دکان کا حصہ بن چکے ہیں۔ اگر کہیں مل ہی جائیں تو ان پر جا بجا کھڑی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں پیدل چلنے والوں کو مشکل میں ڈال دیتی ہیں۔

ملک کے ٹریفک قوانین کے مطابق فٹ پاتھ پر سڑک پر پیدل چلنے والوں کا حق ہے اور اگر آپ اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی کھڑی کر کے ان کی حق تلفی کریں گے تو آپ کا چالان ہو سکتا ہے اور آپ کو بطور جرمانہ 1000 روپے بھرنا پڑ سکتا ہے۔

6: مناسب فاصلے کے بغیر گاڑی کھڑی کرنا

کبھی صرف کراچی میں پارکنگ کے مسائل تھے لیکن بڑھتی ٹریفک کے باعث اب اس کا سامنا ملک کے تمام بڑے شہروں کو ہے۔

مرکزی شاہراؤں پر، مارکیٹوں اور بازاروں میں حتیٰ کہ ہسپتالوں کے باہر جس کو جہاں جگہ ملتی ہے اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کھڑی کر کے چلے جاتے ہیں اور اس بات کا خیال بھی نہیں کیا جاتا کہ ساتھ کھڑی گاڑی یا موٹر سائیکل سوار اپنی سواری میں سوار کیسے ہوگا۔

بعض اوقات پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کو دیکھ کر معروف مزاح نگار مشتاق یوسفی کے وہ الفاظ یاد آ جاتے ہیں کہ ’لاہور کی چند گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ اگر دو فرد ایک ساتھ گزریں تو بس نکاح کی گنجائش بچتی ہے‘۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارے ہاں کار پارکنگ میں بھی ہوتا ہے۔

ملک کے ٹریفک قوانین کے مطابق اگر آپ اپنی کار کھڑی کرتے وقت ساتھ والی گاڑی سے آدھے میٹر کا فاصلہ نہیں چھوڑتے تو آپ کا چالان ہو سکتا ہے جس کا جرمانہ 750 روپے ہے۔

7: گرین بیلٹ اور پل پر پارکنگ کرنا

ملک کے ٹریفک قوانین کے مطابق اگر آپ سڑک کنارے بنی گرین بیلٹ یا پل پر کار یا موٹر سائیکل پارک کرتے ہیں تو آپ کا چالان کیا جا سکتا ہے اور آپ کو دونوں قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 750 روپے کا جرمانہ ہو گا۔

لہذا اب ہری ہری گھاس ہو یا برقی قمقموں سے روشن پل، سڑک کنارے گاڑی روکتے اور پارک کرتے وقت احتیاط کیجیے گا، کہیں مہنگا نہ پڑ جائے۔